منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نیتن یاہو نے مشرقِ وسطیٰ کا ایک متنازع نقشہ پیش کر دیا


اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سیکیورٹی امور پر اپنے ایک خطاب کے دوران خطے کو تین بڑے بلاکوں یا محوروں میں تقسیم کرنے والا ایک نقشہ پیش کیا ہے-


سرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سیکیورٹی امور پر اپنے ایک اہم خطاب کے دوران مشرقِ وسطیٰ کا ایک متنازع نقشہ پیش کیا ہے، جس میں خطے کو مختلف بلاکس اور دھڑوں میں منقسم دکھایا گیا ہے۔ اس نقشے کی نمائش کے دوران انہوں نے خطے میں امن اور کشیدگی کے دو متضاد محوروں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی سلامتی کی حکمتِ عملی واضح کرنے کی کوشش کی۔


اس نقشے کے مطابق خطے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں اسرائیلی محور ،سعودی محور(یا سنی علاقائی بلاک) اور ایرانی محور شامل ہیں-


اسرائیلی محور میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات (UAE)، ایتھوپیا، بھارت، سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF)، صومالی باغی اور یمن کی جنوبی عبوری کونسل شامل ہیں۔


سعودی محور (یا سنّی/علاقائی بلاک)سعودی عرب، مصر، ترکیہ، پاکستان، کویت، قطر، شام اور اردن جیسے ممالک شامل ہیں-


ایرانی محور میں ایران، عراق، حزب اللہ اور انصار اللہ (حوثی تحریک) شامل ہیں-


نیتن یاہو نے ا س نقشے اور تقسیم کے ذریعے خطے میں طاقت کے نئے توازن اور کشیدگی کے مختلف محاذوں کی عکاسی کی ہے،نیتن یاہو کی جانب سے پیش کیے گئے اس جغرافیائی خاکے میں روایتی سیاسی سرحدوں کو پسِ پشت ڈال کر علاقائی اتحادوں اور مخالف دھڑوں کو نمایاں کیا گیا، جس پر بین الاقوامی سیاسی مبصرین اور سفارتی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانیے اور نقشوں کی نمائش سے خطے میں موجودہ کشیدگی اور جغرافیائی تقسیم کے خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔