بھائی شادی کے بعد کیوں بدل جاتے ہیں؟ تحریر: نور فاطمہ
نقطہ نظر
یہ شکوہ آج تقریباً ہر گھر میں سننے کو ملتا ہے کہ شادی کے بعد بھائی بدل گیا ہے، اب اسے بیوی اور سسرال کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ جو بھائی کبھی ماں باپ اور بہنوں کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتا تھا، جو بہنوں کی خوشی کے لیے اپنی خوشیاں قربان کر دیتا تھا، وہی شادی کے بعد ہر بات میں بیوی اور سسرال کی رائے کو اولیت دینے لگتا ہے۔ کبھی بہنوں کے چہروں پر اداسی دیکھ کر پریشان ہو جانے والا بھائی اب ان کی خاموشی اور آنسوؤں کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا شادی انسان کو واقعی بدل دیتی ہے یا وہ خود اپنے رویے بدلنے کا فیصلہ کرتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ شادی زندگی کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ اس کے بعد مرد پر ایک نیا گھر بسانے، بیوی کو خوش رکھنے اور نئی ذمہ داریاں نبھانے کا دباؤ ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے گھر میں خوش رہے، اسے کسی قسم کی شکایت نہ ہو اور ازدواجی زندگی میں سکون قائم رہے۔ یہ خواہش بالکل فطری ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ بیوی کو خوش رکھنے کی کوشش میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے حقوق فراموش کر دیتا ہے۔ وہ گھر میں جھگڑے سے بچنے کے لیے بیوی کی ہر جائز و ناجائز بات ماننے لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ ماں باپ تو اسے معاف کر دیں گے، بہنیں بھی کچھ عرصے بعد خاموش ہو جائیں گی، لیکن اگر بیوی ناراض ہو گئی تو گھر ٹوٹ سکتا ہے۔ یہی خوف آہستہ آہستہ اسے اپنے خونی رشتوں سے دور کر دیتا ہے۔
اکثر سسرال شروع میں داماد کو بہت عزت اور محبت دیتا ہے۔ اس کی ہر بات کو اہمیت دی جاتی ہے، اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اسے خاص ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ماں باپ اسے ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں، غلطی پر ڈانٹتے ہیں اور زندگی کے تلخ حقائق سمجھاتے ہیں۔ مرد بعض اوقات اس فرق کو سمجھنے میں ناکام رہتا ہے۔ وہ سسرال کی عارضی خوش اخلاقی کو اصل محبت اور والدین کی نصیحت کو بے جا مداخلت سمجھنے لگتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے فیصلوں میں سسرال کا اثر بڑھتا جاتا ہے اور اپنے گھر والوں کی باتیں اسے بری لگنے لگتی ہیں۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ سسرال سے ایک فون کال آئے تو بھائی ہر کام چھوڑ کر پہنچ جاتا ہے، لیکن ماں فون کرکے اپنی بیماری بتائے تو جواب ملتا ہے کہ ابھی وقت نہیں، بعد میں آؤں گا۔ سسرال میں کسی تقریب یا دعوت کی بات ہو تو وہ اپنی مصروفیات کے باوجود وقت نکال لیتا ہے، لیکن اپنی بہن کی خوشی، پریشانی یا ضرورت کے موقع پر اسے کئی مجبوریاں یاد آ جاتی ہیں۔ کیا ماں باپ کی خدمت اور بہنوں کا خیال رکھنا صرف شادی سے پہلے کی ذمہ داری تھی؟ کیا نکاح کے بعد خون کے رشتوں کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔
کچھ گھروں میں یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بیوی شوہر کو اس کے خاندان سے دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ بار بار یہ احساس دلاتی ہے کہ تمہارے گھر والے تمہاری قدر نہیں کرتے، تمہاری کامیابی سے خوش نہیں ہوتے اور تمہارے خیر خواہ صرف ہم ہیں۔ روزانہ کی شکایتیں، تلخ جملے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے شوہر کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ وہ گھر میں سکون برقرار رکھنے کے لیے بہن بھائیوں سے فاصلہ اختیار کر لیتا ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ ہر معاملے میں صرف بیوی کو قصوروار نہ ٹھہرایا جائے۔ بعض اوقات بھائی خود بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوتا ہے، والدین اور بیوی کے درمیان توازن قائم نہیں کر پاتا یا اپنی سہولت کے لیے ایک رشتے کو دوسرے پر ترجیح دینے لگتا ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر بہن درست اور ہر بیوی غلط نہیں ہوتی۔ بعض اوقات بہن بھائیوں کی غیر ضروری مداخلت، طنز یا بیوی کے ساتھ نامناسب رویہ بھی ازدواجی زندگی میں مسائل پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح بعض بیویاں اپنے شوہر کو والدین کی خدمت سے روکنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اس لیے کسی ایک رشتے کو مکمل طور پر قصوروار قرار دینے کے بجائے ہر شخص کو اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ رشتے الزام تراشی سے نہیں، احساس، احترام اور انصاف سے قائم رہتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ بیوی کو اہمیت دینا غلط نہیں، بلکہ اس کا حق ہے۔ وہ زندگی بھر کی ساتھی ہے، اس کے جذبات، ضروریات اور عزت کا خیال رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ لیکن بیوی کے حقوق ادا کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والدین کو تنہا چھوڑ دیا جائے یا بہنوں کو اجنبی سمجھ لیا جائے۔ ماں باپ کی خدمت، ان کی دلجوئی اور بہن بھائیوں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی ہماری اخلاقی اور دینی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ اسلام بھی رشتوں کے حقوق ادا کرنے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور اہلِ خانہ کے ساتھ انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔
ایک سمجھ دار بھائی وہ نہیں جو ہر حال میں صرف بیوی یا صرف اپنے والدین کی بات مانے، بلکہ وہ ہے جو دونوں کے درمیان انصاف اور توازن قائم کرے۔ اگر والدین غلط ہوں تو ادب سے ان کی اصلاح کی کوشش کرے، اگر بیوی کے ساتھ زیادتی ہو تو اس کا ساتھ دے، اور اگر بہنوں کا حق بنتا ہو تو انہیں ان کا حق دلائے۔ اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کو اعتماد میں لے، والدین کو عزت دے اور بہنوں کو یہ احساس دلائے کہ شادی کے بعد بھی ان کی جگہ اس کے دل میں قائم ہے۔
یاد رکھیے! شادی کے بعد رشتوں کی ترتیب بدل سکتی ہے، لیکن محبت اور ذمہ داری ختم نہیں ہونی چاہیے۔ بیوی زندگی کی ساتھی ہے، والدین ہماری بنیاد ہیں اور بہن بھائی ہماری زندگی کی وہ یادیں ہیں جن سے ہمارا بچپن، ہماری خوشیاں اور ہماری پہچان جڑی ہوتی ہے۔ بیوی کو خوش رکھنے کے لیے ماں کے آنسوؤں کو نظر انداز کرنا یا سسرال کی عزت کے لیے بہن کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا کسی کامیاب ازدواجی زندگی کی علامت نہیں۔
ہر بھائی سے یہی گزارش ہے کہ اپنی بیوی کو بھی عزت دیں اور اپنے والدین و بہن بھائیوں کو بھی ان کا مقام دیں۔ رشتوں میں انصاف کریں، کسی کو دوسرے کے خلاف استعمال نہ کریں اور اپنی خاموشی سے کسی کا دل نہ توڑیں۔ کیونکہ سسرال میں ملنے والی عزت اپنی جگہ، لیکن والدین کی دعاؤں، بہنوں کی محبت اور اپنے گھر کی اپنائیت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ وقت گزرنے کے بعد شاید سب کچھ واپس مل جائے، مگر کسی ماں کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کے لیے انتظار اور کسی بہن کے دل میں بھائی کی بے رخی سے پیدا ہونے والی ٹھیس ہمیشہ یاد رہ جاتی ہے۔
رشتے نبھانے کے لیے کسی ایک کو چھوڑنا ضروری نہیں، بلکہ دل بڑا کرنے اور انصاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے
مزید پڑھیں




