سان فرانسسکو کی سپر اے آئی کمپنی میں خفیہ آلہ نصب کرنے پر سعودی انجینئر گرفتار

امریکا میں سان فرانسسکو کی سپر انٹیلی جنس کمپنی میں خفیہ آڈیو ریکارڈنگ آلہ نصب کرنے پر سعودی شہری کو گرفتار کرلیا گیا۔
ایف بی آئی کے مطابق 35 برس کے عبدالرحمن الفوزان نے ایگزیکٹو کانفرنس روم میں ڈیوائس چھپا کر خفیہ ریکارڈ نگ کی کوشش کی, تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ملزم نے حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کی ہو یا اسے چرایا ہو ۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ملزم پر ایک ایسی ڈیوائس استعمال کرنے یا استعمال کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس کے ذریعے دوسروں کی گفتگو خفیہ طور پر سنی یا ریکارڈ کی جا سکتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کی سیکیورٹی ٹیم کو کمپنی کے ایک اعلیٰ انتظامی کانفرنس روم میں جدید نوعیت کی ریکارڈنگ ڈیوائس ملی، جسے ٹیلی ویژن کی یو ایس بی پورٹ میں نصب کیا گیا تھا س کمرے میں کمپنی کے انتہائی حساس تکنیکی، کاروباری اور اسٹریٹجک معاملات پر بات چیت کی جاتی تھی۔
امریکی استغاثہ کے مطابق عبدالرحمٰن الفوزان کو مذکورہ کانفرنس روم تک رسائی کی اجازت نہیں تھی، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسے ڈیوائس کی دریافت سے قبل متعدد مرتبہ کمرے کے قریب دیکھا گیا۔ فوٹیج میں وہ بظاہر ٹیلی ویژن کے پیچھے موجود اس مقام کا جائزہ لیتا بھی نظر آیا جہاں ریکارڈنگ ڈیوائس نصب تھی۔
تحقیقات کے مطابق یہ ڈیوائس 28 ستمبر کے آس پاس نصب کی گئی تھی اور اسے ٹوائلٹ پیپر سے ڈھانپا گیا تھا تاکہ اس کی موجودگی کا پتا نہ چل سکے۔ ڈیوائس میں موجود معلومات کو خفیہ رکھنے کے لیے انکرپشن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق کمپنی کی سیکیورٹی ٹیم کو دفتر کے ایک دوسرے کمرے میں ملزم کا چھوڑا ہوا ایک بیگ بھی ملا، جس میں اس کا بٹوا، شناختی دستاویزات اور ایک دوسری ریکارڈنگ ڈیوائس موجود تھی۔
اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں بتایا کہ کپمنی نے اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی مدد سے مشتبہ ڈیوائس کی نوعیت اور اس کے ماخذ کا تجزیہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک مخصوص ملازم کی نشاندہی ہوئی جس نے مبینہ طور پر چند روز قبل ڈیوائس نصب کی تھی۔
کمپنی نے معاملہ فوری طور پر امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی (FBI) کے حوالے کر دیا، جس کے بعد ملزم کو جمعہ کے روز گرفتار کیا گیا ملزم منگل کو پہلی مرتبہ وفاقی عدالت میں پیش ہوا اور گرفتاری کے بعد سے زیر حراست ہے۔
اوپن اے آئی نے تصدیق کی ہے کہ متعلقہ ملازم کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے ت اہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ملزم نے کمپنی کے حساس مصنوعی ذہانت ماڈلز، سورس کوڈ یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی ہو یا انہیں چوری کیا ہو۔
کمپنی کے مطابق وہ اپنی ٹیکنالوجی معلومات اور ملازمین کے تحفظ کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوج اندرونی سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
ایف بی آئی کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ اوپن اے آئی نے تحقیقاتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں





