اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟تحریر: انیم چوہدری

نقطہ نظر

جامعہ کی بلند و بالا عمارت کے سامنے ایک بوڑھا شخص اپنی سائیکل کی دکان سجائے بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر وقت کی جھریاں تھیں، ہاتھوں پر محنت کے نشان اور آنکھوں میں ایک ایسی تھکن جو شاید برسوں کی مزدوری سے نہیں، کسی اپنے کو کھو دینے سے پیدا ہوتی ہے۔اس کا نام رحیم بخش تھا۔ لوگ اسے بابا رحیم کہتے تھے۔ وہ روز صبح جامعہ کے دروازے کے قریب آ بیٹھتا، سائیکلوں کے پنکچر لگاتا اور شام کو چند سو روپے لے کر گھر لوٹ جاتا۔ اس کی زندگی کا دائرہ چھوٹا تھا، مگر اس دائرے میں ایک زمانے تک اس کا بیٹا بھی شامل تھا۔ اب گھر میں اس کی آواز نہیں تھی؛ صرف ایک پرانی تصویر تھی، جسے بابا رحیم ہر رات سونے سے پہلے دیکھتا تھا۔اسی جامعہ میں ارشد نام کا ایک نوجوان پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ اس کے پاس اعلیٰ ڈگریاں تھیں، انگریزی میں گفتگو کا سلیقہ تھا اور اپنی قابلیت پر ایسا اعتماد کہ اسے عام لوگوں کی باتیں اکثر بے معنی محسوس ہوتیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ تعلیم انسان کو دوسروں سے بلند کر دیتی ہے۔ایک صبح وہ جامعہ کے دروازے سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر بابا رحیم پر پڑی۔ بوڑھا ایک طالب علم کی سائیکل کا پنکچر لگا رہا تھا۔ اس کے کانپتے ہاتھوں سے اوزار بار بار پھسل رہے تھے۔ارشد نے حقارت سے کہا، ’’بابا، اب اس عمر میں بھی یہی کام؟ کبھی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی؟‘‘بابا رحیم نے سر اٹھایا۔ اس کے لبوں پر ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ ابھری۔’’بیٹا، ہر کسی کو آگے بڑھنے کا موقع کہاں ملتا ہے؟ کچھ لوگ دوسروں کو آگے بڑھانے میں اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔‘‘ارشد ہنس پڑا۔’’یہ باتیں کتابوں میں اچھی لگتی ہیں، بابا! آج کے دور میں ڈگری کے بغیر انسان کی کوئی حیثیت نہیں۔‘‘بوڑھے کے ہاتھ لمحے بھر کے لیے رک گئے۔ اس نے کچھ کہنا چاہا، مگر پھر خاموشی سے دوبارہ پنکچر لگانے لگا۔ شاید اس نے زندگی میں اتنے زخم دیکھ لیے تھے کہ ایک اور تلخ جملے کا جواب دینا اسے ضروری نہیں لگا۔یہ منظر جامعہ کے پروفیسر اسلم نے دیکھ لیا تھا۔ وہ ارشد کے استاد تھے۔ انہوں نے اسے اپنے کمرے میں بلایا۔

’’ارشد! تمہارے خیال میں تعلیم کیا ہے؟‘‘

ارشد نے فوراً جواب دیا، ’’علم حاصل کرنا، تحقیق کرنا، اعلیٰ ڈگری لینا اور معاشرے میں مقام بنانا۔‘‘

پروفیسر نے پوچھا، ’’اور اگر یہ سب حاصل کرنے کے بعد انسان کسی مجبور کی عزت کرنا نہ سیکھے تو؟‘‘

ارشد نے قدرے بے پروائی سے کہا، ’’سر، ہر شخص کو اپنی حیثیت کے مطابق رہنا چاہیے۔ دنیا جذبات سے نہیں، قابلیت سے چلتی ہے۔‘‘پروفیسر اسلم نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ بابا رحیم اب ایک پرانی سائیکل کا پہیہ کھول رہا تھا۔

’’کبھی کبھی، ارشد، انسان کتابوں کے اتنے صفحے پڑھ لیتا ہے کہ اسے اپنے سامنے بیٹھا ہوا انسان پڑھنا ہی نہیں آتا۔‘‘

ارشد خاموش رہا، مگر اس کے چہرے پر اختلاف اب بھی نمایاں تھا۔چند دن بعد جامعہ میں ایک تقریب ہوئی۔ طلبہ نے اپنی تحقیقی کامیابیوں پر تقاریر کیں۔ ارشد نے بھی نہایت پُراعتماد انداز میں خطاب کیا۔ اس نے کہا کہ تعلیم ہی انسان کو جہالت سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اسٹیج سے اترتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس نے اپنی قابلیت کا ایک اور ثبوت دے دیا ہو۔تقریب کے بعد وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ بابا رحیم کی دکان کے سامنے چند لوگ جمع ہیں۔ ایک نوجوان غصے میں بوڑھے پر چیخ رہا تھا۔’’تم نے میری سائیکل خراب کر دی ہے! تم جیسے لوگوں کو کام ہی نہیں آتا۔ پیسے واپس کرو!‘‘بابا رحیم بار بار وضاحت کر رہا تھا کہ سائیکل پہلے ہی خراب تھی، مگر نوجوان سننے کو تیار نہ تھا۔ اس نے غصے میں بوڑھے کے اوزار زمین پر پھینک دیے ارشد وہیں رک گیا۔اسے چند دن پہلے کے اپنے الفاظ یاد آئے۔ وہ بھی تو اسی طرح ایک محنت کش کی عزت کو اس کی غربت کے ترازو میں تول چکا تھا۔اسی دوران بابا رحیم جھک کر اپنے اوزار سمیٹنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تصویر تھی، جو زمین پر گر کر کیچڑ سے آلودہ ہو گئی تھی۔ اس نے بڑی احتیاط سے اسے صاف کیا، جیسے کاغذ پر نہیں، کسی اپنے کے چہرے سے مٹی ہٹا رہا ہو۔

ارشد نے پوچھا، ’’بابا، یہ کس کی تصویر ہے؟‘‘

بوڑھے کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

’’میرے بیٹے کی۔ بہت پڑھنا چاہتا تھا۔ کہتا تھا، ابا، ایک دن آپ کو اس کام سے آزاد کر دوں گا۔ آپ کے ہاتھوں کے یہ زخم ختم ہو جائیں گے۔‘‘

وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر اس کی آواز بھرا گئی۔ ’’مگر قسمت نے مہلت نہ دی، بیٹا۔ وہ ایک حادثے میں چلا گیا۔ اس کے بعد گھر بھی وہی ہے، دکان بھی وہی، مگر زندگی میں سے زندگی نکل گئی۔ اب میں کام اس لیے نہیں کرتا کہ مجھے پیسوں سے محبت ہے؛ میں کام کرتا ہوں تاکہ اس کے خوابوں کے ساتھ جڑی یادیں زندہ رہیں۔‘‘ارشد کی نگاہیں جھک گئیں۔بابا رحیم نے تصویر اپنے سینے سے لگائی اور دھیرے سے کہا، ’’وہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننا چاہتا تھا۔ میں اسے کہتا تھا، بیٹا، بڑا آدمی وہ نہیں جو اونچی کرسی پر بیٹھے؛ بڑا وہ ہے جس کے پاس بیٹھ کر کسی چھوٹے انسان کو اپنی بے قدری محسوس نہ ہو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے بوڑھے نے اپنے آنسو چھپانے کے لیے چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔ارشد کے اندر جیسے کوئی بند دروازہ کھل گیا۔ اسے اپنی ڈگریاں یاد آئیں، اپنے خطابات، اپنے تحقیقی مقالے اور وہ تالیاں جو چند لمحے پہلے اس کے لیے بجی تھیں۔ پھر اسے بابا رحیم کے کانپتے ہاتھ دکھائی دیے، جو کسی کی سائیکل درست کرتے ہوئے بھی اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔اسے پہلی بار احساس ہوا کہ شاید اس نے بہت کچھ پڑھا تھا، مگر ابھی تک انسان کو سمجھنا نہیں سیکھا تھا۔وہ آگے بڑھا، زمین پر بکھرے اوزار سمیٹے اور بابا رحیم کے سامنے بیٹھ گیا۔

’’بابا، مجھے معاف کر دیجیے۔ میں سمجھتا تھا کہ میں تعلیم یافتہ ہوں، مگر آج معلوم ہوا کہ میری تعلیم کے درمیان ابھی ایک دیوار کھڑی ہے۔ کاغذ کی دیوار۔ اس پر میری ڈگریاں لکھی ہیں، مگر اس کے پار مجھے انسان دکھائی نہیں دیتے۔‘‘

بابا رحیم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔

’’بیٹا، غلطی مان لینے والا انسان ابھی خالی نہیں ہوتا۔ اس کے اندر سیکھنے کی جگہ باقی ہوتی ہے۔‘‘اگلے دن پروفیسر اسلم نے کلاس میں ارشد سے پوچھا، ’’تو بتاؤ، تم نے تعلیم سے کیا سیکھا؟‘‘ارشد نے سر جھکا کر جواب دیا، ’’سر، میں نے برسوں کتابوں سے جواب تلاش کیے۔ کل ایک ایسے شخص نے مجھے وہ سوال سمجھا دیا جسے میں کبھی سوال سمجھتا ہی نہیں تھا: اگر میری تعلیم کسی دوسرے انسان کے دکھ کو محسوس نہیں کر سکتی، تو اس تعلیم کا فائدہ کیا ہے؟‘‘پروفیسر مسکرائے، مگر ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔’’ارشد، ڈگری تمہیں کسی منصب تک پہنچا سکتی ہے، مگر شعور ہی تمہیں انسان بناتا ہے۔ یاد رکھو، کتاب کا علم اس وقت تک ادھورا ہے جب تک وہ دل میں احساس اور کردار میں عاجزی پیدا نہ کرے۔‘‘اس روز ارشد نے اپنی ڈگری نہیں چھپائی، نہ اسے جھٹلایا۔ اس نے صرف یہ سمجھ لیا کہ ڈگری اس کی قابلیت کا ثبوت ہو سکتی ہے، اس کی انسانیت کا نہیں۔اور جامعہ کے دروازے کے باہر، بابا رحیم حسبِ معمول اپنی دکان پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ اب بھی کانپتے تھے، اس کی آنکھیں اب بھی اپنے بیٹے کو یاد کرتی تھیں، اور اس کی زندگی اب بھی مشکل تھی۔فرق صرف اتنا تھا کہ اب ایک نوجوان اس کے پاس سے گزرتے ہوئے نظریں نہیں چراتا تھا۔کیونکہ اس نے جان لیا تھا کہ بعض اوقات سب سے بڑی درس گاہ کسی عظیم عمارت کے اندر نہیں، بلکہ اس کے دروازے کے باہر بیٹھے ایک ٹوٹے دل انسان کے پاس ہوتی ہے۔

ڈگری دیوار پر سجائی جا سکتی ہے، مگر شعور وہ روشنی ہے جو انسان کے اندر جلتی ہے۔ اور جس دل میں یہ روشنی نہ ہو، اس کی ساری تعلیم کاغذ کی ایک دیوار کے سوا کچھ نہیں۔