جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مودی مخالف سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں پر پھر قاتلانہ حملے کا خدشہ، ایف بی آئی کا انتباہ


بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے سخت ناقد اور خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر جان لیوا قاتلانہ حملے کے شدید خطرات کا سامنا ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے اہلکاروں نے نیویارک میں گرپتونت سنگھ پنوں کی رہائش گاہ کا دورہ کر کے انہیں ان کی زندگی کو لاحق ’فوری اور یقینی خطرے‘ کے بارے میں باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گرپتونت سنگھ پنوں نے بتایا کہ ایف بی آئی حکام نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملنے والے سراغوں پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ نیا خطرہ 18 اکتوبر کو کینیڈا میں ہونے والے ریفرنڈم میں شرکت کے لیے ان کے ممکنہ سفر سے متعلق ہے۔

واضح رہے کہ گرپتونت سنگھ پنوں کی تنظیم سکھس فار جسٹس 18 اکتوبر کو کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں بھارتی پنجاب کو آزاد ریاست خالصتان بنانے کے حق میں ایک غیر سرکاری ریفرنڈم کا انعقاد کرنے جا رہی ہے جس میں سکھ برادری کو ووٹ ڈالنے کی دعوت دی گئی ہے۔

اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ ’اصل سوال یہ نہیں ہے کہ میں کسی اور قاتلانہ حملے سے بچ پاتا ہوں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سکھ قوم کے حقِ خودارادیت کو قتل کی دھمکیوں سے روکا جا سکتا ہے؟ اور میرا جواب ہے کہ اسے ہرگز نہیں روکا جا سکتا‘۔

یاد رہے کہ 2023 میں بھی نیویارک میں گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی ایک سازش ناکام بنائی گئی تھی جس کا الزام امریکی حکام نے ایک سابق بھارتی انٹیلی جنس اہلکار پر عائد کیا تھا۔

اس کے علاوہ 2023 میں ہی کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا بھی قتل ہوا تھا جس کا الزام کینیڈین حکومت نے بھارتی ایجنٹوں پر عائد کیا تھا اور اس کے بعد سے بھارت کے کینیڈا اور امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔