تعلیم، شعور یا ڈگری؟ تحریر:انجینیئرعلی رضوان چوہدری
نقطہ نظر
ہمارے معاشرے میں ڈگری یافتہ افراد کی کمی نہیں، مگر شعور کی تلاش میں نکلیں تو قدم قدم پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہاتھوں میں اسناد ہیں، ناموں کے ساتھ القابات ہیں، دیواروں پر ڈگریاں سجی ہیں، مگر کردار میں وہ پختگی، گفتگو میں وہ شائستگی اور رویّوں میں وہ برداشت دکھائی نہیں دیتی جس کی توقع ایک تعلیم یافتہ انسان سے کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم کا مقصد صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا ہے، یا انسان کے اندر سوچنے، سمجھنے، پرکھنے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے؟
اگر ڈگری ہی تعلیم کی مکمل پہچان ہے تو پھر معاشرے میں جھوٹ، سفارش، بدعنوانی، عدم برداشت اور ناانصافی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی وضاحت کون کرے گا؟ اگر تعلیمی اداروں سے نکلنے والا ہر شخص باشعور بھی ہوتا ہے تو پھر معمولی اختلاف پر گالم گلوچ، معمولی مفاد کے لیے جھوٹ اور ذاتی فائدے کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرنے کا چلن کیوں عام ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو اکثر روزگار کے حصول، سماجی حیثیت اور ذاتی ترقی کا ذریعہ تو سمجھا، لیکن اس کے اصل مقصد یعنی کردار سازی، اخلاقی تربیت اور اجتماعی ذمہ داری کو پسِ پشت ڈال دیا۔
ہمارے ہاں بچے کے اسکول میں داخلے سے لے کر یونیورسٹی کی ڈگری تک والدین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان کا بچہ اچھے نمبروں سے کامیاب ہو، اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور اچھی ملازمت حاصل کر لے۔ یہ خواہش اپنی جگہ بالکل درست ہے، کیونکہ تعلیم انسان کو معاشی استحکام اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نمبروں کو قابلیت، ڈگری کو دانش مندی اور ملازمت کو کامیابی کا واحد معیار بنا دیا جائے۔
ہم بچوں سے پوچھتے ہیں کہ امتحان میں کتنے نمبر حاصل کیے، مگر یہ نہیں پوچھتے کہ انہوں نے کیا سیکھا۔ ہم ان کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں، مگر یہ جاننے کی کوشش کم کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے کمزور انسان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ ہم انہیں مقابلہ کرنا سکھاتے ہیں، مگر دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا نہیں سکھاتے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تعلیم یافتہ افراد بھی عملی زندگی میں ایسے فیصلے کرتے ہیں جو ان کی ڈگری سے زیادہ ان کی تربیت کی کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔
تعلیم انسان کو معلومات فراہم کرتی ہے، جبکہ شعور ان معلومات کو درست انداز میں استعمال کرنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کیسے کام کرتی ہے، جبکہ شعور ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ ہمیں اس دنیا میں اپنا کردار کس طرح ادا کرنا چاہیے۔
ڈگری حاصل کرنے والا شخص قانون کی دفعات جان سکتا ہے، لیکن باشعور انسان قانون کی روح اور انصاف کی اہمیت کو بھی سمجھتا ہے۔ ایک شخص معاشیات کی تعلیم حاصل کرکے دولت کمانے کے طریقے سیکھ سکتا ہے، مگر شعور اسے حلال کمائی، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کا سبق دیتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص اختلافِ رائے کے دلائل جان سکتا ہے، مگر باشعور شخص یہ بھی جانتا ہے کہ اختلاف کے باوجود دوسرے انسان کی عزت کیسے برقرار رکھی جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ڈگری کی اہمیت کم ہے یا ہر ڈگری یافتہ شخص بے شعور ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور فنی مہارت رکھنے والے افراد کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل اور دیگر ماہرین معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن جب علم کے ساتھ اخلاق، ذمہ داری اور انسانیت کا احساس شامل ہو جائے تو یہی تعلیم معاشرے کی حقیقی طاقت بن جاتی ہے۔
تعلیم و تربیت کی بنیاد گھر سے پڑتی ہے اور تعلیمی ادارے اس بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں۔ اگر اسکول اور کالج صرف نصاب مکمل کرنے، امتحانات لینے اور نتائج بہتر بنانے تک محدود ہو جائیں تو طلبہ کی شخصیت کے کئی اہم پہلو نظر انداز ہو سکتے ہیں۔
ہمارے تعلیمی نظام میں تنقیدی سوچ، اخلاقی تربیت، عملی مہارت، مکالمے اور سماجی ذمہ داری کو مناسب اہمیت دینا ضروری ہے۔ طالب علم کو صرف سوالات کے جواب یاد کروانے کے بجائے سوال اٹھانا، دلیل سے بات کرنا، تحقیق کرنا اور غلطی تسلیم کرنا بھی سکھایا جائے۔
استاد کا کردار محض کتاب پڑھانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک اچھا استاد اپنے کردار، دیانت داری، وقت کی پابندی اور طلبہ کے ساتھ منصفانہ رویّے کے ذریعے ایسی تربیت کرتا ہے جو برسوں تک طالب علم کی شخصیت کا حصہ رہتی ہے۔
اسی طرح والدین کو بھی بچوں کی کامیابی کو صرف نمبروں سے نہیں ناپنا چاہیے۔ انہیں سچ بولنے، بڑوں کا احترام کرنے، چھوٹوں سے شفقت کرنے، محنت کی قدر کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر انسان کی قابلیت سے زیادہ اس کے عہدے، دولت اور تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔ کسی شخص کے پاس بڑی ڈگری ہو تو اسے غیر معمولی سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص کم رسمی تعلیم کے باوجود دیانت دار، محنتی اور خدمتِ خلق کا جذبہ رکھنے والا ہو تو اسے وہ مقام نہیں ملتا جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔
ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ عزت کا تعلق صرف عہدے اور سند سے نہیں، بلکہ کردار اور رویّے سے بھی ہونا چاہیے۔ ایک معمولی ملازم اگر اپنا فرض دیانت داری سے ادا کرتا ہے تو وہ معاشرے کا قیمتی فرد ہے۔ ایک مزدور اگر محنت کی کمائی کھاتا اور اپنے خاندان کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے تو وہ عزت کا مستحق ہے۔ ایک دکاندار اگر ناپ تول میں دیانت داری اختیار کرتا ہے تو وہ بھی عملی طور پر معاشرتی اصلاح میں حصہ ڈال رہا ہے۔
دوسری طرف، اعلیٰ منصب پر بیٹھا ہوا شخص اگر اپنے اختیار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کی ڈگری اور عہدہ اس کی اخلاقی کمزوری کا جواز نہیں بن سکتے۔
اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ انسان اپنے علم، اختیار اور صلاحیت کو کس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ انہیں ڈگری ضرور حاصل کرنی چاہیے، جدید علوم سیکھنے چاہییں، ٹیکنالوجی میں مہارت پیدا کرنی چاہیے اور اپنے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن اس سفر میں کتاب، کردار اور شعور سے اپنا تعلق کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔
کامیابی کے لیے شارٹ کٹ تلاش کرنے کے بجائے محنت کو اپنا اصول بنائیں۔ دوسروں کی کامیابی سے حسد کرنے کے بجائے ان سے سیکھیں۔ سوشل میڈیا پر بحث کرنے سے پہلے تحقیق کریں اور اپنی رائے کو حتمی سچ سمجھنے کے بجائے دلیل سننے کا حوصلہ پیدا کریں۔معاشرے کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو صرف اچھی ملازمت حاصل کرنے کے خواہش مند نہ ہوں بلکہ اپنے علم اور صلاحیتوں سے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بھی پیدا کریں ۔
تعلیم اور شعور ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ڈگری انسان کے علم، محنت اور کسی مخصوص شعبے میں حاصل کردہ قابلیت کا ثبوت ہو سکتی ہے، جبکہ شعور اس قابلیت کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کا سلیقہ دیتا ہے۔
ہمیں ایسی تعلیم درکار ہے جو ذہن کو روشن کرے، کردار کو سنوارے، سوال کرنے کی جرأت دے، اختلاف برداشت کرنا سکھائے اور انسان کو اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والا بنائے۔ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف ڈگریوں کی تعداد بڑھانے پر فخر کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ ہماری تعلیم نے ہمیں کتنا بہتر انسان بنایا ہے۔ کتنے لوگ اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرتے ہیں، کتنے نوجوان میرٹ پر یقین رکھتے ہیں، کتنے بااختیار افراد کمزوروں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں اور کتنے تعلیم یافتہ لوگ معاشرے کی اصلاح کے لیے عملی کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر ہماری ڈگری ہمیں غرور، ہمارا علم ہمیں تکبر اور ہمارا عہدہ ہمیں دوسروں کی تذلیل سکھاتا ہے تو ہمیں اپنی تعلیم کے مقصد پر غور کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں





