پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ملک ریاض غلطیوں کے بعد عدالتوں کا سامنا کرکے دوبارہ کاروبار شروع کریں،چیئرمین نیب

مصنف:

چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ نیب نے 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران 9.18 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب کرائے، جبکہ رواں سال اب تک بازیاب کیے گئے اثاثوں کی مالیت 14.6 ٹریلین روپے ہے۔ انہوں نے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی غلطیوں کے بعد عدالتوں کا سامنا کریں اور اس کے بعد دوبارہ کاروبار شروع کریں۔

چیئرمین نیب اور سیکریٹری پاکستان ریلویز سید مظہر علی شاہ نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران نیب کی کارکردگی، سرکاری اراضی کی بازیابی، ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق تفصیلات بتائیں۔نیب کے مطابق 2026 کی تیسری سہ ماہی میں سرکاری اثاثوں کی بازیابی پہلی دو سہ ماہیوں کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ رہی۔ اس عرصے کے دوران 4 ہزار 280 متاثرین کو 90 کروڑ 84 لاکھ 20 ہزار روپے منتقل کیے گئے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور آئندہ پریس بریفنگ میں زمینوں سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام بھی ظاہر کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینوں پر قابضین سے مسروقہ مال برآمد کیا جائے گا اور کارروائی کے دوسرے مرحلے میں مزید ریکوری ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلویز کی زمینیں واگزار کرانے کے لیے متعلقہ محکمے کا تعاون ضروری تھا۔ نیب نے ریلوے کے ساتھ مل کر ایسا کام کیا ہے جو گزشتہ 75 سال میں نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات بھی بنائے جائیں گے اور ریکوری کے اعداد و شمار پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے زیادہ ہیں۔ نیب کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ریلویز کی 2 لاکھ 35 ہزار 622 کنال اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت 6.78 ٹریلین روپے بتائی گئی ہے۔ صوبائی محکموں کی 8 لاکھ 66 ہزار 299 ایکڑ اراضی بھی بازیاب کرائی گئی، جس کی مالیت 2.395 ٹریلین روپے بتائی گئی۔نیب کے مطابق نیب سکھر نے پاکستان ریلویز کی 5.06 ٹریلین روپے مالیت کی اراضی بازیاب کرائی، جبکہ نیب ملتان نے ریلوے کی 49 ہزار 426 کنال اراضی واگزار کرائی، جس کی مالیت 1.56 ٹریلین روپے بتائی گئی ہے۔اسی طرح نیب لاہور نے 563.07 ارب روپے مالیت کی صوبائی اراضی اور 156.10 ارب روپے مالیت کی ریلوے اراضی بازیاب کرانے کی اطلاع دی۔ نیب بلوچستان نے محکمہ جنگلات کی 8 لاکھ 11 ہزار 967 ایکڑ اراضی بازیاب کرائی۔

چیئرمین نیب نے واضح کیا کہ واگزار کرائی گئی زمین کی مالیت کے تخمینے میں اس پر موجود تعمیرات کی قیمت شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ متروکہ املاک کے معاملے میں بھی توقع سے زیادہ ریکوری کا امکان ہے۔ملک ریاض سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے سربراہ نے غلطیاں کی ہیں، انہیں عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے اور اس کے بعد دوبارہ کاروبار شروع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیسہ بنانے والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے اور زمینوں سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام بھی سامنے لائے جائیں گے۔ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں۔ ان مقدمات میں برطانیہ سے واپس آنے والی 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم سے متعلق القادر ٹرسٹ کیس اور بیرون ملک مبینہ منی لانڈرنگ کے معاملات شامل ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں وزارت داخلہ نے نیب کی سفارش پر دونوں کے پاسپورٹ بلاک کیے تھے، جبکہ احتساب عدالت نے اکتوبر 2025 میں انہیں اشتہاری قرار دیا تھا۔ اپریل 2026 میں چیئرمین نیب نے ان کے ریڈ نوٹس جاری کیے جانے سے متعلق بھی بتایا تھا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ادارے کی 37 ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ موجودہ کام مکمل ہونے کے بعد ٹیمیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان جائیں گی، جبکہ راولپنڈی میں بھی کارروائی کی جائے گی۔چیئرمین نیب نے کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لینے پڑتے ہیں، تاہم مالی اثاثوں کو بروئے کار لا کر ایم ایل ون اور سرکلر ریلوے جیسے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نیب نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ساتھ مل کر بھی کام کیا ہے اور 22 سال پرانے ہوٹل کا معاملہ حل کرایا ہے۔ ان کے مطابق ہوٹل کی تعمیر کے پہلے مرحلے کا آغاز آئندہ سال 15 جون تک ہوگا۔پاور سیکٹر کے حوالے سے چیئرمین نیب نے کہا کہ اس معاملے میں نیت صاف ہے اور کام کرکے نتائج دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق پاور سیکٹر میں کیے جانے والے اقدامات کے نتائج آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں سامنے آئیں گے، تاہم فی الحال چھوٹے ایس ڈی اوز کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ نیب ہیڈکوارٹرز میں تمام ریونیو کا کلاؤڈ اور کاپی شدہ ریکارڈ موجود ہے۔ ڈی جی وقار چوہان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ اچھے افسر ہیں اور انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی۔ چیئرمین نیب نے بتایا کہ سینیٹ کمیٹی میں 50 کروڑ روپے کی حد ختم کرنے کی تجویز دی گئی تھی، کیونکہ اب لوگ 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے معاہدے کرتے ہیں۔

نیب نے ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے تحت مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی نظام ’نیب آئی‘ (NAB EYE) متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

ادارے کے مطابق پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) نے تیسری سہ ماہی کے دوران افسران کی پیشہ ورانہ تربیت بھی جاری رکھی۔ اس سلسلے میں تین خصوصی کورسز، استعدادِ کار میں اضافے کا ایک کورس، ایک ورکشاپ، ایک لرننگ پروگرام اور ایک پروموشنل کورس منعقد کیا گیا۔چیئرمین نیب نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی بچوں کے حوالے سے کہا کہ ایک لاکھ 47 ہزار بچے بیرون ملک زیر تعلیم ہیں، جبکہ ان کے والدین ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں کو خطوط لکھنے پر والدین کی تفصیلات طلب کی جاتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ خلیجی جنگ کی وجہ سے پیسہ بیرون ملک جانے کا عمل رک گیا ہے اور اب رقم واپس آنا شروع ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت کے چیمپئن کہلانے والے ممالک نے بھی رقم واپس لانے کے لیے استثنیٰ دے رکھا ہے۔

سیکریٹری پاکستان ریلویز سید مظہر علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے چیئرمین نیب سے ریلوے کی زمینیں واگزار کرانے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق قومی مقصد کے لیے دونوں اداروں نے مل کر کام کیا، جس سے نمایاں پیش رفت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں واپس ملنے والی املاک انتہائی قیمتی ہیں اور ان سے حاصل ہونے والے وسائل ریلوے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ زمینوں کی کمرشلائزیشن کے مرحلے میں بھی نیب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔پراسیکیوٹر جنرل نیب سہیل ناصر نے کہا کہ پاکستان منی لانڈرنگ سے متاثرہ ملک ہے۔ چیئرمین نیب نے اس موقع پر واضح کیا کہ بار بار وقت دینے کے باوجود پیش نہ ہونے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور موجودہ حکومت میں ارکان صوبائی اسمبلی کے خلاف بھی مقدمات کھولے گئے ہیں