لفظ "تعلیم" علم سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے جاننا۔ ہمارے معاشرے میں رائج اصطلاح کے مطابق جب ہم کہتے ہیں فلاں شخص تعلیم یافتہ ہے تو اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ وہ اتنا پڑھا لکھا ہے، اتنی جماعتیں پاس کی ہیں، اتنی ڈگریاں رکھتا ہے۔یہ تو ہے ہمارے معاشرے کا رائج اصول، لیکن حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو وہ ڈگریاں جو آپ نے 14 یا 16 سال میں حاصل کیں، اگر وہ آپ کے ذہن کو نہیں بدلتیں، آپ کو آگاہ نہیں کرتیں، آپ کے شعور کو مزید جلا نہیں بخشتیں تو وہ تعلیم صرف کاغذ کے چند ٹکڑے ہیں جنہیں ڈگریاں کہا جاتا ہے۔ ان کی اہمیت ایک نوکری کے لیے تو ضروری ہو سکتی ہےلیکن معاشرے کی ترقی کے لیے نہیں۔
ایسا شخص جس نے ڈگری تو حاصل کر لی مگر اپنے شعور کو پروان نہیں چڑھایا، اپنے ضمیر پر محنت نہیں کی، جس نے خود آگاہی کا سفر طے نہیں کیا کہ میں اس دنیا میں کیوں آیا ہوں؟؟ اور مجھ پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟ تو اس کی تعلیم اسے کوئی فایدہ نہیں دے گی سوائے مادی فائدوں کے.
"اقرا" کتنا مقدس لفظ ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کو جبرائیل علیہ السلام نے سینے سے لگا کر فرمایا تھا "پڑھو"۔ اور یہی پہلی وحی مآخذ ہے تمام علوم کا لہذا اگر علم کے ذریعے شعور حاصل نہ کیا، آگہی کا سفر طے نہ کیا تو وہ تعلیم صرف ڈگریاں ہی رہ جاتی ہے۔
آپ اپنے اردگرد نظر دوڑا کر دیکھ لیجئے، اپنے اس موجودہ نظام کو دیکھ لیں جس کے تحت یہ ملک چل رہا ہے، آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ تعلیم نے لوگوں کو شعور دیا یا صرف ڈگریاں۔ اس وقت ہم دیکھیں تو صرف ڈگریاں ہی دی ہیں اور ان ڈگریوں کی بنیاد پر وہ افراد بڑی سیٹوں پر بیٹھے ہیں، اور اپنی ڈگریوں کے بل بوتے پر عوام پر ظلم کر رہے ہیں۔اس کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ اٹھارویں گریڈ کا افسر ہو، انیسویں یا بیسویں گریڈ کا افسر ہو، اس کا رویہ عوام کے ساتھ دیکھ لیں کہ کیسا ہوتا ہے؟ (الا ماشاءاللہ ایک آدھ کو چھوڑ کر) اس کا مطلب ہوا کہ اس نے تعلیم سے شعور حاصل نہیں کیا، اس نے تعلیم صرف ڈگری پانے کے لیے حاصل کی اور ڈگری اس لیے حاصل کی کہ ایک نوکری حاصل کر سکے۔ لیکن وہ یہ فرق نہیں جان سکا کہ انسان کے ساتھ سلوک کیسا کرنا ہے، اگر کوئی بازار میں ریڑھی لگا کر کھڑا ہے تو اس کو کیسے منع کرنا ہے، اگر کسی نے ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈال دی یا "صاحب" کے روٹ کے راستے میں آ گیا تو اس کے ساتھ سلوک کیسا ہونا چاہیے، ان باتوں سے وہ آگاہ نہیں۔
اسی طرح اے سی والے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوئے افراد اگر تعلیم کے ساتھ شعور رکھتے تو وہ اس بات کا احساس ضرور کرتے کہ باہر گرمی میں جو سائلین انتظار کر رہے ہیں ان پر کیا بیت رہی ہے۔
اگر ہم اپنے موجودہ تعلیمی نظام کی خامیوں پر نظر ڈالیں تو اس کی سب سے بڑی خامی ہی یہی ہے کہ اس نے تعلیم کو شعور سے جدا کر دیا ہے۔ ہمارا سارا نظام رٹہ سسٹم اور نمبروں کی دوڑ پر کھڑا ہے۔ بچے کو سوچنا نہیں سکھایا جاتا، سوال کرنا نہیں سکھایا جاتا، تحقیق اور جستجو کا جذبہ پیدا نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے صرف یہ سکھایا جاتا ہے کہ کتاب میں جو لکھا ہے اسے زبانی یاد کر کے پرچے پر الٹ دو اور زیادہ سے زیادہ نمبر لے آؤ۔ کردار سازی، اخلاقی تربیت، سچ بولنا، امانت داری، برداشت، صبر اور انسانیت کا احترام، یہ سب ہمارے نصاب سے نکل چکا ہے۔ اسی لیے ہم ہر سال لاکھوں گریجویٹ تو پیدا کر رہے ہیں مگر باشعور شہری پیدا نہیں کر پا رہے۔ ڈگری ہاتھ میں ہے مگر زبان پر بدتمیزی ہے، ہاتھ میں سند ہے مگر دل میں رحم نہیں، یہی ہمارے نظام کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔
اور جہاں تک شعور کی بات رہی تو وہ ڈگری کا محتاج نہیں ہے، شعور کبھی بھی ڈگری کا محتاج نہیں ہوتا حتیٰ کہ تعلیم کا محتاج نہیں ہوتا، شعور تو اللہ تعالیٰ کی دین ہے کہ اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ان پڑھ آدمی شعور کی وہ منازل طے کر چکا ہوتا ہے کہ جو ایک پڑھا لکھا آدمی نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ اس کے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے اور معاشرے نے جو اسے سبق سکھلائے اور تجربات سے جو کچھ اس نے سیکھا وہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے شعور کا حاصل کر لینا، اس کے لیے ڈگری یا تعلیم ضروری نہیں ہے، اس کے لیے آپ کے ضمیر کا جاگنا ضروری ہے۔
افسوس کے ساتھ اپنی تحریر کو میں اسی بات پر ختم کرتا ہوں کہ کاش اس ملک میں تعلیم صرف ڈگریوں کا حصول نہ ہو، بلکہ ہم اپنی قوم کو ایسا نظام دیں کہ جو تعلیم حاصل کرے تو اس کے ساتھ اس کا شعور مضبوط ہو، اس کا ایمان مضبوط ہو، اس کی آگہی مضبوط ہو، اس کا دماغ روشن ہو اور اس کی تربیت بہترین ہو، تاکہ وہ معاشرے کو بہترین انداز سے چلا سکے اور بہترین افراد پیدا کر سکے۔
مزید پڑھیں






