خواجہ سراؤں کی زندگی اور ہمارا معاشرہ،تحریر: سماویہ اعظم
نقطہ نظر
ہر انسان کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کسی کے لیے زندگی آسانیوں کے دروازے کھول دیتی ہے تو کوئی اذیتوں میں زندگی گزارتا ہے۔ خواجہ سرا بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اس معاشرے میں رہتے ہوئے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں جب بھی انہیں سڑکوں اور بازاروں میں دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ ان کی مسکراہٹ کے پیچھے کتنی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ ہم ان کے لباس، انداز اور آواز پر تبصرہ تو کر لیتے ہیں لیکن ان کی خواہشات، احساسات اور محرومیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی انسان کی زندگی کا فیصلہ صرف اس کی ظاہری شناخت کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟ ایک بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ ہر شے سے بے خبر اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔ ہر بچے کو دوسرے بچوں کی طرح ماں کی گود، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کی محبت اور گھر کے پرسکون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پر خوشیاں منائی جائیں، اس کی شرارتوں پر مسکرایا جائے اور اس پر فخر کیا جائے لیکن خواجہ سرا بچوں کے لیے زندگی کا آغاز ہی ایسے سوالات سے ہوتا ہے جن کے جواب ان کے اپنے گھر والے بھی نہیں دے پاتے۔ جب خاندان کو بچے کی جنس یا شناخت کے حوالے سے مختلف صورت حال کا سامنا ہوتا ہے تو گھرانوں میں اسے قبول کرنے کے بجائے شرمندگی، خوف اور بدنامی کا سبب سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایک ایسا بچہ جسے سب سے پہلے اپنے گھر سے تحفظ ملنا چاہیے اسی گھر میں اجنبیت محسوس کرنے لگتا ہے۔ والدین کی محبت کسی بھی بچے کی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی بچے کو اس کی شناخت کی وجہ سے بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے اور اس کا وجود خاندان کے لیے باعث شرمندگی ہے تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب اسے کسی اجنبی کی نفرت سے زیادہ اپنے ہی لوگوں کی بے رخی کا سامنا کرنا پڑے۔ جس گھر میں وہ انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتا ہے اسی گھر کی دہلیز اس کے لیے بھاری ہو جاتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اپنے ہی والدین کی محبت سے محروم ہونے کا احساس انسان کو اندر سے توڑ سکتا ہے؟ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بہت سی باتوں کو سمجھے بغیر ان پر رائے قائم کر لیتے ہیں۔ خواجہ سرا کہیں نظر آئیں تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لوگ انہیں عجیب نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور کچھ ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو ان کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں۔ ہم ان باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے لیکن جس شخص کو روزانہ ایسے رویوں کا سامنا کرنا پڑے اس کے لیے یہ سب کتنا تکلیف دہ ہوگا۔ کسی پر ہنسنا یا اسے حقارت سے دیکھنا ہماری ناقص تربیت اور محدود سوچ کا نتیجہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی کی ظاہری شناخت کو مذاق کا موضوع بنانا نہ تو بہادری ہے اور نہ ہی اچھے اخلاق کی علامت ہے۔ خواجہ سراؤں کی زندگی کا ایک اہم مسئلہ تعلیم تک رسائی بھی ہے۔ تعلیم ہر انسان کو شعور دیتی ہے۔ یہ صلاحیتوں کو نکھارنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کا ذریعہ بھی ہے مگر جب کسی بچے کو تعلیمی ادارے میں داخلے سے لے کر وہاں کے ماحول تک مختلف سطحوں پر نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بعض بچے ساتھیوں کے مذاق، نامناسب تبصروں اور دوسروں کی بے جا مداخلت سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے ایسا ماحول فراہم کریں جہاں ہر طالب علم کو عزت، تحفظ اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو یہ سکھا دیں کہ کسی کی مختلف شناخت اس کی تضحیک کا جواز نہیں تو آنے والی نسل کا رویہ بہتر ہو سکتا ہے۔ تعلیم کے بعد روزگار کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے بہترین ملازمت ملے وہ کسی کا محتاج نہ بنے۔ خواجہ سرا افراد بھی آگے بڑھنا چاہتے ہیں، کوئی کاروبار کرنا چاہتا ہے، کوئی تدریس، فنون، طب یا کسی دوسرے شعبے میں اپنی صلاحیتیں آزمانا چاہتا ہے لیکن اگر کسی شخص کو اس کی شناخت کی وجہ سے ملازمت دینے سے انکار کر دیا جائے یا اسے کام کی جگہ پر مسلسل تضحیک کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے کیسے لائے؟ ہر انسان کو اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کسی کو محض اس کی شناخت کی وجہ سے روزگار سے محروم کرنا اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم نے ان افراد کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز انہیں قبول کرتے ہیں؟ اگر مواقع کی کمی ہو اور پھر اسی کمی کو ان کی ناکامی قرار دے دیا جائے تو یہ رویہ مسئلے کا حل نہیں معاشرے کی اصل ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہر انسان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے۔ خواجہ سرا افراد کو بھی ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں وہ تضحیک اور تشدد کے خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان کی شکایات کو سنجیدگی سے لیں، قانون کے مطابق کارروائی کریں اور انتظامات کو بہتر بنائیں جن سے ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔ تحفظ کا احساس ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور خواجہ سرا افراد بھی اس حق سے محروم نہیں ہونے چاہییں۔ ہمارے معاشرے میں مذہب، اخلاق اور انسانیت کی بات کی جاتی ہے۔ ہم دوسروں کو اچھے اخلاق اپنانے کی تلقین کرتے ہیں اور خدمت خلق کو نیکی سمجھتے ہیں لیکن جب یہی اصول کسی ایسے شخص کے معاملے میں بھول جائیں جس کی شناخت ہم سے مختلف ہو تو ہمیں اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔ کسی انسان کے ساتھ عزت سے پیش آنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم اس کی زندگی کے ہر پہلو کو مکمل طور پر سمجھتے ہوں۔ اختلاف رائے کے باوجود احترام کیا جا سکتا ہے اور کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کیے بغیر اس کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنے رویوں کے ساتھ ساتھ اپنے نظام پر بھی توجہ دینی ہو گی۔ لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا، روزگار کے منصفانہ مواقع پیدا کرنا، صحت کی سہولتوں تک رسائی ممکن بنانا اور قانونی حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ایسے اقدامات ہیں جو عملی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ فلاحی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن سب سے پہلے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری بخوبی سمجھنا ہو گی۔ اگر ہم کسی کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو کم از کم اسے تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔ اگر ہم کسی مسئلے کا فوری حل نہیں نکال سکتے تو کم از کم اسے مزید سنگین بنانے کا سبب نہ بنیں۔ ایک بہتر معاشرہ وہ نہیں جہاں تمام لوگ ایک جیسے ہوں بلکہ وہ ہے جہاں مختلف ہونے کے باوجود ہر شخص کو عزت اور تحفظ حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس فرق کو نفرت کی بنیاد بنانے کے بجائے ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو دوسروں کا مذاق اڑانے سے روکنا چاہیے اور یہ احساس دلانا چاہیے کہ کسی انسان کی کمزوری یا مختلف شناخت کو نشانہ بنانا بہادری نہیں۔ اگر کسی خواجہ سرا کو کسی جگہ ہراساں کیا جا رہا ہو تو ہمیں اس کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب اور باشعور معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں خواجہ سرا افراد پر تبصرے کرنے کے بجائے ان کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کا ساتھ دینا ہوگا کیوں کہ ایک مثالی معاشرہ وہی ہے جہاں ہر فرد کو اپنی زندگی عزت اور وقار کے ساتھ گزارنے کا حق حاصل ہو۔
بقول شاعر:
گالوں پر غازے کے پیچھے درد کے سوکھے پھول
لچکیلی بانہوں کی شاخوں پر نفرت کی دھول





