آغا حسن رحمۃ اللہ علیہ! جن کی داستانِ شجاعت و شہادت آج بھی تاریخ کی ورق گردانی کرنے والوں کو ’ورطہِ حیرت‘ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایک ایسا کردار جو اپنے پڑھنے والے کے دل میں موجود ”شہادت“ کی چنگاری کو ہوا اور ’جذبہِ جہاد‘ کو بیدار کرتا ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس کے کارناموں نے تاریخ میں اپنے ”ان مٹ نقوش“ چھوڑے ہیں۔
آغا حسن ایک نڈر سپاہی، بے باک مجاھد، شیر دل قائد اور بہادر جنگجو تھے۔ یہ وہ عظیم شخصیت تھے، جنھوں نے سب سے پہلے ”قسطنطنیہ“ کی فصیل پار کی اور اسلام کا پرچم قسطنطنیہ کے ’ناقابلِ تسخیر‘ سمجھے جانے والے قلعے پر لہرایا۔ یہ وہ عظیم سپاہی تھے، جنھوں نے ”لشکرِ عثمانی“ کی راہ اپنے لہو سے ہموار کی۔ یہ ایسے جانباز تھے، جنھوں نے مسلمانوں کے لیے فتح قسطنطنیہ کے دروازے اپنی زندگی کا باب بند کر کے کھولے۔ یہ ایسے بے باک مجاھد تھے، جنھوں نے صلیبی توپوں سے برستی آگ اور ”ابلتی ہوئی رال“ (یہ تارکول کی طرح کا سیال مادہ تھا جسے اس دور میں آگ پہ پگھلا کر دشمن پر پھینکا جاتا تھا جس سے انسانی وجود جل کر ناکارہ ہو جاتا تھا۔) کی پرواہ کیے بغیر اپنے تیس سپاہیوں کے ساتھ ”شہنشاہِ قسطنطین“ اور اس کی سپہ کو دھکیلتے ہوئے فصیل عبور کی اور ’سرخ عثمانی پرچم‘ فصیل پر گاڑا۔ شاید کہ ایسے ہی سرفروشوں کے لیے اقبال نے کہا تھا:
”شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نے مال غنیمت، نے کشور کشائی“
یہ ایسے بےمثال قائد تھے کہ، ان کی قیادت میں لڑنے والے ”ینی چری“ (نئی فوج، یہ سلطان کی خاص فوج تھی اور حسن اسی فوج کے آغا تھے۔) کے سپاہیوں نے اپنی استعداد اور دشمن کی ”آلاتِ ضرب و حرب“ سے لیس بہت بڑی تعداد سے بے نیاز ہو کر سینکڑوں صلیبیوں کو ’واصلِ جہنم‘ کیا۔ شاید یہی نقشہ اقبال کھینچنا چاہتے تھے اس شعر میں:
”کافر ہے تو کرتا ہے شمشیر پہ بھروسا
مؤمن ہے تو بے تیغ لڑتا ہے سپاہی“
ان کا دل ایسے بھیڑیے جیسا تھا جو اپنے شکار پر ذرا بھی رحم نہیں کرتا۔ آغا کی اسی شیر دلی اور بے جگری کا نتیجہ تھا کہ صلیبیوں کے دفاعی دستے کی صفیں الٹ گئیں اور شہنشاہ کو مجبوراً خود اپنے خصوصی دستے کے ساتھ آغا سے لڑنا پڑا۔
”دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
پہاڑ سمٹ کر ان کی ہیبت سے رائی“
یہ ایسے بہادر تھے کہ، تیروں کی بوچھاڑ اور تلواروں کی یلغار میں اپنے زخمی و کٹے پھٹے جسم کے ساتھ پوری ”ایمانی طاقت“ اور ’روحانی استقلال‘ سے ’نعرہائے تکبیر‘ بلند کرتے ہوئے زخمی شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے دشمن پر حملہ آور ہوتے رہے اور ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ ناقابل یقین امر کو اپنے یقینِ محکم کی بدولت حاصل کیا۔ تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ!
”آغا حسن کی تلوار کسی خودکار مشین کی طرح چلتی ہوئی نظر آتی تھی۔“
ایسا ہوتا بھی کیوں نہیں کہ! حسن رحمۃ اللہ علیہ سلطان کی اس سپہ کے سالار تھے جو سلطان کی خاص فوج تھی۔ جسے خصوصی اور سخت تربیت دی جاتی تھی۔ یہ اس فوج کے آغا ( افسر اعلیٰ) تھے جس فوج کے سپاہی محض جذبہِ جہاد اور شوقِ شہادت سے مطلب رکھتے تھے۔ یہ فوج ایسی عظیم فوج تھی جس کا فوجی لباس ایک خاص امتیازی حیثیت رکھتا تھا اور خود سلطان بھی یہی وردی پہن کر اپنی تنخواہ وصول کیا کرتا تھا۔ یہ فوج... وہ فوج تھی جس کے قدم ہمیشہ دشمن کی طرف بڑھنے کے لیے تھرکتے رہتے۔ ان کے ہاتھ صدا تلوار کے دستوں پر رقص کرتے نظر آتے۔ ان کی ”عقابی نگاہیں“ ہمہ وقت دشمن کا تعاقب کرتی نظر آتیں۔ یہی فوج تھی جس نے فتح قسطنطنیہ کے وقت صلیبیوں کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ ”جسٹینین یا جسٹینائی (یورپی سپہ سالار)“ اسی فوج کے ہاتھوں لقمہِ اجل بنا۔ شہنشاہ قسطنطین جس نے تا ”وقتِ مرگ“ جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کیا وہ بھی اسی فوج کے ہاتھوں شہر کے دروازے پر جہنم رسید ہوا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے ’انجینئرز‘ اسی فوج سے چنے جاتے تھے۔ اور آغا حسن اسی عظیم الشان لشکر کے ”روحِ رواں“ تھے۔ ان کے متعلق تاریخ سے زیادہ معلومات تو نہیں ملتیں لیکن! ہر مؤرخ وہ علامہ ندوی ہوں، علامہ شاہ منصور، ڈاکٹر الصلابی، ابنِ خلدون یا پھر حافظ ابن کثیر رحمھم اللہ علیھم اجمعین ہوں؛ ساروں نے ہی فتح قسطنطنیہ کے باب میں آغا حسن کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا ہے۔ ان کی زندگی کے متعلق زیادہ تفصیلات ہوں یا نہ ہوں مگر ان کی جرات و دلیری، شجاعت و جوان مردی، بہادری و بےباکی کی داستان تمام تواریخ کا حصہ ضرور ہے۔
امت مسلمہ کا یہ عظیم سپوت، بشارت نبوی صلی اللہ علیہ و اٰلہ واصحابہ وسلم کا حق دار بننے کے لیے اور نبیِٔ آخر الزماں کی پیشین گوئی کو پورا کرنے کے لیے زندگی اور موت کے فاصلے مٹا کر، دیوانہ وار لڑتے ہوئے، جسم پر سینکڑوں زخموں کے نشان لیے، ہاتھوں پر شہادت کے لہو کی منہدی سجائے؛ بروز منگل، 20 جمادی الاول 857ھ، بمطابق 29 مئی 1453ء کو دورانِ لڑائی فصیل کی چوٹی سے گرا اور شہادت کا جام پی کر ابدی نیند سو گیا۔
”انا للہ و انا الیہ راجعون“
امت محمدیہ کا یہ بے مثال بیٹا اور لازوال کردار ظاہراً تو قبر کی پاتال میں اتر گیا لیکن حقیقتاً وہ آج تقریباً پونے چھ سو سال گزر جانے کے بعد بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ و پائندہ ہے۔
مزید پڑھیں






