جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گیارہ اور بارہ اکتوبر: دو تاریخیں ، دو آئینی و سیاسی راستے،تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر
naeem khan blog

تاریخ کے کیلنڈر میں بعض تاریخیں محض دن نہیں ہوتیں وہ قوموں کے سیاسی شعور ، ریاستی اختیار اور جمہوری مستقبل کی علامت بن جاتی ہیں۔ پاکستان کے لیے 12 اکتوبر 1999 ایسی ہی ایک تاریخ ہے جب جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی اقتدار قائم کیا۔ اس کے تقریباً ستائیس برس بعد 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ دونوں واقعات ایک جیسے نہیں مگر دونوں کے درمیان ایک بنیادی قدر مشترک ہے ، ریاستی اختیار کی حدود کیا ہیں اور اس کی قیمت جمہوریت کو کتنی ادا کرنا پڑتی ہے ؟

1999 میں فوجی طاقت نے منتخب حکومت کو ہٹا کر آئینی نظام کو معطل کیا۔ اقتدار کی تبدیلی کسی انتخاب یا پارلیمانی فیصلے کے ذریعے نہیں ہوئی۔ اس کے بعد احتساب ، اصلاحات اور بہتر حکمرانی کے وعدے سامنے آئے لیکن جمہوری اداروں کی بحالی اور عوامی نمائندگی کے تسلسل کا سوال برسوں تک قومی سیاست پر چھایا رہا۔ تاریخ نے واضح کیا کہ اقتدار حاصل کرنا آسان مگر اداروں کا اعتماد بحال کرنا مشکل ہوتا ہے۔

11 اکتوبر 2026 کا معاملہ قانونی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت نے دہشت گردی میں اضافے اور صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کو اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کے تحت انتظامی اختیارات منتقل کیے گئے اور بارہ اضلاع کے لیے الگ انتظامی ڈھانچے کا اعلان ہوا۔

لیکن یہاں اصل بحث صرف یہ نہیں کہ وفاق نے کون سا اختیار استعمال کیا بلکہ یہ ہے کہ کیا اس اختیار کا استعمال آئینی شرائط ، شواہد اور عوامی مفاد کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے ؟ آرٹیکل 232 ہنگامی حالت سے متعلق ہے جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام چلانے میں ناکامی کی صورت میں وفاقی مداخلت کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ ان دفعات کا حوالہ فیصلہ کن سوالات ختم نہیں کرتا ، پارلیمانی نگرانی ، مقررہ مدت اور عدالتی جانچ بھی اسی آئینی عمل کا حصہ ہیں۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی تعاون ضروری تھا اور حالات نے غیر معمولی اقدام کو ناگزیر بنایا۔ تحریک انصاف نے اس فیصلے کو صوبائی خودمختاری اور اپنے انتخابی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان دونوں مؤقفوں کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔ حکومتی الزام بذاتِ خود جرم کا عدالتی ثبوت نہیں اور اپوزیشن کا اعتراض بذاتِ خود اقدام کو غیر آئینی ثابت نہیں کرتا۔ فیصلہ شواہد اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

یہیں سے 11 اکتوبر کے بعد پاکستان کے مستقبل کا سوال جنم لیتا ہے۔ اگر اس اقدام سے دہشت گردی میں کمی ، پولیس اور سکیورٹی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ ، شہریوں کا تحفظ اور معمولاتِ زندگی کی بحالی ممکن ہوتی ہے تو اس کے نتائج کو اعداد و شمار اور زمینی حقائق سے جانچا جا سکے گا۔ لیکن اگر سیاسی تصادم بڑھتا ہے ، صوبائی آبادی میں محرومی کا احساس گہرا ہوتا ہے اور اختلاف کو محض طاقت سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے تو امن کے نام پر اٹھایا گیا قدم نئے مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے۔

ریاست کی مضبوطی صرف اختیارات کو مرکز میں جمع کرنے سے نہیں آتی۔ اس کے لیے مؤثر ادارے ، انصاف ، مقامی اعتماد اور عوامی نمائندگی بھی ضروری ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ قومی ذمہ داری ہے مگر اس ذمہ داری کو سیاسی اختلاف کے خاتمے کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ اسی طرح صوبائی خودمختاری کا تحفظ بھی امن و امان اور شہریوں کی جان کے تحفظ کی ذمہ داری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

اسی لیے 11 اکتوبر کو تاریخی معنوں میں دوسری 12 اکتوبر کہنا درست نہیں البتہ دونوں تاریخوں کا تقابل ایک اہم سیاسی سبق ضرور دیتا ہے۔ 1999 میں آئینی نظام فوجی اقدام کے ذریعے معطل ہوا ، 2026 میں وفاق نے آئین کی مخصوص دفعات استعمال کی ہیں۔ قانونی طریقۂ کار کا فرق بنیادی ہے لیکن اس کے عملی نتائج ، آئینی حدود اور جمہوری اثرات پر سوال اٹھانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

پاکستان کے سامنے آج فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے آئین کی بالادستی ، صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کو کس طرح محفوظ رکھتی ہے۔ اگر امن کے قیام کے ساتھ جمہوری اعتماد اور اداروں کا توازن برقرار رہا تو یہ اقدام ایک انتظامی بحران پر قابو پانے کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن اگر اختیار کا استعمال سیاسی تصادم کو گہرا اور عوامی اعتماد کو کمزور کرے تو اس کے نتائج صوبے کی حدود سے نکل کر پورے وفاق کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 1999 کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ریاستی اختیار کا جواز محض دعووں سے نہیں ، آئینی حدود ، جمہوری اقدار اور عملی نتائج سے ثابت ہوتا ہے۔ 11 اکتوبر 2026 کا فیصلہ بھی اسی پیمانے پر جانچا جائے گا کہ آیا اس سے امن و استحکام کے ساتھ آئین کی بالادستی اور عوامی اعتماد مضبوط ہوا یا سیاسی و آئینی خلیج مزید گہری ہوئی۔

تاریخ کا فیصلہ تاریخیں نہیں کرتیں ، ریاستوں کے اعمال کرتے ہیں