بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کرپٹو کرنسی،فائدہ یا دھوکا؟تحریر: مریم ڈار،قسط 6

نقطہ نظر

پچھلی قسط میں ہم نے کرپٹو ٹریڈنگ، ٹریڈر اور انویسٹر کے فرق، اسپاٹ ٹریڈنگ اور فیوچرز ٹریڈنگ کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس قسط میں ہم ان الفاظ کو سمجھیں گے جو کرپٹو مارکیٹ میں قدم رکھتے ہی بار بار سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔

اگر آپ نے کبھی کرپٹو ٹریڈنگ کی کوئی ویڈیو دیکھی ہے تو آپ نے سنا ہو گا کہ ٹریڈر نے ٹریڈ لانگ کی، یا شارٹ کی، دس گنا لیوریج استعمال کی، یو ایس ڈی ٹی میں رقم رکھی اور بائے یا سیل کیا۔ یہ الفاظ کریپٹو کے عام ٹرمز ہیں،ان کو سمجھے بغیر کریپٹو ایکس -چینج کا استعمال وقت اور پیسوں کا ضیاع ہے۔

1-سب سے پہلے یو ایس ڈی ٹی کو سمجھتے ہیں، کیونکہ کرپٹو مارکیٹ میں یہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یو ایس ڈی ٹی ایک اسٹیبل کوائن ہے۔ اسٹیبل کوائن ایسی کرپٹو کرنسی کو کہتے ہیں جس کی قیمت کسی نسبتاً مستحکم اثاثے، مثلاً امریکی ڈالر، سے منسلک رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یو ایس ڈی ٹی کو عموماً ٹیتھر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔سادہ الفاظ میں، ایک یو ایس ڈی ٹی کی قیمت تقریباً ایک امریکی ڈالر کے برابر رکھنے کا ہدف ہوتا ہے۔ تاہم، اس کی قیمت ہر وقت اور ہر پلیٹ فارم پر بالکل ایک ڈالر رہنے کی ضمانت نہیں ہوتی۔چند پیسے اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔

اگر آپ کرپٹو ایکسچینج پر بِٹ کوائن خریدنا چاہتے ہیں۔ وہاں بِٹ کوائن کے ساتھ یو ایس ڈی ٹی کی جوڑی موجود ہے۔ یعنی آپ پہلے اپنی کرنسی سے یو ایس ڈی ٹی خریدیں گے پھر وہی یو ایس ڈی ٹی استعمال کرتے ہوئے بِٹ کوائن خرید سکتے ہیں۔

اگر آپ کے پاس سو یو ایس ڈی ٹی ہیں اور بِٹ کوائن کی قیمت ستر ہزار یو ایس ڈی ٹی ہے تو ان سو

یو ایس ڈی ٹی سے، فیس اور دیگر اخراجات کو نظر انداز کرتے ہوئے، آپ بِٹ کوائن کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی خرید سکتے ہیں۔

یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے: یو ایس ڈی ٹی امریکی ڈالر کے برابر سمجھا جانے والا ڈیجیٹل ٹوکن ہے، خود امریکی ڈالر نہیں۔ اس کے استعمال میں بھی مالی، تکنیکی اور پلیٹ فارم سے متعلق خطرات موجود ہو سکتے ہیں۔

2۔ایک اور ٹرم اسپاٹ کو سمجھتے ہیں ،اسپاٹ ٹریڈنگ وہ طریقہ ہے جس میں آپ اصل کرپٹو اثاثہ خریدتے یا فروخت کرتے ہیں۔

اگر آپ کے پاس دس ہزار روپے کے برابر یو ایس ڈی ٹی ہیں اور آپ ان سے بِٹ کوائن خرید لیتے ہیں۔ خریداری مکمل ہونے کے بعد، پلیٹ فارم کے طریقۂ کار کے مطابق، بِٹ کوائن کا متعلقہ حصہ آپ کے اکاؤنٹ میں آ جاتا ہے۔اب آپ کے پاس اصل بِٹ کوائن اثاثہ موجود ہے۔ اسپاٹ ٹریڈنگ میں عام طور پر آپ اپنی دستیاب رقم سے اثاثہ خریدتے ہیں اور اس کی قیمت بڑھنے کا انتظار کر تے ہیں۔ اس میں لیوریج استعمال نہیں ہوتی۔یاد رکھیں، اسپاٹ ٹریڈنگ میں بھی نقصان ہو سکتا ہے۔ اگر کسی کوائن کی قیمت بہت زیادہ گر جائے تو آپ کی لگائی ہوئی رقم کا بڑا حصہ ضائع ہو سکتا ہے۔

3۔ بائے کا مطلب ہے خریدنا۔جب آپ کسی کرپٹو اثاثے کو خریدنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایکسچینج پر موجود بائے کا بٹن استعمال کر سکتے ہیں۔

4۔ سیل -سیل کا مطلب ہے فروخت کرنا

جب آپ اپنے پاس موجود کرپٹو اثاثے کو فروخت کرتے ہیں تو آپ سیل کا بٹن استعمال کر سکتے ہیں۔

قیمت بڑھنے کا مطلب لازمی طور پر منافع حاصل کر لینا نہیں۔ جب تک آپ فروخت نہیں کرتے، قیمت میں ہونے والا اضافہ عموماً غیر حقیقی منافع ہوتا ہے۔ اسی طرح قیمت گرنے سے ہونے والا نقصان بھی فروخت سے پہلے غیر حقیقی نقصان کہلاتا ہے۔تاہم، فروخت کرنے سے پہلے بھی آپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اثاثے کی قیمت کتنی بدلی ہے اور فیس سمیت تمام اخراجات کے بعد آپ کے پاس کتنی رقم بچے گی۔

5۔ لانگ کی اصطلاح زیادہ تر فیوچرز ٹریڈنگ میں استعمال ہوتی ہے۔جب کوئی ٹریڈر یہ توقع کرتا ہے کہ کسی کرپٹو اثاثے کی قیمت بڑھے گی تو وہ لانگ پوزیشن لے سکتا ہے۔ آسان الفاظ میں، وہ قیمت میں اضافے کی سمت میں پوزیشن لیتا ہے۔

اگر قیمت واقعی اس کی توقع کے مطابق بڑھتی ہے تو اسے منافع ہو گا۔ لیکن اگر قیمت کم ہو جائے تو اسے نقصان ہو گا ۔

لانگ کا مطلب یہ نہیں کہ منافع یقینی ہے۔ مارکیٹ میں قیمت کسی بھی وقت توقع کے برعکس حرکت کر سکتی ہے۔ فیوچرز کی لانگ پوزیشن اور اسپاٹ میں خریداری ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔

6۔ شارٹ ۔شارٹ پوزیشن لانگ کے برعکس ہوتی ہے۔جب ٹریڈر یہ توقع کرتا ہے کہ کسی کرپٹو اثاثے کی قیمت گرے گی تو وہ فیوچرز مارکیٹ میں شارٹ پوزیشن لے سکتا ہے۔ اس کا مقصد قیمت میں کمی سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔اگر قیمت واقعی کم ہو جاتی ہے تو اسے منافع ہو گا ،لیکن اگر قیمت بڑھنے لگے تو اسے نقصان ہو گا۔شارٹ پوزیشن میں ایک اہم خطرہ یہ ہے کہ قیمت توقع کے برعکس بڑھتی رہے تو نقصان تیزی سے بڑھ سکتا ہے، خصوصاً جب لیوریج استعمال کی گئی ہو۔

7۔ لیوریج اب آتے ہیں اس اصطلاح کی طرف جسے سمجھنا ہر نئے ٹریڈر کے لیے بہت ضروری ہے۔لیوریج کا مطلب ہے اپنے مارجن کے مقابلے میں زیادہ مالیت کی ٹریڈنگ پوزیشن لینا۔ اس کے ذریعے کم رقم کے ساتھ بڑی پوزیشن کھولی جا سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ نقصان کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔فرض کریں آپ کے پاس دس ہزار روپے ہیں اور آپ دس گنا لیوریج استعمال کرتے ہیں۔یعنی آپ نے اپنے دس ہزار روپے کے مارجن کے مقابلے میں بڑی پوزیشن لی ہے، اس لیے قیمت میں معمولی تبدیلی بھی آپ کے مارجن پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔حقیقی ٹریڈ میں فیس، فنڈنگ، مارجن کی قسم اور ایکسچینج کے اصولوں کے باعث نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔

اگر نقصان بڑھتا جائے تو ایکسچینج آپ کی پوزیشن کو لیکویڈیٹ کر سکتا ہے، یعنی اسے خودکار طور پر بند کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ اپنی رقم کا بڑا حصہ یا بعض حالات میں پوری رقم کھو سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ لیوریج کو آسان پیسے کمانے کا طریقہ سمجھنا خطرناک ہے۔

لیوریج مختلف مقداروں میں دستیاب ہو تی ہے، مثلاً ، 20x،2x، 5x، 10x یا اس سے زیادہ۔ یہ پلیٹ فارم، اثاثے اور معاہدے پر منحصر ہے۔

ان اصطلاحات کو سمجھنے کے بعد آپ کو کرپٹو ٹریڈنگ کی بنیادی زبان سمجھ آنے لگے گی۔ لیکن صرف الفاظ کا مطلب جان لینا کامیاب ٹریڈنگ کے لیے کافی نہیں۔ مارکیٹ کا مطالعہ، خطرات کی سمجھ، فیسوں کا حساب اور اپنے نقصان کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی اہم ہیں۔

آخر میں ایک ضروری بات ، کرپٹو مارکیٹ میں بہت سے لوگ اپنے منافع کی کہانیاں بیان کرتے ہیں، لیکن نقصان اٹھانے والوں کا ذکر اکثر کم ہوتا ہے۔ اسی لیے صرف کسی کی ویڈیو، اسکرین شاٹ یا منافع کے دعوے دیکھ کر اپنی محنت کی کمائی داؤ پر نہیں لگانی چاہیے۔خاص طور پر نئے افراد کو لیوریج اور فیوچرز ٹریڈنگ میں جلد بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ کسی بھی پلیٹ فارم پر رقم جمع کرنے سے پہلے اس کی ساکھ، سکیورٹی، فیس، قانونی حیثیت اور رقم نکلوانے کے طریقۂ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔

یاد رکھیے، معلومات حاصل کرنا پہلا قدم ہے، لیکن مالی فیصلہ کرنے سے پہلے تحقیق کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

اگلی قسط میں ہم کرپٹو مارکیٹ کے چارٹس، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، کینڈل اسٹکس اور ان بنیادی اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جن کی مدد سے ٹریڈرز مارکیٹ کی صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر صرف تعلیمی اور معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ کرپٹو اثاثوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، فراڈ، سکیورٹی، پلیٹ فارم اور دیگر مالی خطرات موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ کسی مخصوص کرپٹو اثاثے کو خریدنے یا بیچنے کا مشورہ نہیں۔