منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حکومت مخالف پُرتشدد مظاہرے اور لوٹ مار، پیرس سمیت کئی فرانسیسی شہروں میں کرفیو نافذ


حکومت مخالف مظاہروں کے بعد پرتشدد فسادات اور لوٹ مار کے واقعات کے پیشِ نظر دارالحکومت پیرس، لائل اور نائس سمیت متعدد شہروں کے مختلف علاقوں میں جزوی اور مقامی سطح پر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔


فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کی کمزور حکومت کو ملک میں سیکیورٹی کی ناکامیوں پر سخت تنقید اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ حکومت آئندہ صدارتی انتخابات سے صرف چھ ماہ قبل معاشی بحران اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے-


پیرس پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہر کے مخصوص علاقوں میں شام آٹھ بجے سے مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ پلیس ڈی لا ریپبلک اور لیس ہالس کے گرد و نواح میں رات 11 بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔


لائل، ڈوئے، واٹنیز اور ڈینین کے علاقوں میں مقامی میئرز کی منظوری سے آئندہ دو روز کے لیے کم عمر افراد پر رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک باہر نکلنے پر پابندی لگائی گئی ہے، جبکہ نائس کے میئر نے بھی شہر کے وسطی علاقے میں کمسن بچوں کے لیے رات میں کر فیو نافذ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہےمارسیل کی مقامی انتظامیہ نے تمام تر اجتماع اور مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔


فرانسیسی وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے ان کا عزم متزلزل ہے، تاہم انہوں نے پیرس میں مکمل کرفیو کو فی الوقت مسترد کرتے ہوئے مقامی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کو مناسب قرار دیا۔


وزیراعظم نے ملک میں جاری شدید ترین بدامنی کا ذمہ دار انتہائی بائیں بازو کی تنظیموں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر صدارتی انتخابات سے قبل ملک میں شدید ابتری پھیلانا چاہتے ہیں اس کے جواب میں بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلنشون نے وزیراعظم سے الزام کے شواہد پیش کرنے یا معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔


فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام تک پرتشدد واقعات کے دوران تقریباً 2400 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ایک احتجاجی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز کے تقریباً ایک ہزار اہلکار زخمی ہوئے۔


فیڈریشن آف ٹریڈ اینڈ ریٹیل نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً تین ہزار دکانوں کو لوٹا یا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ لوٹ مار کے سامان کو آن لائن فروخت کرنے والے پلیٹ فارمز کو ایسے اشتہار ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ حکومت متاثرہ کاروباری طبقے کو مالی امداد فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔


صدر امانوئل میکرون نے وزیر داخلہ لورینٹ نونیز کی جانب سے پیش کیا گیا استعفا مسترد کرتے ہوئے انہیں بیریکیڈز ختم کرنے، لوٹ مار روکنے اور انٹیلی جنس ناکامیوں کی شفاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہےوزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ملک میں جاری کشیدگی کے باوجود پیرس سینٹ جرمین اور بارسلونا کے درمیان آئندہ چیمپیئنز لیگ فٹ بال میچ اپنے مقررہ وقت پر ہوگا۔


دریں اثناء فرانسیسی صدر میکرون خلیجی ممالک کے دورے پر کویت پہنچ گئے ہیں تا کہ ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے لیے اضافی پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کیے جا سکیں، جبکہ اطالیہ، بیلجیم اور البانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔