آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر حملے

مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات ستمبر کے آخری ہفتے میں جنگ سے پہلے کی سطح سے تجاوز کرگئیں، تاہم آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق شپ ٹریکنگ کمپنی کپلر کے ابتدائی اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 24 ستمبر اور 27 سے 29 ستمبر کے دوران خطے سے خام تیل کی برآمدات یومیہ 19.5 ملین سے 22.5 ملین بیرل تک پہنچ گئیں۔
یکم اکتوبر کو ختم ہونے والے سات روز کی اوسط خام تیل برآمدات 18.5 ملین بیرل یومیہ رہی، جبکہ فر وری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ اوسط قریباً 18 ملین بیرل یومیہ تھی۔
خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، کیمیکلز اور دیگر مائع ہائیڈروکاربن کو ملا کر 30 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں مجموعی برآمدات کی اوسط 22.4 ملین بیرل یومیہ رہی آبنائے ہرمز سے ایل این جی کی ترسیل بھی ستمبر میں فروری کے بعد بلند ترین ماہانہ سطح پر پہنچ گئی۔
تاہم تیل کی ترسیل میں اضافے کے ساتھ بحری جہازوں کو درپیش خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ میری ٹائم انٹیلیجنس فرم میریسکس کے مطابق آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف حالیہ عرصے میں کم از کم 7 حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
برطانوی بحری تجارت کے نگران ادارے (UKMTO) نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سفر کے دوران ایک ٹینکر نا معلوم میزائل یا گولے کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں انجن روم کو نقصان پہنچا، جب کہ اب تک عملے کے ارکان میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی اثرات کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
ادارے نے آج اتوار کو "ایکس" پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ حکام واقعے کی وجوہات کی جانچ کر رہے ہیں، تاہم اس نے میزائل یا گولے کی سمت یا اس کے فائر کرنے والے ذمہ دار فریق کا تعین نہیں کیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے حوادث میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ برطانوی بحری تجارت کے نگران ادارے (UKMTO) نے نا معلوم میزائلوں یا گولوں کی زد میں آنے والے ٹینکروں اور بحری جہازوں کے بارے میں کئی شکایات درج کی ہیں۔ ان میں ایسے حوادث بھی شامل ہیں جن کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی یا مادی نقصان ہوا اور عملے کے ارکان زخمی ہوئے۔
اس سے قبل کل بھی خام تیل کا ایک ٹینکر عمان کے مشرق میں تقریباً 4 سمندری میل کے فاصلے پر ایک نا معلوم میزائل یا گولے کا نشانہ بنا تھا، جب کہ برطانوی ادارے نے اطلاع دی تھی کہ عملے کے تمام ارکان خیریت سے ہیں اور اس حادثے کے کوئی ماحولیاتی اثرات ریکارڈ نہیں ہوئے۔
اسی دن تیل کے ایک اور ٹینکر نے عمان کے مشرق میں تقریباً 4 سمندری میل کے فاصلے پر بائیں جانب نا معلوم میزائل یا گولے لگنے کی اطلاع دی، جب کہ ادارے نے عملے کی سلامتی اور حادثے کے ماحولیاتی اثرات نہ ہونے کی تصدیق کی۔
ادھر "روئٹرز" کے مطابق 30 ستمبر کو موصول ہونے والی ان اطلاعات کے بعد کہ لائبیریا کا پرچم اٹھانے والے تیل کے تین ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نا معلوم میزائلوں یا گولوں کی زد میں آئے ہیں، بحری نقل و حرکت پر خطرات مزید بڑھ گئے ہیں، جب کہ ان میزائلوں کی سمت یا ذمہ دار فریق کا خود مختار طور پر تعین نہیں کیا جا سکا-
مزید پڑھیں





