اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟ تحریر:سمیرا اکرام

نقطہ نظر

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جب پیدا فرمایا تو اسے ڈگری نہیں دی، اسے شعور عطا فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو کسی جامعہ میں داخل نہیں کرایا گیا، بلکہ انہیں "وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا" کے ذریعے شعور بخشا گیا۔ فرشتوں کے پاس معلومات تھیں، آدم کے پاس فہم تھا۔ اور اسی فہم کی فضیلت کی بنا پر فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے جھکنے کا حکم دیا گیا۔ یوں اس کائنات کا پہلا سجدہ کسی سند کو نہیں، بلکہ شعور کو ہوا۔

یہیں سے ہماری تاریخ کا اصل زوال شروع ہوتا ہے۔ ہم نے شعور کو چھوڑ کر تعلیم کو تھام لیا، اور پھر آہستہ آہستہ تعلیم کو بھی چھوڑ کر صرف ڈگری کی عبادت شروع کر دی۔

میرے نزدیک ان تینوں کے درمیان ایک نہایت باریک فرق ہے، جسے آج تک واضح نہیں کیا گیا۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ تعلیم ادھار ہے، شعور اپنا ہے، اور ڈگری اس ادھار کی رسید ہے۔

اس نقطے کو اس طرح سمجھیے کہ تعلیم ہمیشہ دوسروں کی دی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ استاد دیتا ہے، کتاب دیتی ہے، یا انٹرنیٹ دیتا ہے۔ یہ باہر سے اندر کی طرف آتی ہے۔ لیکن شعور باہر سے نہیں آتا، یہ اندر سے پھوٹتا ہے۔ یہ وراثت میں نہیں ملتا، بلکہ زندگی کے رحم میں پرورش پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی ماں کے دو بیٹے، ایک ہی اسکول میں، ایک ہی استاد سے، ایک ہی کتاب پڑھ کر بھی مختلف انسان بنتے ہیں۔ ایک باشعور بن جاتا ہے اور دوسرا بے شعور رہ جاتا ہے۔ کیونکہ تعلیم دونوں کو برابر ملی تھی، مگر شعور ہر ایک نے اپنا اپنا پیدا کیا۔

پھر ڈگری کیا ہے؟ ڈگری اس بات کی سرکاری گواہی ہے کہ آپ نے ادھار لی ہوئی معلومات کو ایک مخصوص عرصے تک اچھے طریقے سے یاد رکھا ہے۔

آج ہم نے ڈگری کو شعور کی ضد بنا دیا ہے۔ ایک انتہائی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم انسان کو نوکر بننے کے لیے تیار کرتا ہے، جبکہ شعور اسے مالک بننے کا حوصلہ دیتا ہے۔ آپ نے کبھی کسی ملازمت کے اشتہار میں یہ جملہ نہیں پڑھا ہوگا کہ "ایک باشعور فرد کی ضرورت ہے"۔ وہاں ہمیشہ یہی لکھا ہوتا ہے کہ "ڈگری یافتہ فرد کی ضرورت ہے"۔ کیوں؟ کیونکہ نظام کو باشعور لوگوں سے خوف آتا ہے۔ باشعور شخص سوال اٹھائے گا، وہ پوچھے گا کہ میری تنخواہ کم کیوں ہے؟ ترقی کا معیار کیا ہے؟ نظام کو سوال پسند نہیں، نظام کو فرمانبردار مشینیں پسند ہیں۔ اور ڈگری اسی فرمانبرداری کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کا ہر بڑا انقلاب کسی ڈگری یافتہ نے نہیں، بلکہ ایک باشعور انسان نے برپا کیا ہے۔

تعلیم آپ کو بتاتی ہے کہ دیوار کیا ہوتی ہے۔ ڈگری آپ کو بتاتی ہے کہ یہ دیوار کتنی اونچی ہے اور اسے تعمیر کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ لیکن شعور آپ کو یہ بتاتا ہے کہ یہ دیوار ظلم کی بنیاد پر کھڑی ہے، اس لیے اسے گرانا کیوں ضروری ہے۔ ہمارا سارا نظام دیوار کی اونچائی ناپنا سکھا رہا ہے، دیوار کو گرانے کا فن کوئی نہیں سکھا رہا۔

اس بات کو تین کرداروں کی مثال سے سمجھیے۔

پہلا وہ شخص ہے جس کے پاس صرف ڈگری ہے۔ وہ کہتا ہے: "یہ ملک بہت گندا ہے، یہاں کچھ نہیں ہو سکتا، اس لیے یہاں سے باہر چلے جانا بہتر ہے۔"

دوسرا وہ شخص ہے جس کے پاس تعلیم ہے۔ وہ کہتا ہے: "یہ ملک اس لیے گندا ہے، کیونکہ یہاں نظامِ تعلیم ناقص ہے، ادارے کمزور ہیں اور بد عنوانی کے اعداد و شمار یہ ہیں۔"

تیسرا وہ شخص ہے جس کے پاس شعور ہے۔ وہ نہ شکایت کرتا ہے اور نہ تجزیہ پیش کرتا ہے۔ وہ خاموشی سے اٹھتا ہے اور اپنی گلی سے کوڑا اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔

پہلا شخص بات کرتا ہے، دوسرا تجزیہ کرتا ہے اور تیسرا عمل کرتا ہے۔ ڈگری بات ہے، تعلیم تجزیہ ہے اور شعور عمل ہے۔ اور ہم بحیثیتِ قوم عمل سے خالی ہو چکے ہیں۔ ہماری جامعات ذہین بے حس لوگ پیدا کر رہی ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے ڈاکٹر بن رہے ہیں جنہیں مریض کی بیماری کی تشخیص کرنی تو آتی ہے، لیکن اس کی غربت کی تشخیص کرنی نہیں آتی۔ ہمارے ہاں ایسے انجینئر بن رہے ہیں جو فلک بوس عمارت بنانا تو جانتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس عمارت کی بنیادوں کے نیچے کسی غریب کی جھونپڑی دفن ہے۔ یہ سب تعلیم ہے، یہ سب ڈگری ہے، مگر یہ شعور ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ شعور دراصل بے حسی کے خاتمے کا نام ہے۔ جس دن آپ کو کسی دوسرے انسان کے دکھ پر رونا آ گیا، اس دن سمجھ لیجیے کہ آپ کے اندر شعور زندہ ہو چکا ہے۔ یہ آنسو آپ کو کوئی پی ایچ ڈی نہیں دے سکتی۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شعور آئے گا کہاں سے؟ یہ کسی کلاس روم سے نہیں آئے گا۔ یہ تین زخموں سے جنم لیتا ہے، جن کی کوئی فیس نہیں لی جاتی۔

اول، محبت کے زخم سے۔ جب آپ کسی سے سچی محبت کرتے ہیں اور وہ آپ کو چھوڑ جاتا ہے، تو آپ کو انسان کی بے ثباتی کا اصل مفہوم سمجھ آتا ہے۔ یہ سبق کسی نصاب میں درج نہیں۔

دوم، بھوک کے زخم سے۔ جب آپ خود بھوکے رہتے ہیں تو آپ کو روٹی کی قیمت کا نہیں، بلکہ اس کی عزت کا اندازہ ہوتا ہے۔

سوم، موت کے زخم سے۔ جب آپ کا کوئی عزیز ترین شخص اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس ایک لمحے میں آپ کو ڈگری، عہدہ اور دولت، سب بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ وہ ایک لمحہ آپ کو وہ سبق دے جاتا ہے جو سولہ سالہ تعلیم بھی نہیں دے پاتی۔

اس لیے میری گزارش ہے کہ اپنی ڈگریوں کو ضرور سنبھال کر رکھیے، انہیں فریم کرا کر دیوار پر آویزاں کیجیے، لیکن اپنی اولاد کو ڈگری کے لیے نہیں، شعور کے لیے پڑھائیے۔ اسے کہیے: "بیٹا، نوکری کے لیے نہیں، انسان بننے کے لیے پڑھو۔" اس پورے مضمون کا خلاصہ اگر ایک جملے میں بیان کروں تو وہ یہ ہے کہ تعلیم تمہیں بتاتی ہے کہ دنیا کیا ہے، ڈگری تمہیں بتاتی ہے کہ دنیا میں تمہاری قیمت کیا ہے، لیکن شعور تمہیں بتاتا ہے کہ تمہاری وجہ سے اس دنیا کی قیمت میں کیا اضافہ ہوا ہے۔

جس دن ہمیں یہ فرق سمجھ آ گیا، اسی دن ہم ڈگریوں والی بھیڑ سے نکل کر شعور والی قوم بن جائیں گے۔