پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اصل انقلاب ابھی باقی ہے،تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر

اس روز باستیل ٹوٹا نہیں تھا ، انسان کے خوف کی ایک دیوار ٹوٹی تھی۔

14 جولائی 1789ء کو پیرس کے لوگ فرانس کے شاہی قلعے باستیل کے سامنے جمع تھے۔ یہ محض پتھروں سے بنی ایک عمارت نہیں تھی؛ یہ شاہی اقتدار ، خوف اور بے اختیاری کی علامت بن چکی تھی۔ ہجوم نے قلعے پر دھاوا بولا ، لڑائی ہوئی اور بالآخر قلعہ لوگوں کے قبضے میں آ گیا۔ جب دروازے کھلے تو وہاں صرف سات قیدی ملے۔ سات قیدی! لیکن تاریخ کے لیے اس دن کی اہمیت ان قیدیوں کی تعداد میں نہیں ، اس دیوار کے گرنے میں تھی جسے لوگ برسوں سے ناقابلِ شکست سمجھتے آئے تھے۔

انسان جب کسی نظام سے تنگ آ جاتا ہے تو اسے بدلنے کا خواب دیکھتا ہے۔ جب ناانصافی حد سے بڑھ جائے ، جب اقتدار چند ہاتھوں میں سمٹ جائے اور جب عام آدمی کی آواز ایوانوں تک پہنچنا بند ہو جائے تو تبدیلی کی خواہش ایک تحریک میں ڈھلنے لگتی ہے۔ پھر کوئی نعرہ جنم لیتا ہے ، کوئی پرچم بلند ہوتا ہے اور لوگ اپنے خوف سے نکل کر تاریخ کے میدان میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔

فرانسیسی انقلاب نے آزادی ، مساوات اور اخوت کے ایسے تصورات کو دنیا بھر میں نئی قوت دی جنہوں نے بادشاہت اور موروثی مراعات کے جواز کو چیلنج کیا۔ بادشاہت کا خاتمہ ہوا ، پرانا نظام ٹوٹا ، لیکن اس کے بعد فرانس کو خونریزی ، سیاسی انتقام اور دہشت کے دور سے بھی گزرنا پڑا۔ انقلاب کے نام پر انقلاب کے ساتھی بھی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ بالآخر نپولین بوناپارٹ اقتدار میں آیا اور فرانس نے ایک بار پھر مضبوط مرکزی اقتدار کا تجربہ کیا۔ سوال یہ نہیں کہ فرانسیسی انقلاب نے تاریخ بدلی یا نہیں؛ اس نے تاریخ بدلی۔ سوال یہ ہے کہ آزادی کے نام پر شروع ہونے والی جدوجہد اپنے راستے میں خود کتنی بار اپنے ہی اصولوں سے دور ہو گئی۔

فرانس کے بعد ہیٹی کی تاریخ دیکھیے۔ وہاں غلام بنائے گئے انسانوں نے ایک ایسی طاقت کے خلاف بغاوت کی جس نے انہیں انسان سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا۔ یہ محض حکومت بدلنے کی جنگ نہیں تھی؛ یہ انسان ہونے کے حق کی جنگ تھی۔ برسوں کی جدوجہد کے بعد یکم جنوری 1804ء کو ہیٹی نے آزادی کا اعلان کیا۔ دنیا کی تاریخ میں یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ سابق غلاموں نے اپنی قوت سے ایک آزاد ریاست قائم کی۔

لیکن آزادی کا اعلان کر دینا اور آزادی کے ساتھ جینا دو الگ باتیں ہیں۔ فرانس نے 1825ء میں ہیٹی کی آزادی کو تسلیم کرنے کے بدلے اس پر سابق نوآبادیاتی مالکان کو معاوضہ ادا کرنے کی بھاری شرط عائد کی۔ ایک ایسی قوم، جس نے غلامی سے نکلنے کے لیے خون بہایا تھا ، اسے اپنی آزادی کی بین الاقوامی منظوری کے لیے مالی بوجھ اٹھانا پڑا۔ یوں ایک طرف آزادی کا پرچم بلند تھا تو دوسری طرف نئی ریاست کی معاشی زندگی پر ایک ایسا بوجھ ڈال دیا گیا جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے گئے۔ یہاں تاریخ ایک تلخ حقیقت سامنے لاتی ہے: کبھی انسان سیاسی غلامی سے تو نکل آتا ہے مگر طاقت کے نئے رشتے اسے دوسری طرح سے جکڑ لیتے ہیں۔

پھر 1917ء کا روس سامنے آتا ہے۔ زار کی حکومت ختم ہوئی ، انقلاب آیا اور بالشویکوں نے مزدوروں اور کسانوں کے نام پر اقتدار سنبھالا۔ وعدہ ایک ایسے معاشرے کا تھا جس میں استحصال کا خاتمہ ہو ، دولت اور وسائل پر چند لوگوں کی اجارہ داری نہ رہے اور عام انسان کو اس کی محنت کا حق ملے۔ مگر جنوری 1918ء میں جب دستور ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا تو اسے زیادہ دیر کام نہ کرنے دیا گیا اور بالشویک قیادت نے اسے تحلیل کر دیا۔ انقلاب کے بعد اقتدار کا سوال ایک بار پھر سامنے تھا: کیا عوام کے نام پر قائم ہونے والی حکومت عوام کی آزاد سیاسی آواز کو بھی برداشت کرے گی؟

اس کے بعد سوویت نظام نے صنعت، تعلیم اور ریاستی طاقت کے میدانوں میں بڑی تبدیلیاں کیں، مگر سیاسی آزادیوں کی محدودیت اور ریاستی جبر بھی اس کی تاریخ کا حصہ بنے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ انقلاب کے بعد کچھ بھی نہیں بدلا؛ بہت کچھ بدلا۔ لیکن یہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ مساوات کا وعدہ کرنے والا نظام جب اختلاف کو خطرہ سمجھنے لگے تو اس کے اپنے اصول سوالوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔

چین میں ماؤ زے تنگ کے دور کی مثال بھی اسی بحث کو ایک اور رخ دیتی ہے۔ انقلاب کے بعد نئی ریاست نے ملک کو بدلنے، صنعت بڑھانے اور معاشرے کی تنظیمِ نو کے بڑے منصوبے شروع کیے۔ لیکن 1958ء میں شروع ہونے والی عظیم جست کی مہم کے دوران زرعی پیداوار اور معیشت سے متعلق تباہ کن فیصلوں، جبری پالیسیوں اور قحط نے کروڑوں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ اس انسانی المیے کی تفصیلات اور اموات کے تخمینوں پر تاریخ دانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، مگر اس بات پر اختلاف نہیں کہ اس دور میں عوام نے ناقابلِ تصور مصائب برداشت کیے۔

یہاں سوال کسی ایک نظریے کو مکمل طور پر رد کرنے کا نہیں، بلکہ اس اصول کو سمجھنے کا ہے کہ جب حکمران اپنے منصوبے کو حقیقت سے زیادہ اہم سمجھنے لگے، جب اختلاف کرنے والے کی آواز دبائی جائے اور جب اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں تو ان کے فیصلوں کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔ انقلاب کا دعویٰ خواہ کتنا ہی بلند ہو، بھوک سے مرتا ہوا انسان اس دعوے کی کامیابی کا ثبوت نہیں بن سکتا۔

ان تمام واقعات کو ایک ساتھ دیکھیں تو ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے: کیا انقلاب کا مطلب صرف پرانے حکمران کو ہٹا کر نیا حکمران لے آنا ہے؟ کیا قلعہ گرا دینا کافی ہے، اگر قلعے کے باہر کھڑا انسان اقتدار ملنے کے بعد خود ایک نیا قلعہ تعمیر کرنے لگے؟ کیا آزادی کا نعرہ بلند کرنے والا شخص اقتدار میں آ کر دوسروں کی آزادی محدود کرنے لگے تو اسے انقلاب کی تکمیل کہا جا سکتا ہے؟

یہاں بات صرف حکمرانوں کی نہیں، انسان کے اس تصور کی بھی ہے جو وہ اقتدار کے بارے میں اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر وہ اقتدار کو خدمت کے بجائے اپنی برتری کا ذریعہ سمجھے، اگر وہ اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو بغاوت سمجھنے لگے، اگر وہ اپنے مخالف کو برابر کا انسان ماننے سے انکار کر دے تو صرف حکومت بدلنے سے معاشرہ بنیادی طور پر نہیں بدلتا۔ پرانی عمارت گرا کر نئی عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے، لیکن اگر اس کی بنیاد میں وہی ناانصافی، وہی غرور اور وہی بے حسی شامل ہو تو نئی عمارت بھی وقت کے ساتھ پرانی عمارت جیسی بن سکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے اندر تبدیلی آئے تو معاشرتی اور سیاسی نظام بدلنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بھوک کا جواب صرف نصیحت نہیں، معاشی انصاف بھی ہے۔ ظلم کا جواب صرف اچھے ارادے نہیں، قانون اور احتساب بھی ہیں۔ اور اقتدار کی زیادتیوں کو روکنے کے لیے صرف اچھے حکمران کی امید کافی نہیں، ایسے ادارے بھی ضروری ہیں جو حکمران کو قانون کے تابع رکھیں۔ بیرونی تبدیلی اور اندرونی تبدیلی ایک دوسرے کی مخالف نہیں؛ ایک کے بغیر دوسری ادھوری رہ سکتی ہے۔

اصل انقلاب شاید اسی مقام پر شروع ہوتا ہے جہاں انسان صرف یہ نہیں پوچھتا کہ حکمران کون ہے، بلکہ یہ بھی پوچھتا ہے کہ اقتدار کا استعمال کیسے ہو رہا ہے۔ جہاں آزادی کا مطلب صرف اپنے لیے آزادی نہیں رہتا، جہاں انصاف کا مطالبہ اپنے مخالف کے لیے بھی برقرار رہتا ہے، اور جہاں کامیابی کا معیار صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اس اقتدار کے ذریعے انسان کی زندگی بہتر بنانا ہوتا ہے۔

باستیل کے قلعے سے لے کر آج کے اقتدار کے ایوانوں تک تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کی شکل بدل سکتی ہے، اس کے استعمال کا طریقہ بھی بدل سکتا ہے، مگر اگر انسان اپنے اندر موجود برتری کے احساس، بے حسی اور دوسروں پر حکم چلانے کی خواہش پر قابو نہ پائے تو پرانی کہانی نئے کرداروں کے ساتھ دہرائی جا سکتی ہے۔

قلعے گرانا کبھی کبھی ضروری ہوتا ہے۔ ظالمانہ نظام بدلنا بھی ضروری ہے۔ لیکن ان سب کے ساتھ ایک اور کام باقی رہتا ہے: ایسا انسان پیدا کرنا جو اقتدار ملنے کے بعد خود کو دوسروں سے برتر نہ سمجھے، جو اختلاف سن سکے، اپنی غلطی مان سکے اور اس شخص کے حق کو بھی تسلیم کرے جو اس سے متفق نہ ہو۔

شاید اسی لیے تاریخ میں انقلاب بار بار آتے ہیں، مگر انسان کی آزادی، انصاف اور عزت کی جدوجہد کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ ہر نسل کو اپنے زمانے کے قلعے پہچاننے پڑتے ہیں، ہر معاشرے کو اپنی ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ہر اقتدار کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ صرف پرانے اقتدار کی جگہ لینے نہیں آیا۔

کیونکہ انقلاب کی اصل کامیابی اس دن نہیں ہوتی جب پرانا حکمران رخصت ہو جائے؛ اس دن ہوتی ہے جب نیا حکمران بھی خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے، جب عام انسان کو اپنی بات کہنے کے لیے کسی قلعے کے دروازے پر دستک نہ دینی پڑے، اور جب طاقتور کی عزت کے ساتھ کمزور کی عزت بھی محفوظ ہو۔

قلعے تاریخ میں بار بار گرتے رہیں گے، تخت بدلتے رہیں گے اور نئے نظام اپنے وعدوں کے ساتھ آتے رہیں گے۔ مگر جب تک انسان اقتدار کو خدمت، آزادی کو ذمہ داری اور انصاف کو سب کے لیے برابر سمجھنا نہیں سیکھتا، انقلاب کا سفر مکمل نہیں ہو سکتا۔