اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟ تحریر: ایس اے شازِم

نقطہ نظر
s a shazim

کیا ہم واقعی تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا صرف ڈگریوں کی دوڑ میں شامل ہیں؟ کیا بڑی ڈگری انسان کو بڑا بنا دیتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر معاشرے میں ناانصافی، بدعنوانی اور اخلاقی زوال کیوں موجود ہے؟ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈگری قابلیت کی سند ہے مگر شعور انسان کی پہچان۔ تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسان کو اچھے بُرے کی تمیز، حق و انصاف کا احترام اور اپنے فرائض کا احساس دلانا بھی ہے۔ لیکن سوال پھر سے وہی ہے کہ ہم ڈگری یافتہ افراد پیدا کر رہے ہیں یا باشعور انسان؟

یہ سوال محض تعلیمی اداروں تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرتی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ آج کل ہم نے اپنی کامیابی کی پیمائش کے پیمانے کو نمبروں، ڈگریوں اور چند کاغذی نوٹوں سے جوڑا ہوا ہے۔ کسی کے نام کے ساتھ بڑی ڈگری دیکھ کر اسے قابلِ احترام سمجھتے ہیں، مگر اس کے کردار، رویّے اور معاملات کو جانچنے کے لیے کوئی آلہ نہیں؟ حالاں کہ کسی معاشرے کی حقیقی ترقی اس کی عمارتوں، اداروں اور ڈگریوں سے نہیں بلکہ اس کے شہریوں کے شعور، کردار اور اجتماعی ذمہ داری سے پہچانی جاتی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ڈگری علم کی سند ہے مگر شعور علم کا عملی اظہار ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ڈگری انسان کو کسی پیشے میں داخلے کا موقع دے سکتی ہے لیکن شعور اسے صحیح سمت دکھاتا ہے۔ ایک شخص اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے افسر تو بن سکتا ہے مگر ایک اچھا انسان بننے کے لیے اسے دیانت داری، نظم و ضبط، ہمدردی اور انصاف جیسی صفات اپنانا پڑتی ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جو محض تعلیم یافتہ ہونے اور حقیقی معنوں میں باشعور ہونے کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر بچوں کی کامیابی کو اچھے نمبروں اور بڑی ڈگریوں سے جوڑا جاتا ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر یا اعلیٰ افسر بنیں۔ یہ خواہش اپنی جگہ قابلِ فہم ہے لیکن کیا ہم ان کی اخلاقی تربیت پر بھی اتنی ہی توجہ دیتے ہیں؟ اگر دیکھا جائے تو تعلیم کا بنیادی مقصد ذہن کو روشن کرنا اور انسان کو اپنے فیصلوں کے نتائج سمجھنے کے قابل بنانا ہے اگر ایک طالب علم کتابوں میں دیانت داری کا سبق پڑھتا ہے لیکن عملی زندگی میں دھوکے کو کامیابی کا ذریعہ سمجھنے لگتا ہے۔ تو مسئلہ صرف اس طالب علم کا نہیں بلکہ اس تربیتی ماحول کا بھی ہے، جو علم اور عمل کے درمیان تعلق قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پاکستان کو ایسے تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کریں۔ ایک ڈاکٹر کی عظمت صرف اس کی ڈگری میں نہیں، بلکہ مریض کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رویّے میں بھی ہے۔ ایک استاد کی کامیابی صرف نصاب مکمل کرنے میں نہیں، بلکہ شاگردوں میں سوچنے، سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں ہے۔ اسی طرح ایک سرکاری افسر کی قابلیت صرف انتظامی امور چلانے میں نہیں، بلکہ قانون کے مطابق غیر جانب دار فیصلے کرنے میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں بے شمار تعلیم یافتہ افراد اپنی قابلیت اور کردار کے ذریعے معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق، جبکہ ڈاکٹر عبدالسلام جنہوں نے طبیعیات کے میدان میں عالمی سطح پر 1979ء میں نوبل انعام کے فاتح اور ملالہ یوسفزئی جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز اٹھا کر 2014ء میں امن کا نوبل انعام حاصل کیا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ علم، محنت اور مقصد سے وابستگی انسان کو انفرادی کامیابی کے ساتھ معاشرتی اثر پیدا کرنے کا موقع بھی دیتی ہیں۔

تاہم کسی چند نمایاں شخصیات کی کامیابی کافی نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان کا بچہ بچہ تعلیم جیسے زیور سے آراستہ ہوگا۔ عام اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو بھی معیاری تعلیم، بہتر تربیت اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر آئیں۔ جب کسی غریب گھرانے کا ذہین بچہ صرف وسائل کی کمی کے باعث اپنے خواب ادھورے چھوڑنے پر مجبور نہ ہوگا، اور جب تعلیمی اداروں میں بچوں کو محض نمبروں کے بجائے تحقیق، تخلیقی سوچ اور عملی مہارتوں کی طرف راغب کیا جائے گا۔

ہمارے سندھ سمیت پاکستان کے دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولتوں میں کمی، اساتذہ کی عدم دستیابی، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے اور معیاری تدریس کے مسائل اب بھی توجہ طلب ہیں۔ ایسے حالات میں تعلیم کے حقیقی مقاصد پر بات کرنا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی ادارے درکار ہیں جہاں بچے صرف امتحان پاس کرنا نہ سیکھیں، بلکہ اپنے معاشرتی مسائل کو سمجھیں، دوسروں کے نقطۂ نظر کا احترام کریں اور اپنے حقوق کے ساتھ فرائض سے بھی آگاہ ہوں۔

اس مقصد کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، اساتذہ اور والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کو تعلیمی سہولتوں کے فقدان پر توجہ دینی چاہیے۔ تعلیمی اداروں کو ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں سوال کرنے اور تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو۔ والدین کو بچوں کی کامیابی کو صرف نمبروں سے نہیں، بلکہ ان کی محنت، ذمہ داری اور اخلاقی رویّوں سے بھی جانچنا چاہیے۔

آج پاکستان کو ڈگری یافتہ افراد کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر دیکھا جائے تو ڈگری اور شعور ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ڈگری علم اور مہارت کے حصول کی علامت ہو سکتی ہے، جبکہ شعور ان صلاحیتوں کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی رہنمائی کرتا ہے۔ ہمیں ڈگریوں کی اہمیت کم نہیں کرنی بلکہ ان کے ساتھ اخلاقی تربیت، عملی فہم اور سماجی ذمہ داری کو بھی لازم بنانا ہے، کیونکہ ڈگری انسان کو کسی منصب تک پہنچا سکتی ہے، مگر شعور اسے اس منصب کا حق ادا کرنا سکھاتا ہے۔

پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے ہمیں ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو دلوں کو احساس اور کردار کو مضبوطی سے آراستہ کرے۔ یہی وہ تعلیم ہے جو ڈگری کو وقار، علم کو مقصد اور محض ایک انسان کی کامیابی کو قوم کی ترقی میں بدل سکتی ہے۔