جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی

qomi
مصنف:

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی، اپوزیشن نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں نعرے بازی کی۔ قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے چار گھنٹے سے زائد بحث کی۔

قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ہونے والی بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار سمیت دیگر ارکان نے اظہارِ خیال کیا۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت نے گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات سے قبل تمام دستیاب آپشنز استعمال کیے، تاہم حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ ہنگامی اقدام کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنما 9 مئی کے واقعات اور دھرنوں کا دور واپس لانا چاہتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری یکسوئی کے ساتھ لڑی جائے گی۔

خواجہ آصف نے بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایک ایسے جنازے کی نشاندہی کریں جس میں وہ شریک ہوئے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات اور لچک کا مظاہرہ کیا، لیکن بعض معاملات میں رعایتوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کی سابق صوبائی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے معاملات میں بیرونِ ملک بیٹھے افراد کی مداخلت کے باعث مسائل پیدا ہوئے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ حکومت کے پاس ہنگامی اقدام کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا معاملہ بھی سیاسی تنازع بنا ہوا ہے، حالانکہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، تاہم انہیں عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات واپس لیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی قیدی سے ملاقات نہ کرانا مجرمانہ فعل ہے اور لوگوں کو بلاوجہ تنگ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ حکومتی وفد ان کے چیمبر میں جبکہ اپوزیشن کا وفد کمیٹی روم میں موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے اور مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے معاملے سے سب آگاہ ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور ملکی بقا کے تقاضوں کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت نے ذمہ داری اٹھائی ہے تو اسے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ فاروق ستار نے کراچی اور سندھ میں امن و امان کی صورتِ حال پر بھی توجہ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جبکہ بچے ٹینکرز اور گٹروں کے باعث جانیں گنوا رہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، وہاں دہشت گردوں کے پیچھے کوئی اور چھپ رہا ہے۔ انہوں نے حکومتی نوٹیفکیشنز مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جمہوریت پر شب خون مارا گیا اور دہشت گردی کو اقدام کے لیے جواز بنایا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان میں کہیں بھی نہیں ہونی چاہیے اور دہشت گردوں کو کسی بھی علاقے میں چھپنے کی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے بی ایل اے اور بھارت کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سیاسی معاملات کو جواز نہیں بنانا چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری کے تحت نافذ کی گئی ہے اور یہ اقدام مستقل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور متعلقہ قیادت کی جانب سے کوئی ٹھوس جواز فراہم کیا جاتا تو صدر مملکت ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری نہ دیتے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے ایمرجنسی کے انتہائی اقدام سے قبل اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی اور صوبائی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کی توقع کی جارہی تھی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران یہ تاثر ملا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے، تاہم بعد میں حالات مختلف ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر بنایا تھا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر حالات بہتر ہوئے تو وہ وزیراعظم سے ایمرجنسی ختم کرنے کی درخواست کریں گے، کیونکہ حکومت بھی نہیں چاہے گی کہ یہ اقدام غیر معینہ مدت تک جاری رہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اپوزیشن کو بھی اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور حکومت سے مذاکرات کے لیے آگے بڑھے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ بھارت پاکستان میں علیحدگی پسند عناصر کے ذریعے دہشت گردی کروا رہا ہے اور پاکستان کی کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے آپریشن سندور سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد اور تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔ حکومتی ارکان نے ایمرجنسی کے نفاذ کو قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے اسے جمہوری عمل کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔