ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کرپٹو کرنسی،فائدہ یا دھوکا؟ تحریرم: مریم ڈار۔قسط نمبر 8

نقطہ نظر

پچھلی قسط میں ہم نے چارٹس اس کی باڈی ، وِکس ، رنگ اور اس کے ایکسز کے بارے میں پڑھا آج اس قسط میں ہم مارکیٹ ٹرینڈز ، سپورٹ ،رزیزٹنس ،والیم کے مزید بنیادی تصورات اور ان کے عملی استعمال کو سمجھنے کی کوشش کریں گے، تاکہ یہ جان سکیں کہ چارٹ پر نظر آنے والی معلومات کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کیسے پڑھا جا سکتا ہے۔

6۔ مارکیٹ کا ٹرینڈ اس میں ٹرینڈ سے مراد مارکیٹ کی قیمتوں کی عمومی سمت ہے۔

عام طور پر اسے تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے

اپ ٹرینڈ: جب قیمت مجموعی طور پر اوپر کی طرف بڑھ رہی ہو اور قیمتوں کی بلند ترین اور کم ترین سطحیں عموماً پہلے سے بلند بنتی جائیں۔

ڈاؤن ٹرینڈ: جب قیمت مجموعی طور پر نیچے کی طرف جا رہی ہو اور قیمتوں کی بلند ترین اور کم ترین سطحیں عموماً پہلے سے نیچے بنتی جائیں۔

سائیڈ ویز ٹرینڈ: جب قیمت کسی مخصوص حد کے اندر اوپر نیچے ہوتی رہے، لیکن واضح طور پر کسی ایک سمت میں آگے نہ بڑھے۔

اگر کسی کوائن کی قیمت پہلے 100، پھر 110، پھر 120 اور بعد میں 130 تک پہنچتی ہے، تو یہ بڑھتے ہوئے رجحان کی مثال ہے۔اس طرح کسی کوائن کی قیمت پہلے 120، پھر 110، پھر 100 تک پہنچتی ہے، تو یہ ڈاؤن ہوتے ہوئے رجحان کی مثال ہے۔ لیکن اگر قیمت 100 اور 110 کے درمیان ہی گھومتی رہے تو اسے سائیڈ ویز حرکت کہا جاتا ہے۔

یہ اعداد صرف سمجھانے کے لیے ہیں۔ حقیقی مارکیٹ میں قیمتیں ہمیشہ اتنی باقاعدگی سے حرکت نہیں کرتیں۔

چارٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے دو اصطلاحات اکثر استعمال ہوتی ہیں: سپورٹ اور ریزسٹنس۔

سپورٹ، قیمت کی وہ سطح یا حدود جہاں ماضی میں خریداری کا دباؤ بڑھنے اور قیمت کے نیچے جانے کی رفتار سست ہونے کے آثار نظر آئے ہوں۔

ریزسٹنس، قیمت کی وہ سطح یا حدود جہاں ماضی میں فروخت کا دباؤ بڑھنے اور قیمت کے اوپر جانے کی رفتار سست ہونے کے آثار نظر آئے ہوں۔

اگر کسی کوائن کی قیمت کئی مرتبہ 100 یو ایس ڈی ٹی تک آنے کے بعد واپس اوپر گئی۔ ٹریڈر 100 کے آس پاس کی سطح کو ممکنہ سپورٹ سمجھ سکتا ہے۔

اسی طرح اگر قیمت کئی مرتبہ 120 یو ایس ڈی ٹی تک پہنچ کر نیچے آ گئی تو 120 کے آس پاس کی سطح ممکنہ ریزسٹنس ہو سکتی ہے۔

لیکن سپورٹ اور ریزسٹنس کوئی ایسی دیواریں نہیں جنہیں قیمت کبھی عبور نہ کر سکے۔ مارکیٹ کے حالات بدلنے پر سپورٹ ٹوٹ جاتی ہے اور ریزسٹنس بھی عبور ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات ٹوٹی ہوئی سپورٹ بعد میں ریزسٹنس اور ٹوٹی ہوئی ریزسٹنس بعد میں سپورٹ کا کردار ادا کر تی ہے۔

اب والیوم دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے والیوم ؟والیوم سے مراد کسی مخصوص مدت میں ہونے والی ٹریڈنگ کی مقدار ہے۔سادہ الفاظ میں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مخصوص وقت کے دوران کتنے اثاثوں کی خرید و فروخت ہوئی یا پلیٹ فارم کے پیمانے کے مطابق کتنی ٹریڈنگ کی مالیت رہی۔

مختلف ایکسچینجز کا والیوم عموماََ مختلف ہو تا ہے، اس لیے تجزیے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ معلومات کس مارکیٹ اور کس پلیٹ فارم سے لی گئی ہیں۔

اب اگر ہم واقعی اپنی انویسٹمنٹ کرتے ہیں تو کیا کینڈل اسٹکس مستقبل کی قیمت بتا تی ہیں یا کیا صرف کینڈل اسٹکس دیکھ کر معلوم کیا جا سکتا ہے کہ قیمت بڑھے گی یا گرے گی؟اس کا جواب ہے: نہیں۔

ہاں کچھ کینڈل اسٹک پیٹرنز ایسے ہیں جنہیں ٹریڈرز مارکیٹ کے ممکنہ رجحان کو سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ان کو آیندہ آنے والی قسط میں سیکھیں گے مثال کے طور پر، ڈوجی، ہیمر وغیرہ

ان پیٹرنز کو مارکیٹ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ایک ہی پیٹرن مختلف حالات میں مختلف معنی رکھ سکتا ہے۔ اسی لیے تجربہ کار ٹریڈرز عموماً صرف ایک کینڈل پر انحصار کرنے کے بجائے ٹرینڈ، سپورٹ، ریزسٹنس، والیوم اور دوسرے دستیاب شواہد کو بھی دیکھتے ہیں۔

چارٹ کا تجزیہ امکانات کو سمجھنے کا ایک طریقہ ہے، مستقبل کی درست پیش گوئی کرنے کا یقینی فارمولا نہیں۔

اگلی قسط میں ہم تکنیکی تجزیے کے مزید بنیادی تصورات اور ان کے عملی استعمال کو سمجھنے کی کوشش کریں گے، تاکہ یہ جان سکیں کہ چارٹ پر نظر آنے والی معلومات کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کیسے پڑھا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر صرف تعلیمی اور معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ کرپٹو اثاثوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، فراڈ، سکیورٹی اور دیگر مالی خطرات موجود ہوتے ہیں۔ یہ کسی مخصوص کرپٹو اثاثے کو خریدنے یا فروخت کرنے کا مشورہ نہیں۔