بے وفائی دراصل وفا کی آخری شکل ہے،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
نقطہ نظر
محبت کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ کوئی شخص آپ کو چھوڑ کر چلا جائے، اصل المیہ یہ ہے کہ وہ شخص آپ کے اندر رہتے ہوئے بھی آپ کا نہیں رہتا۔ آپ اس کے ساتھ ہوتے ہیں مگر وہ کہیں اور آباد ہو چکا ہوتا ہے۔ آپ اس کی خوشی کے لیے اپنی خوشیاں قربان کرتے ہیں، اس کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بدلتے رویوں کے پیچھے ہزار تاویلیں تلاش کرتے ہیں اور پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ جس رشتے کو آپ اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھتے رہے، وہ دوسرے شخص کے لیے محض ایک گزر جانے والا موسم تھا۔ تب انسان کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ محبت میں ہارنا اور محبت کے نام پر خود کو کھو دینا دو الگ باتیں ہیں۔
ہم نے محبت کو ہمیشہ پانے کے پیمانے سے ناپا ہے۔ جسے چاہا، اسے حاصل کر لیا تو محبت کامیاب، جسے نہ پا سکے تو محبت ناکام۔ مگر محبت کی اصل کہانی ان دونوں کے درمیان کہیں چھپی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں اس لیے نہیں آتے کہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں، وہ ہمیں ہماری اپنی ذات سے متعارف کروانے آتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم کسی کے لیے کتنا جھک سکتے ہیں، کتنی تکلیف برداشت کر سکتے ہیں اور اپنی ذات کی کتنی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد جو شخص ہمارے اندر باقی رہ جاتا ہے، وہ پہلے والا انسان نہیں ہوتا۔ اس کی آنکھوں میں تجربے کی تلخی اور اس کے لہجے میں زندگی کی ایک ایسی سمجھ پیدا ہو جاتی ہے جو شاید کسی کتاب سے حاصل نہیں ہو سکتی۔
بے وفائی کا سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ اس کے بعد انسان صرف دوسرے شخص کو نہیں کھوتا، وہ اپنے اندر کی بہت سی چیزوں سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ وہ اعتماد جو کبھی کسی کی ایک مسکراہٹ سے بحال ہو جاتا تھا، اب ہزار یقین دہانیوں کے باوجود واپس نہیں آتا۔ وہ معصومیت جو کسی کے وعدے کو سچ مان لیتی تھی، اب ہر لفظ کے پیچھے ایک خدشہ تلاش کرتی ہے۔ وہ شخص جو کبھی محبت کو زندگی کی خوب صورت ترین حقیقت سمجھتا تھا، اب کسی کے قریب آنے پر بھی سوچتا ہے کہ کہیں یہ قربت کسی نئے فاصلے کی ابتدا تو نہیں۔ یوں ایک شخص کی بے وفائی کا خمیازہ بعض اوقات وہ لوگ بھی بھگتتے ہیں جن کا اس قصے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
لیکن کیا بے وفائی ہمیشہ نفرت کی مستحق ہوتی ہے شاید نہیں۔ کبھی کبھی کسی کا چلے جانا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے جسے ہم محبت کے اندھے پن میں دیکھنے سے انکار کرتے رہے تھے۔ ہم کسی شخص کو اپنی ضرورت، اپنی خواہش اور اپنے خوابوں کے مطابق دیکھتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی اصل شخصیت ہماری بنائی ہوئی تصویر سے بالکل مختلف نکلتی ہے۔ ہم اس کے رویے میں محبت تلاش کرتے ہیں، حالاں کہ وہاں صرف عادت ہوتی ہے۔ ہم اس کی خاموشی کو مجبوری سمجھتے ہیں، حالاں کہ وہ بے رخی ہوتی ہے۔ ہم اس کے فاصلے کو وقتی قرار دیتے ہیں، حالاں کہ وہ ذہنی طور پر بہت پہلے ہم سے رخصت ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر ایک دن حقیقت سامنے آتی ہے اور ہمارے تمام مفروضے ایک ساتھ دم توڑ دیتے ہیں۔
شاید اسی لیے بعض اوقات بے وفائی دراصل وفا کی آخری شکل بن جاتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان دوسرے شخص سے وفا کرتے کرتے آخرکار اپنی ذات کے ساتھ وفادار ہونا سیکھتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ کسی کو چاہنے کا مطلب اپنی عزتِ نفس کو اس کے قدموں میں رکھ دینا نہیں، کسی کا ساتھ نبھانے کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی زندگی کو مسلسل اذیت میں مبتلا رکھا جائے۔ محبت اگر انسان کو اپنے وجود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دے، اگر اس کے حصے میں ہر روز کی بے قدری، انتظار اور تذلیل آئے تو پھر اس رشتے کو بچانے سے پہلے خود کو بچانا ضروری ہو جاتا ہے۔
زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر اس شخص کے جانے پر روتے ہیں جو ہمیں چھوڑ چکا ہوتا ہے، مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس کے ساتھ رہتے ہوئے ہم خود سے کتنی دور جا چکے تھے۔ ہم اس کی واپسی کی دعائیں مانگتے ہیں، اس کے پیغامات کا انتظار کرتے ہیں، اس کی توجہ کے لیے اپنے رویے بدلتے ہیں اور اس دوران اپنی ہی ذات کی آواز سننا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر جب انتظار تھکا دیتا ہے اور امید کی آخری کرن بھی بجھ جاتی ہے تو انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ جس دروازے پر وہ دستک دیتا رہا، اس کے پیچھے کوئی تھا ہی نہیں۔ وہ صرف اپنی امیدوں کی بازگشت سنتا رہا تھا۔
محبت کا خاتمہ ہمیشہ محبت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ کبھی یہ اس غلط فہمی کا خاتمہ ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کی تکمیل کسی دوسرے انسان کی موجودگی سے مشروط ہے۔ کوئی شخص ہمیں چھوڑ کر جا سکتا ہے، ہماری وفاؤں کو فراموش کر سکتا ہے اور ہمارے خلوص کی قدر کیے بغیر اپنی دنیا بسا سکتا ہے، مگر اسے یہ اختیار نہیں کہ وہ ہمارے وجود کی پوری معنویت بھی اپنے ساتھ لے جائے۔ ہماری زندگی اس کے آنے سے پہلے بھی تھی اور اس کے جانے کے بعد بھی رہے گی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ہم اپنی خوشی کا اختیار کسی دوسرے کو دے بیٹھے تھے، اب اسے واپس لینے کا وقت آ گیا ہے۔
آخرکار انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ ہر جدائی کا جواب نفرت نہیں، ہر بے وفائی کا بدلہ بے وفائی نہیں اور ہر محبت کا انجام وصال نہیں ہوتا۔ کچھ رشتے ہمیں کسی دوسرے شخص تک پہنچانے کے بجائے ہماری اپنی ذات تک واپس لے آتے ہیں۔ شاید یہی محبت کا سب سے تلخ مگر سب سے قیمتی سبق ہے کہ جس دن انسان کسی کو کھو کر بھی اپنی ذات کو بچا لیتا ہے، اسی دن وہ پہلی بار واقعی آزاد ہوتا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات کسی سے محبت کی آخری وفاداری یہی ہوتی ہے کہ اسے جانے دیا جائے اور خود کو مزید بکھرنے سے بچا لیا جائے۔
مزید پڑھیں





