اقوام متحدہ کا بچوں کو آن لائن ہراسانی سے لاحق خطرات میں اضافے پر تشویش کا اظہار

اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت اور عالمی بحرانوں کے باعث بچوں کو آن لائن ہراسانی سے لاحق خطرات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ نجت معلیٰ مجید نے پیر کو جنرل اسمبلی میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کرتے ہوئے حکومتوں پر زور دیا کہ بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعات، قدرتی آفات اور موسمیاتی بحران کے باعث تقریباً ساڑھے 4 کروڑ بچے بے گھر ہو چکے ہیں،مصنوعی ذہانت بچوں کے جنسی استحصال، سائبر بُلنگ، جعلی تصاویر اور جرائم میں بچوں کی بھرتی جیسے نئے خطرات پیدا کر رہی ہے۔
یونیسیف، ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل اور انٹرپول کی ستمبر 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق ’ڈسرپٹنگ ہارم اِن پاکستان‘ کے مطابق، ملک میں 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً ہر 16 میں سے ایک انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچےکو ایک سال کے دوران آن لائن جنسی استحصا ل یا بدسلوکی کی کم از کم ایک صورت کا سامنا کرنا پڑا،پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً 15 لاکھ بچوں کو ایک سال کے دورا ن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا
رپورٹ میں ناپسندیدہ جنسی تصاویر یا گفتگو، نجی تصاویر کا مطالبہ، بچوں کی تصاویر رضامندی کے بغیر شیئر کرنے اور جنسی دھمکیوں یا بلیک میلنگ کو بدسلوکی کی مختلف صورتوں میں شامل کیا گیا ہے،تحقیق کے مطابق 85 فیصد رپورٹ شدہ واقعات میں مبینہ طور پر ملوث افراد متاثرہ بچوں کے پہلے سے شناسا تھے، جبکہ 44 فیصد واقعات سوشل میڈیا سے متعلق تھے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متاثرہ بچوں میں نصف سے زیادہ نے اپنا تجربہ کسی کو نہیں بتایا، جبکہ سروے میں شامل کسی بچے نے بھی پولیس، ہیلپ لائن یا سماجی کارکنوں جیسے باقاعدہ ذرائع سے شکایت درج نہیں کرائی، بدنامی، خوف اور خاندان کی جانب سے الزام ترا شی کا خدشہ بچوں کو مدد حاصل کرنے سے روک سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غربت، بے گھری، تنازعات اور قدرتی آفات بھی بچوں کے تحفظ کو متاثر کرتے ہیں، تاہم ان عوامل اور آن لائن جنسی استحصال کے درمیان براہ راست تعلق ثابت نہیں کیا گیا،پاکستان کے حوالے سے تحقیق میں آن لائن بدسلوکی کی روک تھام، تفتیش اور متاثرین کی معاونت کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کے فرانزک انٹرویوز کے لیے خصوصی تربیت یافتہ ماہرین کی لازمی تعیناتی کا قانونی تقاضا موجود نہیں، جس سے متاثرین کو دوبارہ ذہنی اذیت پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے رپورٹ میں محفوظ اور خفیہ شکایتی نظام، تربیت یافتہ تفتیشی عملے اور متاثرہ بچوں کو بلاخوف مدد فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں





