تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟ تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
شہرِ قائد کی ایک مصروف اور ہنگامہ خیز شاہراہ پر ٹریفک کا سگنل بند تھا، جب میری نظر اپنے برابر میں کھڑی ایک مہنگی اور چمکتی ہوئی کار پر پڑی۔ گاڑی کے شیشے آہستہ سے نیچے ہوئے اور ایک نہایت نفیس، سوٹ بوٹ پہنے صاحب نے مشروب کا خالی ڈبہ بڑی بے نیازی اور لاپرواہی سے سڑک کے بیچوں بیچ پھینک دیا۔ اس ایک چھوٹے سے لمس اور منظر نے مجھے گہری اور تلخ سوچ میں ڈال دیا۔ میں نے سوچا کہ اس عالیشان گاڑی میں بیٹھا شخص یقیناً کسی بڑے اور نامور تعلیمی ادارے کا فارغ التحصیل ہوگا، اس کے پاس اعلیٰ ترین ڈگریاں ہوں گی، لیکن کیا وہ واقعی "تعلیم یافتہ" تھا؟ یہ وہ سلگتا ہوا سوال ہے جو آج ہمارے پورے معاشرے کے منہ پر ایک طمانچہ بن کر کھڑا ہے۔ ہم نے اپنے گھروں کی دیواروں پر ڈگریوں کے انبار تو لگا لیے، لیکن اپنے رویوں کے قحط کا شکار ہو گئے۔
ہمارا سب سے بڑا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'تعلیم' اور 'ڈگری' کو ایک ہی ترازو میں تولنا اور سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ ڈگری دراصل ایک تعلیمی ادارے کی جانب سے دی گئی وہ کاغذی رسید ہے جو صرف یہ بتاتی ہے کہ آپ نے اتنی فیس ادا کی اور چند طے شدہ کتابوں کو رٹ کر امتحان پاس کر لیا۔ یہ موجودہ دور کے معاشی نظام میں نوکری حاصل کرنے کا اجازت نامہ تو ہو سکتی ہے، لیکن انسانیت اور اخلاق کا سرٹیفکیٹ ہرگز نہیں ہو سکتی۔ علم تو وہ نور اور روشنی ہے جو انسان کے اندر کے اندھیرے کو مٹاتی ہے، جو لہجے میں دھیما پن، سوچ میں وسعت، دل میں ہمدردی اور رویوں میں عاجزی پیدا کرتی ہے۔ جب تعلیم سے یہ خصوصیات غائب ہو جائیں تو وہ علم نہیں بلکہ محض ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ بقول حکیم الامت علامہ اقبال:
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسة نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
آج کے دور کا سب سے ہولناک سچ یہ ہے کہ تعلیم اب خدمت یا عبادت نہیں رہی، بلکہ ایک منافع بخش اور بے رحم کاروبار بن چکی ہے۔ علم کے آستانے اب تجارتی منڈیاں بن چکے ہیں جہاں ڈگریاں قابلیت یا ذہانت پر نہیں، بلکہ بھاری رقم کے مطالبے پر فروخت ہوتی ہیں۔ گلی گلی میں کھلے نجی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں علم بانٹنے کے بجائے "مریض بنانے والے کارخانے" بن چکے ہیں، جہاں داخلہ فنڈز اور بھاری فیسوں کے نام پر والدین کی جیبیں کتری جاتی ہیں۔ غریب کا بچہ ٹیلنٹ اور خداداد صلاحیتیں ہونے کے باوجود تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رہ جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس ان نجی تعلیمی اداروں کی تجوریاں بھرنے کے لیے رقم نہیں ہوتی، جبکہ ایک امیر زادہ پیسے کے بل بوتے پر فخر سے ڈگری خرید کر معاشرے کا "کامیاب انسان" کہلاتا ہے۔ جب ڈگری حاصل کرنے کے لیے پیسے کا چلن اور رقم کا مطالبہ عام ہو جائے، تو وہاں سے نکلنے والے نوجوان پڑھے لکھے جاہل تو بن سکتے ہیں، صاحبِ شعور انسان نہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے اسی صورتحال پر کیا خوب کہا تھا:
ہے جگر چاک اس زمانے کے تعلیمی رنگ سے
ڈگری تو مل گئی مگر انسان نہ بن سکا-
اس کاروباری تعلیمی نظام کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے معاشرے سے 'انسانیت' کی اہمیت بالکل ختم ہو گئی ہے۔ ہر شخص ایک ایسی اندھی اور لایعنی دوڑ کا حصہ بن چکا ہے جس کی کوئی منزل اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ پڑوسی کو پڑوسی کی فکر ہے نہ بھائی کو بھائی کی؛ ہر کوئی بس ایک دوسرے سے آگے نکلنے، بڑی گاڑی، بڑا مکان اور زیادہ بینک بیلنس دکھانے کے جنون میں مبتلا ہے۔ اس مادی اور اندھی دوڑ نے ہمارے اندر سے ہمدردی، اخلاق اور ادب کا جنازہ نکال کر جلن، حسد اور کینے کے ناگ پال دیے ہیں۔ جب ہم کسی دوسرے کی کامیابی دیکھتے ہیں تو خوش ہونے کے بجائے حسد کی آگ میں جلنے لگتے ہیں۔ یہ حسد کیوں پیدا ہوا؟ کیونکہ ہمارا تعلیمی نظام ہمیں 'انسان' بننا اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا نہیں سکھاتا، بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دوڑانا اور حسد کرنا سکھاتا ہے۔ اسکول کی پہلی جماعت سے ہی بچے کے ذہن میں یہ زہر گھول دیا جاتا ہے کہ "تمہیں اول آنا ہے اور دوسرے کو پیچھے چھوڑنا ہے"۔ جب بچپن سے ہی تربیت کا معیار صرف مقابلہ بازی اور جلن ہو، تو بڑے ہو کر شخصیت میں شعور اور ادب کہاں سے آئے گا؟
یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا شعور کا تعلق واقعی کتب بینی یا یونیورسٹیوں کے چکر کاٹنے سے ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ شعور کسی خاص نصاب کا محتاج نہیں ہوتا۔ ہم نے دیہاتوں میں بیٹھے ان ان پڑھ بزرگوں کو دیکھا ہے جو کائنات کے رموز اور انسانی رشتوں کی نزاکتوں کو کسی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ عالم سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہوتی، لیکن ان کا شعور پختہ اور ان کا ظرف وسیع ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مہمان کا استقبال کیسے کرنا ہے، دکھ سکھ میں کسی کا ساتھ کیسے دینا ہے اور کسی کی دل آزاری سے کیسے بچنا ہے۔ اس کے برعکس، آج ہماری جامعات سے نکلنے والی نسل فصاحت و بلاغت کے ساتھ غیر ملکی زبان بولنا تو جانتی ہے، لیکن وہ عوامی ٹرانسپورٹ میں کسی ضعیف شخص یا حاملہ خاتون کو اپنی نشست دینے کا بنیادی اخلاق بھول چکی ہے۔ یہ فکری دیوالیہ پن اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے اپنے دماغوں کو معلومات کا گودام تو بنا لیا، لیکن دلوں کو احساس کی تڑپ سے محروم رکھا۔
اگر ہم دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک مناظر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہٹلر کی نازی فوج میں موجود گیس چیمبر بنانے والے انجینئرز، معصوم بچوں کو زہر دینے والے ڈاکٹرز اور گولیوں کا حکم دینے والے فوجی افسران کوئی ان پڑھ نہیں تھے، بلکہ وہ یورپ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے ڈگری هولڈرز تھے۔ ان کے پاس علم کی کمی نہیں تھی، لیکن ان کے اندر شعور، اخلاق اور انسانیت کا جنازہ نکل چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب تعلیم کا مقصد صرف مادی ترقی رہ جائے اور روح کی تربیت نہ ہو، تو وہ سائنسی ترقی انسان کو فرشتہ بنانے کے بجائے ایک پڑھا لکھا درندہ بنا دیتی ہے۔ واصف علی واصفؒ نے کیا خوب فرمایا تھا کہ "علم معلومات کا نام ہے اور شعور یہ جاننے کا نام ہے کہ کون سی معلومات کہاں استعمال کرنی ہیں"۔
پہلے زمانے میں تعلیمی اداروں کا بنیادی نعرہ "العلم و الادب" ہوا کرتا تھا، جہاں استاد کا احترام اور رویوں کی شائستگی سب سے مقدم سمجھی جاتی تھی۔ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا تھا، بلکہ وہ اپنی شخصیت کے پرتو سے طالب علم کے کردار کی تراش معاش کرتا تھا۔ آج وہ ادب مٹ چکا ہے کیونکہ اب استاد ایک محض تنخواہ دار ملازم ہے اور طالب علم ایک خریدار۔ اسٹوڈنٹس اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں، ڈگریاں اور دولت کے گھمنڈ میں بڑوں کا احترام بھول چکے ہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی سستی شہرت نے نوجوانوں سے ان کا خاندانی رکھ رکھاؤ بھی چھین لیا ہے۔ اگر ڈگری ملنے کے بعد انسان سے ادب اور انسانیت چھن جائے، تو وہ ڈگری کامیابی کی نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی دستاویز ہے۔ اگر تعلیم سے شعور پیدا نہ ہو، تو انسان صرف ایک ڈگری ہولڈر خودکار مشین بن کر رہ جاتا ہے:
مفلسِ فکر ہیں ڈگری کی سند والے بھی
آج کے دور میں انسان کہاں ملتا ہے؟
آج پاکستان کو ڈگریوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے بے حس نوجوانوں کی نہیں، بلکہ صاحبِ شعور اور صاحبِ ادب دماغوں کی ضرورت ہے۔ جب تک ہمارا تعلیمی نظام رٹہ کلچر، پیسوں کی منڈی اور نمبروں کی اندھی دوڑ سے نکل کر اخلاقی تربیت اور شعور بیدار کرنے پر توجہ نہیں دے گا، ہم ڈگری یافتہ جاہلوں کی کھیپ تو تیار کرتے رہیں گے مگر ایک مہذب معاشرہ نہیں بن پائیں گے۔ ہمیں جاگنا ہوگا اور تعلیم کے اس تجارتی نظام کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، کیونکہ ڈگری صرف پیٹ پالنے کا ذریعہ ہے، جبکہ شعور زندگی گزارنے کا فن اور انسانیت کا احترام سکھاتا ہے۔ ہمیں ڈگریوں کی اینٹوں پر کھڑی اس مادی منڈی کو مسمار کر کے دوبارہ 'ادب، اخلاق اور شعور' کے سچے مدرسوں کی طرف لوٹنا ہوگا، ورنہ ہماری آنے والی نسلیں صرف کاغذ کے ٹکڑے سمیٹتی رہ جائیں گی اور معاشرے کے رویے ریت کی طرح بکھرتے رہیں گے، اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
مزید پڑھیں





