بدھ، 4 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فائز (FAAZ): پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ بی وی آر میزائل ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

نقطہ نظر

فضائی طاقت میں ایک نیا باب اور بھارت کے لیے ایک تزویراتی پیغام

Faaz — Pakistan's Indigenous BVR Missile | Baaghi TV

دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، دفاعی بازدارندگی کی حکمت عملی اور دفاعی جدیدکاری کے امور میں مہارت رکھتے ہیں۔ ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز کے رکن اور سابق افسر پاکستان آرمی ہیں عسکری امور، تزویراتی مطالعات، جغرافیائی سیاست، قومی سلامتی، تاریخِ جنگ اور علاقائی سلامتی کی حرکیات کے حوالے سے وسیع تجربہ اور تحقیقی دلچسپی رکھتے ہیں۔ تحقیق اور سماجی ترقی کی سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بلڈر، ڈویلپر اور فلاحی شخصیت ہیں اور پاکستان بھر میں متعدد مدارس اور اسکولوں کے قیام و انتظام میں کردار ادا کر رہے ہیں۔


پاکستان نے اپنے دفاعی اور فضائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے 3 نومبر 2026 کو مقامی طور پر تیار کردہ *فائز (FAAZ) بیونڈ ویژول رینج (BVR) ایئر ٹو ایئر میزائل* کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کیا ہے۔ یہ پیش رفت محض ایک ہتھیار کے کامیاب تجربے تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کرنے، فضائی جنگی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور جنوبی ایشیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے تزویراتی ماحول میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔


انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کے اعلان کے مطابق اس میزائل میں جدید ٹرمینل گائیڈنس سسٹم نصب ہے اور اسے طویل فاصلے سے فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کامیاب تجربے کا مشاہدہ اعلیٰ فوجی افسران، سائنس دانوں اور اس کی تیاری میں شامل انجینئرز نے کیا۔


فائز (FAAZ) کی تکنیکی صلاحیتوں کو سمجھنا


فائز میزائل فیملی پاکستان کے دفاعی ادارے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (GIDS) کے زیرِ ترقی اور تشہیر کردہ پروگرام کا حصہ ہے، جس میں پاکستان کے مقامی دفاعی تحقیق اور ترقی کے ادارے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔


کمپنی کی جانب سے پہلے جاری کردہ تکنیکی تفصیلات اس میزائل خاندان کی صلاحیتوں کا ایک اہم خاکہ پیش کرتی ہیں۔


بنیادی ورژن *FAAZ-1* کی اعلان کردہ مؤثر رینج تقریباً 100 کلومیٹر ہے، جبکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ورژن *FAAZ-2* کو تقریباً 180 کلومیٹر کی رینج کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ دونوں ورژنز کے لیے دو مختلف قسم کے سیکر (Seeker) نظام پیش کیے گئے ہیں:


*1۔ ایکٹو ریڈار ہومنگ (RF):* اس نظام میں میزائل کے اندر نصب ریڈار سیکر استعمال ہوتا ہے، جو ہدف کو تلاش کرنے اور آخری مرحلے میں اس کا تعاقب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میزائل کے ہدف کو حاصل کر لینے کے بعد یہ فائر اینڈ فارگیٹ (Fire-and-Forget) صلاحیت فراہم کر سکتا ہے۔


*2۔ امیجنگ انفراریڈ (IIR):* اس ورژن میں تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، جو ہدف کے انفراریڈ یعنی حرارتی سگنل کی مدد سے اس کی شناخت اور تعاقب کرتی ہے۔ یہ ایک متبادل غیر فعال گائیڈنس نظام فراہم کرتا ہے۔


GIDS کی شائع کردہ معلومات کے مطابق فائز میزائل فیملی کی زیادہ سے زیادہ رفتار *ماک 3.5* بتائی گئی ہے۔ اس سے قبل جاری کردہ تکنیکی معلومات میں RF اور IIR سیکر کی ہدف کی شناخت کی حدود بالترتیب تقریباً 25 اور 40 کلومیٹر بیان کی گئی تھیں۔


یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کہ جدید بی وی آر فضائی جنگ صرف دور فاصلے سے میزائل داغنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے جدید رہنمائی کا نظام، ہدف کے بارے میں درست معلومات، دشمن کے الیکٹرانک دفاعی اقدامات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور دشمن کے چکمہ دینے والے طیارے کو تباہ کرنے کے لیے میزائل میں مناسب رفتار اور توانائی برقرار رکھنا ضروری ہے۔


یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ فائز فیملی کی مذکورہ تکنیکی خصوصیات کمپنی کی پہلے سے شائع کردہ معلومات پر مبنی ہیں، جبکہ 3 نومبر کو تجربہ کیے گئے میزائل کی مکمل تکنیکی کارکردگی اور تفصیلات ابھی سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔


پاک بھارت تزویراتی تناظر میں فائز کی اہمیت


فائز کی تزویراتی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب اسے بھارت کی جدید فضائی جنگی صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری کے تناظر میں دیکھا جائے۔


بھارت کے پاس جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم اور میٹیور بی وی آر میزائلوں سے لیس رافیل لڑاکا طیارے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت اپنے مقامی آسٹرا میزائل پروگرام کو بھی ترقی دے رہا ہے اور ریڈار و فضائی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔


دوسری جانب پاکستان نے جے ایف 17 بلاک تھری اور جے 10 سی ای لڑاکا طیاروں، جدید ریڈار نظاموں اور پی ایل 15 ای سمیت جدید درآمد شدہ ہتھیاروں کے ذریعے اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔


فائز جیسی مقامی میزائل صلاحیت اس مقابلے میں ایک نیا پہلو شامل کرتی ہے۔ اس سے مستقبل میں غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کرنے اور میزائلوں کی تیاری، اپ گریڈیشن، دیکھ بھال اور مختلف طیاروں کے ساتھ انضمام پر پاکستان کا اختیار بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔


خصوصاً FAAZ-2 کی اعلان کردہ 180 کلومیٹر کی رینج قابلِ توجہ ہے۔ کاغذی طور پر یہ اسے کئی جدید بی وی آر میزائلوں کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والے زمرے میں شامل کرتی ہے۔ تاہم حقیقی جنگی کارکردگی کا انحصار میزائل داغنے کے حالات، ہدف کی بلندی، طیارے کی رفتار، ریڈار کی معاونت، الیکٹرانک وارفیئر اور آخری مرحلے میں میزائل کی باقی ماندہ توانائی پر ہوتا ہے۔


نئی دہلی کے لیے تزویراتی پیغام


بھارت کے لیے پیغام واضح ہے: پاکستان اپنی فضائی دفاعی بازدارندگی کو قابلِ اعتماد اور مؤثر رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور خطے میں کسی ایک ملک کو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر غیر متنازع برتری حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔


مئی 2025 کی پاک بھارت عسکری کشیدگی نے یہ واضح کر دیا تھا کہ جدید فضائی جنگ میں بی وی آر میزائلوں، الیکٹرانک وارفیئر، نگرانی، انٹیلی جنس اور مربوط کمانڈ سسٹمز کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔


مستقبل کی جنگ میں لازمی نہیں کہ زیادہ طیارے رکھنے والا ملک ہی کامیاب ہو۔ اصل برتری اس ملک کو حاصل ہو گی جو اپنے لڑاکا طیاروں، میزائلوں، سینسرز اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو ایک مربوط جنگی نظام میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔


فائز اس مقصد کی جانب پاکستان کا ایک اہم قدم ہے۔


تزویراتی خودمختاری اور مستقبل کا راستہ


پاکستان کی اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب وہ ایک پائیدار مقامی دفاعی پیداواری نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو گا۔ ملک کو مقامی پروپلشن ٹیکنالوجی، جدید ریڈار سیکرز، انفراریڈ امیجنگ، الیکٹرانک کاؤنٹر کاؤنٹر میژرز اور محفوظ ڈیٹا لنک سسٹمز میں سرمایہ کاری جاری رکھنی ہو گی۔


میزائل کا کامیاب تجربہ ایک حوصلہ افزا آغاز ہے، تاہم مزید تجربات، عملیاتی انضمام اور بڑے پیمانے پر پیداوار ہی اس کی حقیقی عسکری اہمیت کا تعین کریں گے۔


بھارت کے لیے فائز اس بات کی یاد دہانی ہونی چاہیے کہ پاکستان کی دفاعی صنعت ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور جنوبی ایشیا میں ٹیکنالوجی کی بنیاد پر عسکری مقابلہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔


پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ درآمد شدہ دفاعی سازوسامان پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کے بجائے سائنسی ترقی اور مقامی ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنائے۔


فائز پاکستان کے دفاعی ذخیرے میں محض ایک اور میزائل کا اضافہ نہیں، بلکہ یہ ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کے عزم، تزویراتی پختگی اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا قابلِ اعتماد توازن برقرار رکھنے کے قومی عزم کا اظہار ہے۔