تعلیم شعور ہے یا صرف ڈگری؟تحریر: سید ساجد علی شاہ
نقطہ نظر
تعلیم انسان کی زندگی کا وہ چراغ ہے جو اسے اندھیرے راستوں میں سمت دکھاتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف کتابیں پڑھنا، امتحان پاس کرنا اور کسی کاغذ پر کامیابی کی مہر لگوانا نہیں، بلکہ انسان کے اندر سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے اور اپنے فرائض پہچاننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ اگر تعلیم انسان کو شعور، اخلاق اور کردار نہیں دیتی تو پھر بڑی بڑی ڈگریاں بھی زندگی کے بنیادی سوالات کا جواب نہیں بن سکتیں۔آج ہمارے معاشرے میں تعلیم کو اکثر روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اچھی سند حاصل کریں، اچھی ملازمت پائیں اور بہتر آمدنی کمائیں۔ یہ خواہش اپنی جگہ درست ہے، روزگار بھی ضروری ہے، مگر تعلیم کا دائرہ روزگار تک محدود کر دینا اس کے اصل مقصد کو بہت چھوٹا کر دیتا ہے۔ ایک پڑھا لکھا شخص اگر اپنے والدین کی عزت نہ کرے، کمزور کا حق مارے، جھوٹ بولے، دھوکا دے اور اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرے تو اس کی ڈگری اس کے کردار کی کمی کو چھپا نہیں سکتی۔ شعور وہ دولت ہے جو انسان کو اپنی ذات سے آگے دیکھنا سکھاتی ہے۔ شعور رکھنے والا انسان جانتا ہے کہ سڑک پر کچرا پھینکنا صرف ایک معمولی حرکت نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان ہے۔ وہ قطار توڑنے کو اپنی چالاکی نہیں سمجھتا، بلکہ دوسروں کے حق کا خیال رکھتا ہے۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بناتا، سوال کو گستاخی نہیں سمجھتا اور اپنی غلطی تسلیم کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتا۔ یہی وہ رویے ہیں جن سے تعلیم معاشرے میں روشنی پیدا کرتی ہے۔ ہم نے تعلیم کے میدان میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر ایک سوال اب بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے کیا ہماری تعلیم نے ہمارے رویوں کو بھی بدلا ہے؟ اگر گھروں میں علم موجود ہو مگر گفتگو میں تلخی، بازار میں بے ایمانی، اداروں میں ناانصافی اور معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی جائے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کے مقصد پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ نصاب میں معلومات کا اضافہ ضروری ہے، لیکن معلومات کے ساتھ تربیت، کردار سازی اور انسانی اقدار بھی ضروری ہیں۔ سند انسان کو کسی شعبے میں مہارت دے سکتی ہے، مگر شعور اسے اس مہارت کے درست استعمال کا راستہ دکھاتا ہے۔ ایک طبیب کے پاس علم ہو مگر مریض کے درد کا احساس نہ ہو تو علاج صرف ایک پیشہ رہ جاتا ہے، ایک استاد کے پاس کتابی معلومات ہوں مگر شاگرد کی شخصیت بنانے کا احساس نہ ہو تو درس ادھورا رہ جاتا ہے، ایک افسر قوانین جانتا ہو مگر انصاف کا احساس نہ رکھتا ہو تو اختیار عوام کے لیے سہولت کے بجائے مشکل بن سکتا ہے، اسی لیے علم اور کردار کا ساتھ ضروری ہے۔ تعلیم کا تعلق صرف درس گاہ سے نہیں۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ ہے، والدین پہلے استاد ہیں اور معاشرہ ایک وسیع مدرسہ ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، وہ اکثر وہی سیکھتا ہے جو اسے کتاب میں پڑھایا جاتا ہے۔ اگر ہم اسے سچ بولنے کا سبق دیں مگر خود معمولی فائدے کے لیے جھوٹ بولیں تو ہماری نصیحت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اگر ہم اسے دوسروں کا احترام سکھائیں مگر گھر میں خدمت کرنے والے انسان سے بدتمیزی کریں تو بچہ الفاظ نہیں، ہمارا عمل یاد رکھے گا۔آج بچوں کے سامنے معلومات کے بے شمار دروازے کھلے ہیں۔ ایسے ماحول میں تعلیم کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب صرف معلومات یاد ہونا کافی نہیں؛ بچے کو درست اور غلط میں فرق، خبر کی حقیقت جانچنے، اختلاف میں تہذیب رکھنے اور اپنی آزادی کو دوسروں کے حقوق کے ساتھ جوڑنے کا شعور بھی حاصل ہونا چاہیے۔تعلیم کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ انسان کو عاجزی سکھائے۔ جتنا انسان جانتا ہے، اتنا ہی اسے اپنی لاعلمی کا احساس ہونا چاہیے۔ علم غرور پیدا کرے تو اس کی روشنی کم ہو جاتی ہے، جبکہ علم عاجزی، خدمت اور ذمہ داری پیدا کرے تو وہ معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو ذہن کو روشن کرے، دل کو نرم کرے، ہاتھ کو محنت کے لیے تیار کرے اور کردار کو مضبوط بنائے۔ آخرکار تعلیم کا سوال یہ نہیں کہ انسان کے پاس کتنے کاغذی اسناد ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس علم نے اسے کتنا بہتر انسان بنایا۔ اگر تعلیم ہمیں حق پہچاننے، فرض ادا کرنے، دوسروں کا احترام کرنے، سچ بولنے، محنت کرنے اور غلطی سے سیکھنے کا حوصلہ دیتی ہے تو وہ حقیقی تعلیم ہے۔ ورنہ ڈگری صرف ایک سند بن کر رہ جاتی ہے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو کتاب بھی پڑھے، سوال بھی کرے، علم بھی حاصل کرے، کردار بھی بنائے اور اپنے علم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال بھی کرے۔ یہی تعلیم کا اصل مقصد اور یہی روشن معاشرے کی بنیاد ہے۔
مزید پڑھیں





