تعلیم خواہ وہ دنیاوی ہو یا دینی ، ایک ایسا طریقۂ کار اور نظام ہے جس کے تحت کسی تعلیمی ادارے میں مقرر کردہ استاد کی رہنمائی میں علم حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک طے شدہ مدت مکمل کرنے کے بعد ادارے کی جانب سے طالب علم کو ڈگری یا سند دی جاتی ہے۔ ڈگری کے معنی حاصل کردہ تعلیم کی باقاعدہ دستاویز کے ہیں، جو کسی تعلیمی ادارے کی جانب سے مخصوص تعلیم مکمل کرنے پر دی جاتی ہے۔ جبکہ شعور کا تعلیم اور ڈگری سے باقاعدہ طور پر کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شعور ایک ایسی فہم و فراست اور آگہی کا نام ہے جو انسان کو صحیح اور غلط، اچھے اور برے کی پہچان کرواتی ہے۔ اس کے حصول کے لیے کسی باقاعده استاد یا تعلیمی ادارے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ شعور انسان کی تربیت، زندگی کے تجربات، اردگرد کے ماحول، مشاہدے اور غور و فکر کے ذریعے پروان چڑھتا ہے۔
لفظی طور پر تعلیم عربی زبان سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں سکھانا، علم دینا اور آگاه کرنا۔جبکہ اصطلاحی طور پر یہ نسل در نسل خاص و عام کتابی معلومات، معاشرتی اقدار اور ہنر منتقل کرنے کا منظم عمل ہے۔ لفظی طور پر شعور بھی عربی زبان سے ماخوذ ہے اس کے بنیادی معنی جاننا ، ادراک کرنا یاکسی چیز سے باخبر ہونے کےہے۔
تعلیم اور شعور دو ایسے الفاظ ہیں جو اپنے اندر جامع اور وسیع مفہوم رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں الفاظ مترادف نہیں ہیں، لیکن ہم نے انہیں ایک دوسرے سے اس قدر منسلک کر دیا ہے کہ اکثر تعلیم کو ہی شعور کا پیمانہ سمجھ لیا جاتا ہے۔
تعلیم انسان کو علم دیتی ہے، مگر شعور اسے اس علم کو سمجھنے اور درست طریقے سے استعمال کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ ایک شخص اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود بے حس، خودغرض اور دوسروں کے دکھ درد سے بے خبر ہو سکتا ہے، کیونکہ محض علم حاصل کر لینا باشعور ہونے کی ضمانت نہیں۔ اسی طرح ایک کم تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ شخص بھی اپنے تجربات، مشاہدے، احساس اور درست و غلط کی پہچان کے باعث باشعور ہو سکتا ہے۔ اس لیے تعلیم اور شعور کا آپس میں تعلق تو ہے، مگر دونوں کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔
تعلیم شعور ہے یا ڈگری یہ طے کرنے سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ تعلیم کس طرح کے ادارے سے حاصل کی جا رہی ہے۔ اگر کسی تعلیمی ادارے کے نصاب اور تدریسی عمل میں شعور کو اس انداز سے شامل کیا گیا ہو کہ وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے رویوں، طرزِ فکر اور کردار میں اس کی جھلک نمایاں نظر آئے تو یقیناً تعلیم ایک شعور ہے۔ ایسی تعلیم انسان کو صرف پڑھنا لکھنا یا روزگار کمانا نہیں سکھاتی بلکہ اسے اپنے حقوق و فرائض، معاشرتی ذمہ داریوں اور درست و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی عطا کرتی ہے۔
لیکن اگر کوئی ادارہ تعلیم کے نام پر محض کتابی مواد پڑھانے اور امتحانات میں کامیابی کے ذریعے ڈگریاں دینے تک محدود ہو، جہاں طالبعلم کی فکری اور اخلاقی تربیت کی کوئی اہمیت نہ ہو، تو پھر ایسی تعلیم محض ایک ڈگری بن کر رہ جاتی ہے۔کیونکہ ڈگری کسی شخص کی تعلیمی قابلیت کا ثبوت تو ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باشعور ہونے کی ضمانت نہیں۔
تعلیم کا تعلق علم حاصل کرنے سے ہے، جبکہ شعور کا تعلق اس علم کو سمجھنے، اس کا درست استعمال کرنے اور اپنے عمل کے نتائج کو پہچاننے سے ہے۔اسی لیے اگر تعلیم کا استعمال معاشرتی اقدار کے مدِنظر رکھتے ہوئے کیا جائے اورمعاشرہ ہر حال میں اس سے مستفید ہو رہا ہے چاہے اس کے لیے معاوضہ ادا کیا جائے یا نہ کیا جائے،تو ایسی تعلیم محض ایک ڈگری نہیں ایک باشعور ڈگری بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا، ذاتی مفادات کا تحفظ اور مالی فوائد کا حصول ہو، اور اس میں معاشرتی اقدار، اخلاقیات اور اجتماعی بھلائی کو نظرانداز کر دیا جائے، تو ایسی تعلیم شعور کے بجائے محض ایک ڈگری بن جاتی ہے۔
آج کل تعلیم کو زیادہ تر ڈگری، اچھے نمبروں اور روزگار کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ طلبہ کا مقصد امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا اور اچھی ملازمت پانا بن کر رہ گیا ہے، جبکہ تعلیم کا ایک اہم مقصد سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور درست و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ تعلیم صرف وہ نہیں جو ہمیں کتابوں سے ملتی ہے، بلکہ وہ بھی ہے جو ہماری سوچ، کردار اور رویّوں میں نظر آتی ہے۔ تاہم، ڈگری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ پیشہ ورانہ قابلیت کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ اصل ضرورت ایسے تعلیمی نظام کی ہے جو ڈگری اور شعور، دونوں کو یکساں ساتھ لے کے چلے۔
حاصلِ کلام:
اگر تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول اور ذاتی مفادات کی تکمیل ہو تو انسان اپنے شعبے میں مہارت تو حاصل کر لیتا ہے، مگر شعور اور احساسِ ذمہ داری سے محروم رہ جاتا ہے جو معاشرتی اقدار پر ایک کاری ضرب کی طرح کارگر ہے ۔لیکن اگر یہی تعلیم ڈگری کے ساتھ شعور بھی عطا کرے تو یہ نہ صرف فرد کی کامیابی بلکہ معاشرے کی ترقی کا ذریعہ بھی بنتی ہے، کیونکہ ڈگری انسان کو اپنے شعبے میں مہارت دیتی ہے اور شعور اسے اپنی مہارت کو درست سمت میں استعمال کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ یہی امتزاج ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جہاں علم ذاتی مفادات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اجتماعی بھلائی، اخلاقی اقدار اور انسانی فلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔
مزید پڑھیں






