Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایبٹ آباد: بچے کی میت لے جانے والے لواحقین کو گھنٹوں محصور رکھنے کا الزام

مصنف:

ایبٹ آباد : بے نظیر بھٹو شہید ویمن اینڈ چلڈرن ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی انتظامیہ کے مبینہ ناروا رویے کے خلاف شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


عوامی شکایات کے مطابق ہسپتال کی ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ارم صدیقی کے مبینہ غیر اخلاقی رویے کے باعث ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں معصوم بچے کی میت لے جانے والے غمزدہ لواحقین کو ہسپتال کے احاطے سے باہر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے عصر کے وقت ہسپتال کا مرکزی گیٹ اچانک بند کر دیا گیا۔ اسی دوران ایک بچے کے انتقال کے بعد اس کے لواحقین میت گاڑی میں رکھ کر آبائی علاقے روانہ ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم مبینہ طور پر انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق لواحقین نے بارہا منت سماجت کی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گیٹ کھولنے کی درخواست کی، لیکن انہیں اجازت نہ مل سکی۔ بعدازاں کینٹ پولیس کی مداخلت اور بچے کی میت کی تصدیق کے بعد لواحقین کو ہسپتال سے روانہ ہونے کا راستہ ملا۔


شہریوں نے اس واقعے پر افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غمزدہ خاندان کے ساتھ ایسا مبینہ سلوک ناقابل قبول ہے اور معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔شہریوں کے مطابق بے نظیر بھٹو شہید ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال ماضی میں بھی سیکیورٹی اور انتظامی معاملات کے حوالے سے تنقید کی زد میں رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہسپتال کی نرسری سے نومولود بچے کی مبینہ چوری کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا، جس کے بعد سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنانے چاہئیں۔ایبٹ آباد کے شہریوں اور سول سوسائٹی نے صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا اور ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ بچے کی میت لے جانے والے لواحقین کو مبینہ طور پر محصور رکھنے کے واقعے کی فوری تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ارم صدیقی کے خلاف الزامات ثابت ہوں تو انہیں عہدے سے ہٹا کر سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کی سیکیورٹی بہتر بنانے اور مریضوں و لواحقین کو درپیش مشکلات دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ علاج کے لیے آنے والے افراد کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL