تعلیم: شعور یا صرف ڈگری؟ تحریر:دانیال حسن چغتائی
نقطہ نظر
کائناتِ انسانی کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان کا شرف و امتیاز نہ تو اس کی جثّت و قوَت پر منحصر رہا ہے اور نہ ہی اس کے مادی وسائل پر، بلکہ انسان کی ارتقائی منزلوں کا محرک علم رہا ہے۔ علم وہ گوہرِ نایاب ہے جس نے بشر کو مسجودِ ملائک بنایا اور تنویرِ فکر کی وہ مشعل عطا کی جس کی تابانی سے تاریک زاویئے منور ہوئے۔ لیکن حیف کہ عصرِ حاضر میں مادیت پسندی اور ظاہرداری کا غلبہ ہے، علم کی حقیقی روح کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ ہم نے علم کے لغوی و معنوی مفہوم کو ڈگریوں تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تعلیمی اداروں سے حاصل کردہ سند تعلیم کی معراج ہے؟ یا تعلیم کا مقصد انسان کے اندر بصیرت اور شعور کو بیدار کرنا ہے؟
لغوی و اصطلاحی اعتبار سے ڈگری وہ سند ہے جو یہ تصدیق کرتی ہے کہ کسی فرد نے مخصوص شعبہٴعلم میں معین نصاب کو مقررہ مدّت کے اندر پڑھ کر اور امتحان پاس کر کے مکمل کر لیا ہے۔
تخصصی علوم جیسے کہ طب، انجینئرنگ، قانون اور جدید ٹیکنالوجی میں ڈگری کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ڈگری فرد کی فنی صلاحیت اور تخصصی مہارت کا ثبوت فراہم کرتی ہے، جو معاشی استحکام اور پیشہ ورانہ زندگی کا نقطہ آغاز ثابت ہوتی ہے۔ تاہم، جب ڈگری کو علم کا متبادل اور انسان کی فکری و اخلاقی بلندی کا معیار فرض کر لیا جائے تو یہیں سے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔
ڈگری انسان کو نوکری فراہم کر سکتی ہے لیکن وہ انسان کے اندر حلم، عاجزی، تنقیدی تفکر اور حق و باطل میں تمیز کی صلاحیت پیدا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔
ارسطو، افلاطون سے لے کر مولانا روم اور علامہ اقبال تک، تمام حکماء اور مفکرین کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ علم کا مقصد انسان کی خود شناسی اور کائنات شناسی ہے۔ اور یہی بیداریِ درون دراصل شعور ہے۔
شعور سے مراد باطنی روشنی ہے جو انسان کو فہم عطا کرتی ہے۔ شعور انسان کو اپنے حقوق و فرائض کا ادراک سکھاتا ہے۔ فرد کو معاشرتی ناانصافی، جبر اور جھوٹ کے سامنے کلمہ حق کہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ انا، تکبر اور تعصب کو خاک میں ملا کر اس کے اندر انسانیت سے محبت اور خدمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
اگر تعلیم کے نتیجے میں بیداریِ شعور حاصل نہ ہو، تو وہ بیکار ہے۔ قرآنِ کریم نے ایسے فاضلین کی مثال جو علم کے بنیادی مقصد اور روح سے ناآشنا ہوں، اس کتابی بار سے دی ہے جو گدھے کی پیٹھ پر لدا ہوا ہو۔
اگر ڈگری ہی تعلیم کی روح ہوتی تو جدید دنیا جس میں ڈگری ہولڈرز کی تعداد تاریخ میں سب سے زیادہ ہے، اخلاقی اور فکری اعتبار سے سب سے زیادہ متوازن اور امن پسند ہوتی لیکن حقائق اس کے برعکس دردناک داستان سناتے ہیں۔۔
آج ہمارے معاشرے میں اعلیٰ ترین ڈگریوں کے حامل افراد تعصب، فرقہ واریت اور عدم برداشت کا شکار نظر آتے ہیں۔ دنیا بھر میں اربوں ڈالر کے مالیاتی دھوکے ، سائنسی و صنعتی تباہ کاری اور سیاسی سازشیں عام طور پر ان پڑھ لوگ نہیں کرتے، بلکہ دنیا کی نامور یونیورسٹیوں سے گریجویٹ شدہ ڈگری ہولڈرز کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا قاطع ثبوت ہے کہ ڈگری انسان کو فنی طور پر ماہر تو بنا سکتی ہے لیکن اسے اخلاقی طور پر معتبر اور صاحبِ شعور نہیں بنا سکتی۔
صاحبِ ڈگری فرد اکثر تقلیدِ جامد کا شکار ہوتا ہے۔ وہ جو نصاب میں پڑھتا ہے اسے بغیر سوچے سمجھے دہراتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس، صاحبِ شعور فرد حوادثِ عالم پر تنقیدی نظر رکھتا ہے، سوال قائم کرتا ہے اور تخلیقی حل تلاش کرتا ہے۔
علامہ اقبال نے اسی فکری انحطاط پر ماتم کرتے ہوئے فرمایا تھا:
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
> کہاں سے آئے صدا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے ڈگری ملز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ تعلیم کو نفع بخش تجارت بنا دیا گیا ہے جہاں مقصد صرف یہ ہے کہ طالبِ علم کو حفظ شدہ مواد کا امتحان لے کر ایک سند جاری کر دی جائے تا کہ وہ مارکیٹ میں معاشی پرزے کے طور پر کھپ سکے۔
نصابِ تعلیم سے فلسفہ، اخلاقیات، تاریخ اور ادبیات کو خارج یا ثانوی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہم ایسی نسلیں تیار کر رہے ہیں جو ٹیکنالوجی اور سائنس میں تو طاق ہیں لیکن انسانی رشتوں، اخلاقی اقدار اور اجتماعی ذمہ داریوں کے ادراک سے مکمل طور پر عاری ہیں۔
ڈگری جسد ہے جبکہ شعور اس کی روح ہے۔ بلا روح کا جسم جیسے بے جان لاش کے سوا کچھ نہیں، ویسے ہی بلا شعور کی ڈگری جہالت کا خطرناک روپ ہے۔ ڈگری فرد کی ذاتی حاجت تو ہو سکتی ہے مگر کسی قوم کی حیات، ترقی اور بقا کا دارومدار صرف اور صرف اس کے افراد کے بیدار شعور پر ہوتا ہے۔
اگر ہمیں متوازن، پرامن اور متمدن معاشرہ تشکیل دینا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں نصاب میں حفظ و یادداشت کے بجائے تنقیدی تفکر اور فلسفیانہ تجزیے کو شامل کرنا ہوگا۔
تعلیمی اداروں کو نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے شخصیت سازی اور اخلاقی تربیت کا مرکز بنانا ہوگا۔
ڈگریوں اور اسناد کی ظاہری چمک دمک کے بجائے فرد کے کردار، رویے اور بیداریِ فکر کو اس کی تعلیم کا معیار تسلیم کرنا ہوگا۔
بقولِ شاعر:
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ مئے ہے کہ جس میں جوش نہیں
زندگی ذوقِ پرواز ہے بس
اس کے علاوہ کچھ اور ہوش نہیں
تعلیم کا مقصد کاغذی اسناد کے انبار لگانا نہیں بلکہ انسان کے اندر کے انسان کو بیدار کرنا، اسے کائنات کے اسرار سے آگاہ کرنا اور اسے سچائی، حسنِ خیر کا علمبردار بنانا ہے۔ جب تک تعلیم بیداریِ شعور کا ذریعہ نہیں بنتی، تب تک ڈگری فریب اور عصرِ حاضر کا سب سے بڑا مغالطہ ہی رہے گی۔
مزید پڑھیں





