انسان کے لیے لکھنا ایک تخلیق ہے اور جب وہ اپنے اتنے خوبصورت خیالات کو لکھ کر لفظوں کی صورت میں ڈھالتا ہے، ان کو تسبیح کے دانوں کی طرح پروتا ہے تو وہ ایک تخلیق کار بن جاتا ہے۔ ایک ایسا لکھاری بن جاتا ہے جس کے لیے لکھنا ایسے ضروری ہوتا ہے جیسے جینے کے لیے سانس لینا ضروری ہوتا ہے۔
لکھاری ہونے اور لکھاری بننے میں بہت نمایاں فرق ہے۔ خدادا صلاحیتوں، خیالات و جذبات، احساسات، کیفیات کو خوبصورت انداز میں لفظوں میں بیان کرنا، اس کے ذہن میں جو بھی خیالات و جذبات آئیں ان کو صفحہ قرطاس کی زینت بنانا اپنے لفظوں سے سب کو اپنا اسیر بنانا ایک بہترین لکھاری ہونے کی پہچان ہے۔
ایک اچھا لکھاری وہ ہوتا ہے جو اپنے خوبصورت خیالات و احساسات کو اپنے لفظوں سے اس انداز سے بیان کرے کہ اس کے شیریں اور خوبصورت موتیوں میں پروئے ہوئے الفاظ سب کے قلب کو چھو جائیں۔ ایسے لفظوں کی تخلیق کی گئی ہو جو سب کے دلوں میں تاحیات نقش ہو جائیں۔
ایک لکھاری جب اپنے قلم سے اپنے خیالات کو لکھتا ہے، اپنے خوبصورت لفظوں کے ذریعے اپنی ہر بات کا اظہار کرتا ہے تو اس میں ایسا جادو ہوتا ہے کہ وہ ہر پڑھنے والے کو اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔ اس کے لفظوں کی ادائیگی ہی اتنی پر کشش ہوتی ہے کہ وہ جو بھی لکھتا ہے محبت، سچ، جھوٹ، فریب، دھوکا وہ بالکل سچ پر مبنی حقیقت لگتی ہے۔ جس میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ ہر پڑھنے والے انسان کی روح میں سماں جاتی ہے۔
ایک لکھاری کا انداز بیاں ہی اتنا دلکش اور کمال ہونا چاہیے کہ وہ اپنے خوبصورت اور پر کشش لفظوں کی پہچان سے پہچانا جا سکے۔ اس کے قلم میں اتنا جادو ہو، اتنا نکھار ہو کہ وہ جو بھی لکھے اس میں سمندر کی اتنی گہرائی ہو کہ پڑھنے والے کو اس جہاں میں لے جائے جہاں اس کی ہر پریشانی ختم ہو سکے۔ اس کو جینے کی وجہ مل سکے۔ اس کی دنیا ہی بدلی جا سکے۔ اس کے ان لفظوں میں چاند سی روشنی ہو جو پڑھنے والا اپنی نظریں نہ ہٹا سکے اور بار بار اس تجسس اور لگن سے پڑھ کر خود میں وہ سب محسوس کر سکے جس سے اس کی دنیا روشن ہو سکے۔
ایسے لکھاریوں کے قلم میں خداداد صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ وہ اپنے دل اور ذہن کے خیالات اور احساسات و جذبات کو ایسے نفیس انداز میں لکھتا ہے کہ ہر صنف میں اپنے لفظوں کو ڈھال لیتا ہے۔ جب اپنے لفظوں کے جادو کو شاعری کی نظر کرتا ہے تو دل کو چیر دینے والے الفاظ حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ایسے دکھ بھرے اور غم والے الفاظ جو پڑھنے والے کو اندر تک بےچین کر کے ان کی آنکھوں کو نم کر دیتے ہیں۔ ایسی محبت کی داستان بیان کی جاتی ہے جس میں محبت کے جذبات محسوس کیے جائیں اور انسان کو محبت سے محبت ہو جائے۔ محبت کی دنیا حسین ترین لگنے لگ جائے اور انسان اس محبت کی دنیا میں خود کو پر سکون کر سکے۔
اگر ایسا انداز بیاں ہو ایک لکھاری کا تو وہ سچ میں لکھاری کہلانے کے لائق ہوتا ہے۔
لکھنے کا ہنر انسان کو خود سے آشنا کرواتا ہے۔ خود کی ایک پہچان کرواتا ہے۔ جب انسان کے پاس اظہار خیال کرنے کو کوئی نہیں ہوتا ہے تب اس کا بہترین ساتھی اس کا قلم ہوتا ہے۔ اس کا وہ دوست، وہ رہنما جو اس کے خیالات و جذبات کو سب کے سامنے بیان کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ایک اچھے دوست کی طرح اس کی انگلی تھامتا ہے اور اس کو آگے بڑھنا سیکھاتا ہے اور جب قلم لکھنے لگتا ہے تو سب سے پہلے ایک لکھاری کے خیالات و جذبات، اس کے احساسات اور دل کی باتوں کو لکھ کر ہر اس انداز میں بیان کرتا ہے جو انسان اپنے اندر پوشیدہ رکھ کر بس خاموش رہتا ہے۔ جب لکھاری اپنے جذبات لکھنے لگتا ہے تب اس کے قلم کی روانی بس چلتی رہتی ہے اور الفاظ خود بخود صفحہ قرطاس پر اپنا رنگ بکھیرتے چلے جاتے ہیں۔
ایک لکھاری اپنے اندر کی باتیں کسی سے کبھی کر ہی نہیں سکتا ہے وہ باتیں وہ احساسات و خیالات اس کا قلم اپنے جادو سے ایک صفحے پر قلمبند کرتا جاتا ہے اور پھر ان لفظوں کو سب کی نظر کر دیا جاتا ہے تاکہ ہر انسان ان لفظوں کی خوبصورتی سے زیادہ اس کے جذبات و احساسات کو سمجھ سکے۔
ہم لکھاریوں کی پہچان، ہمارے اپنے خیالات و جذبات، احساسات اور الفاظ ہوتے ہیں جو ہماری کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں اور ہمیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ ایک لکھاری مرتے دم تک اپنے قلم کو رکنے نہیں دیتا ہے۔ وہ مسلسل زندگی کا ہر موڑ بیان کرنے کی کاوشوں میں اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے۔ ایسا ہوتا ہے ایک لکھاری جو ہمیشہ اپنے قلم سے محبت کرتا ہے اور اپنے تاثرات کو لکھتا رہتا ہے۔ اس کے لفظوں کی خوشبو سے ہر انسان معطر ہو جاتا ہے۔ اس کے لفظوں سے ہر انسان اپنی زندگی جینے کی امید کرتا ہے اور بہترین دنیا و آخرت کی تیاری کرتا ہے۔
مزید پڑھیں




