تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟ تحریر: مبراء عبدالقیوم
نقطہ نظر
ہم سب اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ وہ خوب پڑھیں۔ اچھے نمبر حاصل کریں۔ بڑی ڈگریاں لیں ہر زندگی میں کامیاب ہوں۔ اور اس دوڑ میں ایک سوال کہیں پیچھے رہ گیا ہے: کیا تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا ہے یا انسان کے اندر شعور پیدا کرنا بھی ہے؟ ہم نے شاید تعلیم کو کاغذ پر ملنے والی سند سمجھ لیا ہے۔ جبکہ تعلیم تو وہ ہے جو انسان کے رویے سوچ اور کردار میں دکھائی دیتی ہے۔ بچہ ابھی ٹھیک سے بولنا بھی نہیں شروع کرتا کہ ہم اس کے مستقبل کی فکر میں سکول ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ پھر اسکول، ٹیوشن، امتحان، نمبر، گریڈ، ڈگری؛ اور آخر میں ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں: "میرا بچہ بہت پڑھا لکھا ہے"۔ کبھی ہم نے یہ سوچنے کی کوشش کی کہ کیا وہ واقعی تعلیم یافتہ ہے؟ کیا اچھے نمبروں کے ساتھ اس نے اچھا انسان بننا بھی سیکھا ہے؟ کیا بڑی بڑی ڈگریوں کے ساتھ اس کے اندر چھوٹوں کے لیے شفقت، بڑوں کے لیے احترام، ضرورت مندوں کے لیے احساس اور غلط کے سامنے سچ بولنے کی ہمت بھی پیدا ہوئی ہے؟ اگر نہیں تو پھر سوال صرف یہ نہیں کہ تعلیم کیا ہے؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم تعلیم سے چاہتے کیا ہیں؟ آج ہمارے معاشرے میں ڈگری کو کامیابی کی ایک بہت بڑی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بی۔ایس، ایم۔ایس۔سی، ایم فل، پی ایچ ڈی۔ جتنے بڑے نام ہوں گے اتنا بڑا مقام بھی ہوگا۔
لیکن ایک لمحے کو سوچیے!
اگر ایک شخص کے پاس کتنی ہی ڈگریاں ہوں۔ اور وہ اپنے گھر کے بزرگوں سے بدتمیزی کرے، کمزور کو حقیر سمجھے، جھوٹ بولنے میں عار محسوس نہ کرے، اور اپنے فائدے کے لیے کسی کا حق مار لے۔ تو کیا اسے صرف اس لیے باشعور کہا جا سکتا ہے کہ اس کے نام کے ساتھ چند ڈگریاں لگی ہوئی ہیں؟ اور دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جو شاید زیادہ پڑھا لکھا بھی نہیں ہے مگر اسے معلوم ہے کہ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا انسانیت ہے۔ کسی دکھی کو تسلی دینا نیکی ہے۔ کسی کا حق مارنا بددیانتی ہے۔ اور اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں ہے تو پھر بتائیے تعلیم یافتہ کون ہے؟
شاید ہمیں تعلیم اور ڈگری کے درمیان موجود اس فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ڈگری ہمیں روزگار دے سکتی ہے مگر شعور ہمیں زندگی گزارنا سکھاتا ہے۔
تعلیم ہمیں کتاب پڑھنا سکھاتی ہے، جبکہ شعور یہ سمجھاتا ہے کہ کتاب میں لکھی بات کو زندگی میں کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے؟ ایک ڈاکٹر اگر ایک مریض کو صرف ایک کیس سمجھ کر دیکھے تو اس کے پاس علم تو ہے مگر انسانیت کہاں ہے؟ ایک استاد اگر طالب علم کو صرف نمبروں کی مشین سمجھ لے تو اس کے پاس علم تو ہے مگر تربیت کہاں ہے؟ ایک والدین اگر اپنے بچوں کی کامیابی کو صرف اس کے نمبر سے ناپیں تو شاید وہ اس کی رپورٹ تو دیکھ رہے ہیں مگر اس کی شخصیت کو نہیں دیکھتے۔ ہم اکثر بچوں سے پوچھتے ہیں کتنے نمبر آئے ہیں؟ مگر کتنی بار پوچھتے ہیں: "آج تم نے کس کی مدد کی"ـ ہم پوچھتے ہیں: "کلاس میں پہلی پوزیشن کس کی ہے" مگر کتنی بار پوچھتے ہیں: "تم نے آج کیا نیا سبق سیکھا ہے"
ہمیں فکر ہوتی ہے کہ بچہ ڈاکٹر، انجینیئر، افسر یا کسی بڑے عہدے پر پہنچ جائے۔ لیکن کیا ہمیں یہ فکر بھی ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بن جائے۔ کیونکہ معاشرے کو صرف بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ نہیں سنوارتے، بلکہ اچھے کردار والے لوگ سنوارتے ہیں۔ ایک دکاندار ایمانداری سے چیز تولتا ہے، یہ بھی تعلیم ہے۔ ایک استاد کمزور طالب علم کو نظر انداز کرنے کی بجائے اسے اضافی وقت دیتا ہے، یہ بھی تعلیم ہے۔ ایک بیٹا اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کو بوجھ نہیں سمجھتا، یہ بھی تعلیم ہے۔ ایک بیٹی گھر کے کاموں کو اپنی توہین نہیں سمجھتی، یہ بھی تعلیم ہے۔ ایک نوجوان سوشل میڈیا پر ہر خبر کی جانچ کرتا ہے، یہ بھی تعلیم ہے۔ یعنی شعور صرف یہ نہیں ہے کہ ہمیں بہت کچھ معلوم ہو۔ شعور یہ ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ کیا کرنا ہے؟ کیا نہیں کرنا، اور کیوں کرنا ہے؟
آج معلومات کی کمی نہیں ہے۔ موبائل فون ہاتھ میں ہے۔ دنیا چند لمحوں میں ہماری اسکرین پر آ جاتی ہے۔ ایک کلک پر ہزاروں کتابیں، اسباق اور معلومات دستیاب ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ معلومات بڑھنے کے باوجود برداشت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم دوسروں کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اختلاف کو دشمنی سمجھ لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک جملہ پسند نہ آئے تو پورے انسان کو برا سمجھ لیتے ہیں۔ یہ کیسی تعلیم ہے جو ہمیں جواب دینا تو سکھا رہی ہے مگر سننا نہیں سکھا رہی ہے۔ یہ کیسا علم ہے جو ہمیں اپنی رائے کا دفاع کرنا سکھاتا ہے مگر اپنے غلطی ماننا نہیں سکھاتا ہے۔ حقیقی تعلیم شاید وہ ہے، جو انسان کے اندر سوال پیدا کرے۔ وہ اسے اندھی تقلید کی بجائے سوچنے کی صلاحیت دے۔ وہ اسے یہ سمجھائے کہ ہر مشہور بات سچ نہیں ہوتی ہے۔ ہر بلند آواز درست نہیں ہوتی ہے۔ اور ہر ڈگری یافتہ شخص لازماً باشعور نہیں ہوتا ہے۔ تعلیم کا اصل حسن تو سامنے آتا ہے، جب وہ انسان کے رویے میں نظر آئے۔ جب علم غرور کی بجائے عاجزی پیدا کرے۔ جب کامیابی دوسروں کو روندنے کی بجائے دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا سکھائے۔ جب انسان اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کا بھی خیال رکھے۔ اور شاید سب سے بڑھ کر جب انسان کو یہ احساس ہو جائے، کہ وہ جتنا جانتا ہے سے کہیں زیادہ ابھی جاننا باقی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے ہاتھ میں صرف کتابیں نہیں دینی ہیں۔ بلکہ انہیں کتاب کے لفظوں سے آگے زندگی کا سبق بھی سمجھانا ہے۔ انہیں صرف یہ نہیں بتانا کہ امتحان میں کامیاب کیسے ہونا ہے؟ بلکہ یہ بھی سکھانا ہے، کہ زندگی کے امتحان میں انسان کیسے بننا ہے؟ کیوں کہ ایک دن ہماری ڈگریاں الماری میں رکھ دی جائیں گی۔ ایک دن ہماری نمبروں کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ ایک دن ہمارے عہدے بھی ہم سے جدا ہو جائیں گے۔ اس دن ہمارے ساتھ صرف ہمارا کردار، ہمارا عمل ہوگا۔ اور تب شاید کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ آپ نے کتنے نمبر لیے تھے۔
بلکہ پوچھا جائے گا کہ آپ نے اپنی تعلیم سے کیا حاصل کیا ہے؟
کیا آپ صرف پڑھے لکھے تھے یا واقعی باشعور بھی تھے؟ کیونکہ ڈگری انسان کے نام کے ساتھ لکھی جاتی ہے مگر شعور انسان کے کردار میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
مزید پڑھیں





