امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، عالمی سیاست میں نئی صف بندی کا امکان،تجزیہ : شہزاد قریشی
نقطہ نظر
امریکہ میں کانگریس کے انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس کی کامیابی نے امریکی سیاست میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود رہیں گے، لیکن کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ان کی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔
اس تبدیلی کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ، مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یورپ اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ امریکی تعلقات میں نئی سفارتی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ روس اور یوکرین کی جنگ میں امریکی امداد اور حکمتِ عملی پر دوبارہ بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے حوالے سے امریکی پالیسی بھی کانگریس کی نگرانی اور اختلافات کا موضوع بن سکتی ہے۔
چین کے ساتھ تجارتی، دفاعی اور ٹیکنالوجی کی کشمکش میں بھی کوئی فوری تبدیلی متوقع نہیں، کیونکہ چین کے حوالے سے ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں کے اپنے سخت مؤقف موجود ہیں۔ دوسری جانب عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں، ڈالر اور سرمایہ کاری پر امریکی سیاسی کشمکش کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے بھی یہ تبدیلی اہم ہے۔ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کی بنیاد پر آگے بڑھانے ہوں گے۔ بھارت، افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات بھی امریکی پالیسی میں اہم رہیں گے۔
سیاسی اعتبار سے صدر ٹرمپ کے لیے آنے والے دو سال آسان نہیں ہوں گے۔ ڈیموکریٹس قانون سازی، بجٹ اور حکومتی پالیسیوں کی نگرانی میں اپنا کردار بڑھا سکتے ہیں، تاہم صدر کے آئینی اختیارات برقرار رہیں گے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ داخلی سیاسی اختلافات سے نکل کر عالمی قیادت کا اپنا کردار برقرار رکھ سکے گا؟ آنے والے دو سال اس حوالے سے اہم ہوں گے۔ دنیا کی نظریں اب واشنگٹن پر ہوں گی، کیونکہ امریکی سیاست میں طاقت کا یہ نیا توازن عالمی سفارت کاری، معیشت اور سلامتی کے معاملات پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں




