ایتھوپیا میں جب سورج تخت پر بیٹھا،تحریر:ایم زیڈ کنول
نقطہ نظر
حبشہ کو ہم نے ہمیشہ ہجرت کی سرزمین کہا۔ ایک ایسی سرزمین جہاں عدل کا ایک نجاشی رہتا تھا۔ لیکن تاریخ نے حبشہ کے ساتھ ایک ظلم یہ بھی کیا کہ اسے ہمیشہ قحط، سوکھے اور ٹوٹے ہوئے بادلوں سے تعبیر کیا۔
اب اسی حبشہ میں ایک دوسری ہجرت روشنی کی تلاش میں ہو رہی ہے۔ پہلی ہجرت انسانوں نے نجاشی کی سرزمین کی طرف کی تھی،
دوسری ہجرت اب خود سورج کر رہا ہے - آسمان سے اتر کر ایتھوپیا کی بنجر زمین پر۔
وہ سورج جو صدیوں سے اس خطے میں صرف زمین کو تپاتا تھا، فصلوں کو جلاتا تھا، اب اسی زمین پر اتر آیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے وہ آگ تھا، اب وہ چراغ ہے۔
اب اس کی دھوپ نوکری کرنے لگی ہے۔
صدیوں تک ایتھوپیا کی پہچان نیل رہی ہے۔ اس کا مقدر پانی سے لکھا جاتا تھا۔ ملک کی 90 فیصد بجلی پن بجلی سے آتی تھی۔ جب بارش ہوتی تو گھر روشن، جب خشک سالی آتی تو پورا ملک اندھیرے میں ڈوب جاتا۔
یہ کیسی تقدیر تھی کہ روشنی کا سوئچ آسمان کے بادل کے ہاتھ میں تھا۔
پھر کسی نے ایتھوپیا کے حکمرانوں کے کان سر گوشی کی کہ تم جس چیز سے سب سے زیادہ شکایت کرتے ہو، وہی تمہارا خزانہ ہے۔ تمہارے پاس سال میں تین سو دن کی بے رحم دھوپ ہے۔ اسے کوسنا بند کرو، اسے کام پر لگاؤ۔
بس اس سرگوشی پہ کان دھرنے تھے کہ منظر بدلنے لگا۔
اور ایسے انقلاب کی طرف پیش قدمی ہوئی
جس نے سورج کو قیدی سے حاکم بنا دیا ہے۔
دارالحکومت ادیس ابابا میں جون 2025 میں پہلی بار 100 کلو واٹ کا گرڈ سے جڑا سولر روف ٹاپ منصوبہ عمل میں آیا ، جس میں دو طرفہ اسمارٹ میٹر لگے ہیں۔ یعنی اب گھر صرف بجلی استعمال نہیں کرے گا، واپس بھی کرے گا۔ یعنی صارف سے شریک تک کے سفر کا آغاز کر کے پہلے تو چراغ نے خود کو چراغ خانے میں بدل دیا ۔ پھر صحرا بولنے لگے۔
اصل انقلاب البتہ فائلوں میں نہیں، معاہدوں سے ممکن ہوا۔ انٹرنیشنل سولر الائنس کے ساتھ ایتھوپیا نے ایک ہی میز پر تین خواب رکھے 400 میگاواٹ کا سولر پارک، وسطی ایتھوپیا میں 700 کلو واٹ کا وارو سولر منی گرڈ، اور 100 کلو واٹ کا سولر روف ٹاپ کار چارجنگ ہب۔ یہ معاہدہ سرکاری طور پر بھی دہرایا گیا۔
اور پھر وہ خبر جس نے سب کو چونکا دیا۔ چینی کمپنی منگ یانگ کا 14.8 ارب ڈالر کا سرمایہ کاری کا اعلان۔ جنوبی اومو، عفار اور سومالی میں 5.4 گیگا واٹ ونڈ اور 2.8 گیگا واٹ سولر۔ یہ ایتھوپیا کی تاریخ کی سب سے بڑی نجی سرمایہ کاریوں میں سے ایک ہے۔
روشنی نے اپنا جغرافیہ بدل دیا۔
یہ صرف میگاواٹ کا کھیل نہیں۔ ایتھوپیا 18 اگست 2026 کو اپنے چار آف گرڈ سولر منصوبوں کا افتتاح کر چکا ہے جو مرکزی گرڈ سے دور علاقوں کو بجلی دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ پہلے بجلی نیل کے ساتھ بہتی تھی، اب وہ صحرا میں اگتی ہے۔
دھوپ کے ساتھ سائے بھی ہیں
لیکن اس سچ کو نہیں بھولنا چاہیے۔ کہ ایتھوپیا کا سورج بہت روشن ہے، لیکن اس کی تاریں ابھی کمزور ہیں۔ ٹرانسمیشن کا نظام پرانا ہے، آف گرڈ منصوبوں کو مین گرڈ سے جوڑنا، بیٹری اسٹوریج، اور ٹیرف کا نیا نظام ابھی امتحان میں ہے۔ سرمایہ کاری کے اعلانات بڑے ہیں، عملدرآمد میں زمین، سیاست اور قرضوں کی گرد بھی ہے۔
مگر سمت واضح ہے۔ وہ ملک جسے دنیا قحط اور خشک سالی سے یاد کرتی تھی، اب اسی خشک سالی کو اپنی طاقت بنا رہا ہے۔ سورج جو کبھی کھیت جلاتا تھا، اب وہی کھیتوں کو پانی دینے والے پمپ چلائے گا، بچوں کے اسکول میں بلب جلائے گا، اور صحت مرکز میں ویکسین کو ٹھنڈا رکھے گا۔
حبشہ میں سورج کا انقلاب دراصل ایک فلسفہ ہے۔ جب تمہارے پاس سب سے زیادہ جو چیز ہے، اسی کو اپنی کمزوری سمجھنا چھوڑ دو۔ ایتھوپیا نے اپنی دھوپ کو پہلے مصیبت سمجھا، اب مقدر سمجھ رہا ہے۔
عفار کی وہ زمین جہاں دوپہر کو ہوا بھی جل کر آتی ہے، وہاں شیشے کے کھیت لگ گئے۔ سومالی ریجن کے صحرا میں جہاں کبھی صرف قافلے گزرتے تھے، وہاں اب سورج کی کھیتی ہو رہی ہے۔ ادیس ابابا کی چھتوں پر اب ٹین کی چادروں کے ساتھ نیلی پلیٹیں بھی چمکتی ہیں۔ یہ پلیٹیں دھوپ کو پیتی ہیں اور رات کو لوٹا دیتی ہیں۔
یہ کوئی منظر کشی نہیں، ایک معاشی اعلان ہے۔
سورج کا نیا فقہ نافذ ہو گیا ہے۔
پرانا فقہ یہ تھا کہ توانائی اوپر سے نیچے آتی ہے۔ بڑا ڈیم بنے گا، بڑی لائن بچھے گی، بڑا گرڈ چلے گا۔ نیا فقہ جو حبشہ لکھ رہا ہے وہ بالکل الٹا ہے۔ توانائی نیچے سے اوپر جائے گی۔
چھوٹا کسان اپنی چھت پر بجلی بنائے گا۔ وہی بجلی دوپہر کو گرڈ کو بیچے گا، شام کو واپس خرید لے گا۔ گاؤں کا اپنا منی گرڈ ہوگا، اپنی بیٹری ہوگی، اپنا چوکیدار ہوگا۔ مرکز سے روشنی نہیں آئے گی، روشنی مرکز بنائے گی۔
یہی تو انقلاب ہوتا ہے۔ انقلاب ہمیشہ تخت پر بیٹھے بادشاہ کو نہیں گراتا، کبھی کبھی وہ سورج کی ڈیوٹی ہی بدل دیتا ہے۔ کل تک سورج کا کام صرف دن کو روشن کرنا تھا، آج اس کا کام رات کی ڈیوٹی بھی ہے۔ وہ دن میں بیٹریوں میں قید ہوتا ہے تاکہ رات کو بچوں کے سکول کا ہوم ورک روشن کر سکے، کلینک میں ویکسین کو ٹھنڈا رکھ سکے۔
حبشی بلال سے حبشی سولر تک
اس کہانی میں ایک عجیب حسن ہے۔ جس سرزمین سے حضرت بلال حبشیؓ نے اذان کی آواز بلند کی تھی، آج اسی سرزمین پر روشنی اذان دے رہی ہے۔ اذان اس بات کی کہ غربت کوئی آسمانی لعنت نہیں، صرف انتظام کی کمی ہے۔
ایتھوپیا نے دنیا کو یہ بتایا ہے کہ ترقی کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کے پاس تیل کے کنویں ہوں۔ کبھی کبھی آپ کے پاس صرف دھوپ ہو تو بھی آپ امیر ہو سکتے ہیں، اگر آپ دھوپ کو ذخیرہ کرنا سیکھ لیں۔
سورج کے اس انقلاب کا آغاز ہو چکا ہے۔
حبشہ میں اب شام ڈھلتی ہے تو اندھیرا اتنی جلدی نہیں آتا۔ کیونکہ اب سورج ڈوبتا نہیں، صرف شفٹ بدلتا ہے۔ دن کی شفٹ آسمان پر، رات کی شفٹ چھتوں پر اس انقلاب کا اعلان کرتی دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں





