اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم، شعور یا صرف ڈگری،تحریر:عقیل خان

نقطہ نظر
aqeel khan blog

تعلیم صرف کتابیں پڑھنے کا نام نہیں۔تعلیم کا مطلب ہے - انسان کے اندر سوئی ہوئی انسانیت کو جگانا۔دوسرے لفظوں میں تعلیم جیسے اندھیرے میں ٹارچ آپ کو راستہ دکھاتی ہے، ویسے ہی تعلیم آپ کو زندگی میں صحیح اور غلط کا راستہ دکھاتی ہے۔ان پڑھ آدمی کو سب راستے ایک جیسے لگتے ہیں۔تعلیم یافتہ کو پتا ہوتا ہے کہ کون سا راستہ جنت کی طرف جاتا ہے اور کون سا جہنم کی طرف۔انسان میں فرق صرف تعلیم کا ہے جو اسے سکھاتی ہے بڑوں سے کیسے بات کرنی ہے چھوٹوں سے کیسے پیش آنا ہے۔ا

حضرت علیؓ نے فرمایا:"تعلیم تمہیں تمہارے نفس سے نکال کر حق تک لے جاتی ہے۔"اگر آپ نے 10 کتابیں پڑھ کر بھی دوسروں سے نفرت کرنا سیکھی، تو آپ تعلیم یافتہ نہیں جاہل ہیں۔

آج سے تیس سال پہلے گاؤں میں ایک ہی میٹرک پاس ہوتا تھا، پورا گاؤں اس سے مشورہ لیتا تھاکیونکہ وہ ہی پڑھا لکھا ہوتا تھااورآج ہر گھر میں ایم اے پاس ہیں لیکن گھر میں مشورہ کرنے والا کوئی نہیں۔یہ ہے ہماری تعلیم کا المیہ۔ہم نے ڈگریاں تو بنا لیں، شعور نہیں بنایا۔ڈگری اور شعور میں فرق؟ڈگری یہ بتاتی ہے کہ آپ نے کتاب کتنی یاد کی ہے۔

ڈگری اور شعور میں وہی فرق ہے جو "علم" اور "عمل" میں ہوتا ہے۔ ڈگری آپ کو کسی اچھی کمپنی میں نوکری دلا سکتی ہے، آپ کا بینک بیلنس بڑھا سکتی ہے اور آپ کو معاشرے میں ایک معزز عہدہ دے سکتی ہے۔ لیکن شعور؟ شعور آپ کو انسانیت سکھاتا ہے۔ شعور آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ آپ کی وجہ سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ ڈگری یافتہ شخص تو بہت مل جاتے ہیں، لیکن "شعور یافتہ" انسانوں کا قحط ہے۔ جب تک ہماری تعلیم ہماری سوچ میں تبدیلی نہیں لائے گی، جب تک ہماری ڈگریاں ہمارے اخلاق کو بہتر نہیں کریں گی، تب تک ہم ڈگری یافتہ تو کہلا سکتے ہیں، تعلیم یافتہ نہیں۔

ہمیں ڈگری کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ ڈگری یقیناً ضروری ہے۔ جدید دنیا میں پیشہ ورانہ تعلیم، مہارت اور علمی قابلیت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ ڈاکٹر کو طب کا علم، انجینئر کو انجینئرنگ کی تعلیم اور استاد کو تدریس کی تربیت درکار ہے۔ مسئلہ ڈگری نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ڈگری کو تعلیم کا آخری مقصد بنا دیا ہے۔

ہمارا نظام کیا پیدا کر رہا ہے؟ہمارے سکول، کالج، یونیورسٹیاں "تعلیم تو دے رہی ہیں مگر شعور ان کو باہر سے سیکھنا پڑتا ہے۔ ہم بچے کو بتاتے ہیں کہ آپ نے امتحان میں، بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنی ہے اسکو کتابی کیڑا بنا دیا جاتا ہے لیکن اس کو شعور کی چیزیں نہیں سکھائی جاتیں۔ جاپان اور ہم میں یہی فرق جاپان میں پہلے 4 سال بچے کو کوئی امتحان نہیں دینا پڑتا۔ صرف اخلاق، صفائی، دوسروں کا احترام سکھایا جاتا ہے۔ہمارے ہاں نرسری کے بچے کو بھی "پوزیشن" کا ٹینشن دے دیتے ہیں۔ وہ کتاب کا بوجھ تو اٹھا لیتا ہے، لیکن زندگی کا بوجھ نہیں اٹھا پاتا۔

ڈگری سے پہلے تربیت کریں۔ بچے کو ڈاکٹر، انجینئر بنانے سے پہلے انسان بنائیں۔اگر آپ کے پاس ڈگری ہے لیکن آپ اپنے گاؤں کی گلی صاف نہیں کر سکتے، بڑوں سے ادب سے بات نہیں کر سکتے، اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے، تو یقین کریں آپ تعلیم یافتہ نہیں، صرف ڈگری یافتہ ہیں۔ ایسے نوجوان جو سوشل میڈیا پر ہر خبر کو بغیر تحقیق کے آگے نہ بڑھائیں۔ ایسے شہری جو افواہ اور حقیقت میں فرق کرسکیں۔ ایسے ووٹر جو شخصیت، برادری یا جذبات کے بجائے کارکردگی اور اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ ایسے ملازمین جو رشوت کو ”معمول“ سمجھ کر قبول نہ کریں۔ ایسے کاروباری افراد جو منافع کے ساتھ دیانت کو بھی اہمیت دیں۔ ایسے استاد جو صرف نصاب نہ پڑھائیں بلکہ کردار بھی تعمیرکریں۔ یہ سب شعور سے آتا ہے نہ ڈگری حاصل کرنے سے آتاہے۔

یاد رکھیں:

ڈگری دروازے کھولتی ہے اورشعور منزل دکھاتا ہے۔

ڈگری آپ کو نوکری دلوا سکتی ہے،لیکن شعور ہی آپ کو عزت دلوائے

آخر میں ایک سوال اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں نمبروں کی اس اندھی دوڑ اور گریڈز کے خبط سے باہر نکلنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو صرف ڈگریاں چھاپنے والے کارخانے بننے سے روکنا ہوگا اور وہاں کردار سازی پر توجہ دینی ہوگی۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں سے صرف رزلٹ کارڈ پر 90 فیصد نمبروں کا مطالبہ نہ کریں، بلکہ ان کے اخلاق، ان کے رویوں اور ان کے شعور پر بھی نظر رکھیں۔ یاد رکھیے، ڈگری صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جو وقت کے ساتھ پھٹ سکتا ہے یا پرانا ہو سکتا ہے، لیکن شعور وہ خوشبو ہے جو انسان کے کردار سے ہمیشہ مہکتی رہتی ہے۔