ایوارڈز، حوصلہ افزائی یا لالچ؟تحریر:ایس اے شازم
نقطہ نظر
ایوارڈ بظاہر دھات یا کانچ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ کسی انسان کی برسوں کی محنت، قربانی، خدمت اور کردار کی ایک پوری کہانی جڑی ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اعزاز دینا دراصل یہ تسلیم کرنا ہے کہ اس کی کوشش معاشرے کے لیے اہم تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب اعزاز خدمت کے اعتراف کے بجائے خدمت کا مقصد بن جائے تو پھر یہ قدردانی رہتی ہے یا لالچ بن جاتی ہے؟
پاکستانی معاشرے میں تمغوں اور اعزازات کی ایک روشن روایت موجود ہے۔ چاہے ہمارے فوجی جوانوں کو بہادری پر ملنے والے اعزازات ہوں، سائنس دانوں اور ماہرین کو قومی خدمات پر دیے جانے والے تمغے ہوں، یا ادیبوں، شاعروں، اساتذہ، فنکاروں اور سماجی کارکنوں کی خدمات کا اعتراف ہو، اعزاز اس وقت خوبصورت بنتا ہے جب اس کے پیچھے واقعی کوئی قابلِ قدر خدمت موجود ہو۔
ہمیں اپنے ان سپاہیوں کو دیکھنا چاہیے جو سرحدوں پر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے لیے تمغہ مقصد نہیں بلکہ فرض مقصد ہوتا ہے۔ ان کے گھروں میں برسوں انتظار کرنے والے والدین، بیویاں اور بچے شاید اس اعزاز سے زیادہ اس بات کو اہم سمجھتے ہیں کہ ان کا پیارا فرض کی ادائیگی کے بعد سلامت گھر لوٹے اور ہر میدان میں غازی بن کر ملک کا نام روشن کرے۔ بعض قربانیاں تو ایسی ہوتی ہیں جن کا اعتراف کسی تمغے سے ممکن ہی نہیں۔
اسی طرح پاکستان کے دور دراز علاقوں کا وہ استاد بھی کسی اعزاز سے کم نہیں جو محدود وسائل کے باوجود بچوں کو پڑھاتا ہے۔ سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا یا جنوبی پنجاب کے کسی چھوٹے سے گاؤں میں اگر ایک استاد برسوں تک بچوں کو علم کی روشنی دیتا رہے اور اس کا نام کسی فہرست میں نہ آئے تو کیا اس کی خدمت کم ہو جاتی ہے؟ یقیناً نہیں۔
اصل مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم کام سے زیادہ کام کی نمائش کو اہمیت دینے لگتے ہیں۔ کسی غریب کی مدد کرنے سے پہلے کیمرہ نکالنا، راشن تقسیم کرتے ہوئے تصویریں بنوانا، ہر چھوٹی خدمت کو سوشل میڈیا پر نمایاں کرنا اور پھر اسی شہرت کو مستقبل کے کسی اعزاز کے لیے استعمال کرنا، یہ رویہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم خدمت کر رہے ہیں یا اپنی تشہیر۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ آج جب ہر ہاتھ میں موبائل کیمرہ ہے تو ہر نیکی کو منظر بنانے کی خواہش بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ حالانکہ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ہر ماہ خاموشی سے کسی یتیم بچے کی فیس ادا کرتے ہیں، کسی بیمار کے علاج میں مدد دیتے ہیں، کسی بیوہ کے گھر راشن پہنچاتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہونے دیتے۔ ان لوگوں کے سینے پر شاید کوئی تمغہ نہ ہو مگر ان کی خاموشی میں خدمت کی وہ خوشبو ہوتی ہے جو بڑے بڑے اعزازات سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔
یہاں ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ کیا ہر اعزاز واقعی میرٹ کی بنیاد پر ملتا ہے؟ یہ سوال کسی مخصوص فرد پر الزام نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی نظام کے لیے ایک آئینہ ہے۔ جب اعزازات کے انتخاب میں شفافیت، واضح معیار اور غیر جانبدارانہ عمل پر سوال اٹھیں تو اعزاز کی معنوی قدر متاثر ہوتی ہے۔ پھر وہ ایوارڈ جسے معاشرے میں عزت کی علامت ہونا چاہیے، بعض لوگوں کے نزدیک محض تعلقات، رسائی یا تشہیر کی علامت بن جاتا ہے۔
اسی لیے ایوارڈز دینے والے اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر ایک خاموش محنت کرنے والا شخص برسوں نظرانداز ہوتا رہے اور شہرت رکھنے والا شخص آسانی سے نمایاں ہو جائے تو معاشرے میں غلط پیغام جاتا ہے۔ نوجوان یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ محنت سے زیادہ اہم اپنی تشہیر ہے۔ حالانکہ قومیں صرف تمغے بانٹنے سے نہیں بنتیں، قومیں ایسے کردار پیدا کرنے سے بنتی ہیں جو تمغے کے بغیر بھی اپنا فرض ادا کریں۔
پاکستان میں ایسے بے شمار گمنام کردار موجود ہیں۔ کسی سرکاری اسپتال کا وہ نرسنگ اسٹاف جو رات دن مریضوں کی خدمت کرتا ہے، کسی اسکول کا وہ استاد جو اپنی جیب سے بچوں کے لیے کتابیں خریدتا ہے، کسی فلاحی کارکن کی وہ خاموش کوشش جو کسی خاندان کا چولہا جلائے رکھتی ہے، یا ولی اللہ جیسے خاموش سپاہی جو بچھڑے ہوؤں کو ملانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ سب معاشرے کے وہ ستون ہیں جنہیں شاید سرکاری اعزازات نہ ملیں مگر ان کی خدمات معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتی ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ قدردانی انسان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے لیکن اعزاز کی خواہش اگر حد سے بڑھ جائے تو انسان کو اپنی اصل منزل سے دور کر سکتی ہے۔ جو شخص صرف اس لیے اچھا کام کرتا ہے کہ لوگ اسے دیکھیں، اس کی نیکی لوگوں کی نگاہ کی محتاج ہو جاتی ہے۔ لیکن جو شخص اس لیے خدمت کرتا ہے کہ اسے اپنے ضمیر کے سامنے جواب دینا ہے، اس کے لیے خاموشی بھی کافی ہوتی ہے۔
ایوارڈ ملے تو اسے عزت سے قبول کرنا چاہیے مگر نہ ملے تو اپنے کام سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی کفر ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ سینے پر کتنے تمغے سجے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ انسان کے کردار نے کتنے دلوں میں جگہ بنائی ہے۔
ایک دن سرکاری اعزازات کی فہرستیں پرانی ہو جائیں گی، اخبارات کے صفحات بدل جائیں گے، تصویریں دھندلا جائیں گی اور سوشل میڈیا کی پوسٹیں ماضی کا حصہ بن جائیں گی مگر کسی ضرورت مند کی زبان سے نکلی ہوئی دعا، کسی شاگرد کی کامیابی، کسی مریض کی صحت یابی یا کسی خاندان کے چہرے کی خوشی کہیں زیادہ دیر تک زندہ رہے گی۔
اس لیے تمغہ اگر خدمت کا اعتراف ہے تو یقیناً قابلِ احترام ہے، لیکن اگر خدمت صرف تمغے تک پہنچنے کی سیڑھی بن جائے تو ہمیں اپنے مقصد پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ ایوارڈ انسان کی قدر بڑھا سکتا ہے مگر انسان کی اصل قدر اس کے کردار سے بنتی ہے۔ اور شاید سب سے بڑا تمغہ وہ ہے جو حکومت نہیں، معاشرہ نہیں، بلکہ انسان کا اپنا ضمیر اسے دیتا ہے۔ ایک ایسا تمغہ جو سینے پر نہیں، دل پر سجتا ہے اور جسے کوئی واپس نہیں لے سکتا۔
مزید پڑھیں




