دو سو یونٹ کی لکیر،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ
نقطہ نظر
بجلی کا بل اب صرف چند صفحات پر چھپی ہوئی رقم نہیں رہا، بلکہ غریب گھرانے کے لیے ایک ایسا خوف بن چکا ہے جو ہر ماہ دروازے پر دستک دیتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے، وہاں بجلی کے بلوں میں ٹیکس در ٹیکس، مختلف سرچارجز اور اضافی مالی بوجھ نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ غریب سوچتا ہے کہ آخر وہ بجلی کا بل ادا کرے، بچوں کی فیس دے، گھر کا راشن خریدے یا بیمار ماں باپ کی دوا لے؟ دو سو یونٹ کی حد بھی کئی کم آمدن والے خاندانوں کے لیے ایک مستقل پریشانی بن چکی ہے۔ معمولی سا اضافی استعمال بعض اوقات بل کے حساب کو ایسے مرحلے تک پہنچا دیتا ہے جہاں صارف کے لیے رقم کا بوجھ ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگتا ہے۔ پنکھا چلانا، بچوں کو رات کے وقت پڑھنے کے لیے روشنی دینا، گرمی میں بیمار یا بزرگ افراد کو سکون پہنچانا کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے، مگر بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان بنیادی ضروریات کو بھی غریب کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں میٹر ریڈنگ کے نظام میں شفافیت بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر کسی صارف کے میٹر کی ریڈنگ غلط درج ہو، مقررہ وقت پر ریڈنگ نہ لی جائے یا ریڈنگ میں کسی قسم کا ہیر پھیر ہو تو اس کا براہِ راست بوجھ صارف کے بل پر پڑتا ہے۔ اس لیے روایتی طریقہ کار پر انحصار کم کرکے خودکار اور ڈیجیٹل میٹر ریڈنگ کا نظام فوری طور پر رائج کیا جانا چاہیے، ایسا نظام جس میں میٹر کی ریڈنگ خودکار طور پر متعلقہ ادارے تک پہنچے، صارف کو بھی بروقت اپنی اصل کھپت معلوم ہو اور انسانی مداخلت کے امکانات کم سے کم ہوں۔ اس اقدام سے نہ صرف صارفین کی شکایات میں کمی آ سکتی ہے بلکہ بجلی کے بلنگ نظام پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال ان گھروں کی ہے جہاں بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے خواتین کے زیورات، بچوں کی ضروری اشیا، موبائل فون، موٹر سائیکل یا گھر کا کوئی نہ کوئی سامان فروخت کرنا پڑتا ہے۔ بعض خاندان قرض لے کر بل ادا کرتے ہیں اور پھر اگلا مہینہ اسی قرض کی واپسی کی فکر میں گزار دیتے ہیں۔ یوں ایک بل ختم ہوتا ہے تو دوسرا معاشی بوجھ سر پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ صرف بجلی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی اور سماجی بحران ہے جو خاموشی سے لاکھوں گھروں کو متاثر کر رہا ہے۔ غریب کے چولہے ٹھنڈے ہوں، بچے بنیادی ضروریات کو ترسیں اور والدین اپنی محدود آمدن کو مختلف سمتوں میں تقسیم کرتے رہیں تو زندگی یقیناً مشکل ہو جاتی ہے۔ ایک طرف روزگار کے محدود مواقع، دوسری طرف مہنگائی، راشن، تعلیم، علاج، کرایہ اور بجلی کے بڑھتے اخراجات نے عام آدمی کو مسلسل ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں مایوسی بڑھنا معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کے بلوں کے نظام کو عام آدمی کے لیے آسان، شفاف اور منصفانہ بنایا جائے۔ کم آمدن والے گھریلو صارفین کو حقیقی معنوں میں ریلیف دیا جائے، ٹیکسز اور اضافی چارجز کے بوجھ پر سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے، میٹر ریڈنگ میں انسانی مداخلت کم کی جائے اور خودکار میٹر ریڈنگ کا شفاف نظام بلا تاخیر نافذ کیا جائے۔ بجلی چوری کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے، مگر ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین کو بھی غلط ریڈنگ اور غیر ضروری مالی بوجھ سے محفوظ رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بجلی کے بل صرف اعداد و شمار نہیں ہوتے؛ ان کے پیچھے حقیقی گھر، حقیقی خاندان اور حقیقی زندگیوں کی کہانیاں ہوتی ہیں۔ ایک سفید پوش شخص بظاہر خاموش رہتا ہے، مگر ہر ماہ بل ہاتھ میں آتے ہی اپنے اخراجات کا حساب دوبارہ لگاتا ہے کہ اس مرتبہ گھر کا کون سا خرچ مؤخر کیا جائے۔ ریاست کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ خزانے بھر جائیں، بلکہ یہ ہے کہ عام آدمی کے گھر کا چولہا جلتا رہے، بچے سکون سے پڑھ سکیں، بزرگ دوا لے سکیں اور کوئی باپ بجلی کے بل کے خوف سے اپنی زندگی کو بوجھ نہ سمجھے۔ دو سو یونٹ کی لکیر اگر غریب کے لیے آخری امید ہے تو اس امید کو مزید بوجھ نہیں، حقیقی ریلیف، شفاف بلنگ اور خودکار میٹر ریڈنگ کا تحفظ ملنا چاہیے۔
مزید پڑھیں





