ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ناموسِ رسالت اور ہماری ایمانی ذمہ داری،تحریر: شبنم مرزا

نقطہ نظر

رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہر مسلمان کے ایمان، محبت اور عقیدت کا مرکز ہے۔ آپ ﷺ سے محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان کی بنیاد، ہماری روح کی تسکین اور ہماری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ دنیا کا کوئی رشتہ، کوئی دولت اور کوئی مفاد ہمارے آقا و مولا ﷺ کی محبت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔


حالیہ دنوں نیہا سوامی کی مکی ماؤس والی شرٹ پر نامِ مبارک کی مبینہ اشاعت کے حوالے سے سامنے آنے والے معاملے نے مسلمانوں کے جذبات کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگر یہ عمل دانستہ طور پر کیا گیا ہے تو یہ نہایت افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ نامِ رسالت ﷺ مسلمانوں کے لیے غیر معمولی تقدس اور احترام رکھتا ہے؛ اس لیے اس حوالے سے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ آزادیِ اظہار یا ذاتی پسند کے نام پر ایسی حساسیت کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں جو کروڑوں انسانوں کے مذہبی جذبات سے وابستہ ہو۔


اسی معاملے میں معروف اداکارہ مشی خان نے آواز بلند کی اور اپنے سخت مؤقف کے ذریعے اس مسئلے کو عوامی سطح پر اجاگر کیا۔ ان کا ردِعمل ان لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے جو ناموسِ رسالت ﷺ کے معاملے میں کسی قسم کی بے احتیاطی برداشت نہیں کر سکتے۔ تاہم ایسے حساس معاملات میں ضروری ہے کہ حقائق کی تصدیق کی جائے، کسی فرد کے ارادے کے بارے میں بغیر ثبوت حتمی فیصلہ نہ کیا جائے اور اختلاف یا احتجاج کو قانون کے دائرے میں رکھا جائے۔


اب سوال یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان اس معاملے کا نوٹس کیوں نہ لے؟ اگر معاملے کی حقیقت اور اس میں کسی قابلِ اطلاق قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔ مذہبی جذبات کے تحفظ کے ساتھ انصاف، ثبوت اور قانونی تقاضوں کی پاسداری بھی ناگزیر ہے۔ کسی بھی شہری کے خلاف دھمکی، تشدد یا قانون ہاتھ میں لینے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔


ہم مسلمان اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ہماری جان، ہمارا مال، ہماری اولاد اور ہماری ہر خوشی آپ ﷺ کی محبت کے سامنے ہیچ ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:


لنَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ


ترجمہ: نبی مومنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ (سورۃ الاحزاب، آیت 6)


یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت اور وفاداری ہمارے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ تاہم اس محبت کا عملی اظہار صرف جذباتی ردِعمل تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ ہمیں اپنے کردار، اخلاق، عدل، برداشت اور سیرتِ نبوی ﷺ کی پیروی سے بھی اس محبت کو ثابت کرنا ہے۔


نامِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے لیے باعثِ رحمت، سرمایۂ عقیدت اور مرکزِ ایمان ہے۔ اس کے احترام کے معاملے میں احتیاط، ذمہ داری اور حساسیت ہر فرد پر لازم ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھے، حقائق سامنے لائے اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔


ہماری محبتِ رسول ﷺ زندہ باد، ہماری عقیدت زندہ باد، اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی میں عدل و انصاف کا نظام پائندہ باد!