جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بانی پی ٹی آئی کے دور میں کالعدم جماعت ٹی ٹی پی کو واپس لایا گیا،شیری رحمان


پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ  ایک صوبہ الگ خارجہ پالیسی نہیں چلا سکتا، دہشت گردی کے خلاف جنگ مشترکہ طور پر لڑنا ہوگی، بانی پی ٹی آئی کے دور میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افراد کو واپس لایا گیا، اب ہمیں اپنی سرزمین پر ریا ستی عملداری بحال کرنا ہوگی-


پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے مذاکرات کو ترجیح دی گئی،پیپلز پارٹی تو خاص طور سے سگے دل سے آپ کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومت کو قائل کر کے آئی اور آپ ہمارے ساتھ مذاکراتی عمل میں بلکل مخلص تھے ۔ ہم سب مل کے ایک مشترکہ رائے عمل نکالنا چاہتے تھے-


انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر مذاکرات میں سنجیدہ تھے اور پیپلز پارٹی ان کے جذبے کی قدر کرتی ہے پیپلز پارٹی نے اس ملک کے لیے اپنے قائدین اور کارکنوں کا خون دیا ہے اور تاریخ کے زخموں سے بہت کچھ سیکھا ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پیپلز پارٹی ماورائے آئین کسی اقدام پر رضامندی ظاہر کر رہی ہے تو یہ غلط ہے، پیپلز پارٹی آئین بنانے والی اور اس کی قدر کرنے والی جماعت ہے۔


https://x.com/MahroshPervaiz1/status/2110642723174990027?s=20


انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افراد کو واپس لایا گیا، اب ہمیں اپنی سرزمین پر ریا ستی عملداری بحال کرنا ہوگی، دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاستی سطح پر مل کر لڑنا ضروری ہے اور ریاست کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے مذاکرات کے دوران اپوزیشن کے متعدد مطالبات تسلیم کیے گئے تھے اور اپوزیشن اپنے بیشتر مطالبات منوانے میں کامیاب ہوچکی تھی، اگر مذاکرات کامیاب ہوتے تو پولیس اور سیکیورٹی اداروں کا کردار مزید مؤثر ہوتا، تاہم اپوزیشن خود مذاکراتی عمل سے الگ ہوگئی، بیرونی اثر و رسوخ کے تحت بھی مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔


شیری رحمٰن نے نے کہا کہ لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست مسائل کا حل نہیں، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی مفاد کو تر جیح دینا ہوگی، ملک کو اس وقت متعدد مسائل کا سامنا ہے اور خطے کی صورتِ حال کے اثرات ہر فرد پر مرتب ہو رہے ہیں، قومی سانحات کا مقابلہ اتحاد اور یکجہتی سے کیا جاسکتا ہے، جبکہ دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع کے عوام کی مشکلات کا ادراک بھی ضروری ہے۔


انہوں نے کہا ہے کہ کسی ایک فرد کے بجائے ریاست اور عوامی مفاد کو مقدم رکھا جانا چاہیے، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے، سوچیں آپ جو معاہدہ کیے بغیر کس بند گلی میں چلے گئے ہیں، معاہدے پر دستخط ہوتے تو بانی کو تمام سہولتیں ہم یقینی بنانے میں ساتھ دیتے، ہمیں حب الوطنی کا کوئی درس نہ دے، رانا ثناء کو جیل میں ڈالا گیا کوئی ہنگامہ نہیں ہوا، فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا ہم نے کوئی لانگ مارچ نہیں کیا، مجھے میری سرزمین واپس دیں۔