بدھ، 4 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،دانیال حسن چغتائی

نقطہ نظر
danial hassan

آدمی جس معاشرے میں سانس لیتا ہے، اس کی ناانصافیوں، نزاکتوں اور گوناگوں مسائل پر قلم اٹھانا اس کا اجتماعی و اخلاقی فریضہ سمجھا جاتا ہے تاہم اس ہمہ گیر مشغلے میں صاحبِ قلم کا اپنا وجود بسا اوقات طاقِ نسیاں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اپنے حالاتِ زندگی کی نقش گری پر غور کرنا ایسا نادر اور چشم کشا اقدام ہے جو نہ صرف آئندہ نسلوں کو دانستہ و نادانستہ خطاؤں کی اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ فکری بالیدگی کے کئی پوشیدہ گوشوں کو بھی وا کرتا ہے۔ یہ تحریر میری زیست کے انہی ادبی و فکری مراحل کی ایک جھلک ہے جو نقوشِ ماضی سے ابھر کر دائرہ تحریر میں سموئے جا رہے ہیں۔

جب میں نے دیارِ ہوش میں قدم رکھا تو ہماری سکونت ایک وسیع و عریض مشترکہ خاندانی گھرانے پر محیط تھی۔ اس مسکن میں ہم اپنے محترم والدین اور تین چچا صاحبان کے ساتھ بود و باش اختیار کیے ہوئے تھے۔ مشترکہ خاندانی نظام اپنی نوعیت میں جہاں یگانگت، تحفظ اور ہمدردی کی روایات کا امین ہوتا ہے، وہاں فکری کشمکش، ذاتی آزادی میں خلل اور داخلی ناہمواریوں کے نقائص سے بھی مبرا نہیں ہوتا۔ اس ماحول کی مثبت خصوصیات سے جہاں فکری و جذباتی فائدہ حاصل ہوا، وہیں اس کی داخلی خامیوں کے جو اثرات ہماری شخصیت پر مرتب ہوئے، وہ آج بھی رزم گاہِ حیات کی مسلسل جدوجہد کا پائیدار اور لازمی حصہ ہیں۔

غالباً پانچ یا چھ سال کی عمر میں مطالعے کی پہلی جھلک اپنے بڑے چچا زاد صاحبان کے معرفت دیکھنے کو ملی۔ وہ ماہانہ رسائل جیسے ”ہمدرد نونہال“ اور ”تعلیم و تربیت“ خرید کر لایا کرتے تھے۔ مہینے کے اختتام پر جب یہ مجلے بار بار پڑھے جا کر پرانے اور بوسیدہ ہو جاتے، تو ہمیں ان کی ورق گردانی کی اجازت ملتی۔ اس طفلی کے دور میں مطالعہ کیا ہی ہوتا! بصر کو تصویروں کی رنگینی سے محظوظ کرنا، الفاظ کو جوڑ توڑ کر ادا کرنا اور غلط و درست کی تمیز کیے بغیر ان سطور میں غرق ہو جانا ہی ہمارا من پسند مشغلہ تھا۔

بعد ازاں، ”بچوں کا اسلام“ اور ”روضۃ الاطفال“ جیسے مجلوں نے ہمارے طفلانہ ذہن میں حرف و صوت کی محبت کو مزید مستحکم کیا۔ مزید برآں، ننھیال کا علمی و ادبی ماحول اس فکری آبیاری میں کلیدی سنگِ میل ثابت ہوا۔ میرے نانا جان اپنے وقت کے نامور روزناموں، خصوصاً ”نوائے وقت“، کے ممتاز نامہ نگار تھے اور ان کے فکر انگیز مضامین و کالم باقاعدگی سے اخبارات کی زینت بنتے تھے۔ میرے چھوٹے ماموں، محترم سلمان مظہر، نے نونہالانِ وطن کے لیے ڈھائی سو سے زائد پرمغز اور تربیت آموز کہانیاں تحریر کیں، جو ”نوائے وقت“ کے معروف میگزین پھول اور کلیاں، نیز ”نوائے سحر“ اور ”مسلمان بچے“ جیسے معتبر مجلات میں تادیر شائع ہوتی رہیں۔ گھر میں قلم، قرطاس اور خبر و نظر کی اس فراوانی نے ہمارے اندر تحریر و انشا کی حس کو ازخود بیدار اور پختہ کر دیا۔

آٹھویں جماعت میں ہائی سکول میں داخلہ میری قرطاس و قلم سے وابستگی کا دوسرا اہم موڑ تھا۔ جہاں دیگر طلبہ تفریح کے اوقات میں کھیل کود یا خور و نوش میں مصروف ہوتے، وہاں میری دوستی سکول کے فاضل لائبریرین صاحب سے ہو چکی تھی۔ میں بریک کے وقت سیدھا لائبریری کا رخ کرتا اور اخبارات کی ورق گردانی میں غرق ہو جاتا۔ مطالعے کی یہ تشنگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ جہاں بھی کوئی مطبوعہ ورق یا خبر کا ٹکڑا نظر آتا، میں وہیں بیٹھ کر اس کا حرف بحرف جائزہ لینے لگتا۔

اسی دور میں جاسوسی ڈائجسٹ اور دیگر معتبر رسائل سے شناسائی ہوئی۔ نانا جان کی عدم موجودگی میں ان کے ڈائجسٹوں کا مطالعہ میرا معمول بن گیا۔ اس بے سمت اور شوقیہ مطالعے نے تاریخ، صحافت، سیاست، فکشن، ناول نگاری اور شاعری جیسے تمام اصنافِ ادب کے دروازے مجھ پر وا کر دیے۔ چونکہ اس وقت کوئی ایسا رہنما موجود نہ تھا جو یہ بتاتا کہ کون سی کتاب اخلاقیات و شخصیت سازی کے لیے مفید ہے اور کون سا مواد غیر ضروری ہے، اس لیے ہر قسم کی مطبوعات کو بغير کسی تفریق کے پڑھنے کا یہ لاحاصل و حاصل سلسلہ پندرہ برس جاری رہا۔

اس طویل اور وسیع مطالعے کے بعد بالآخر یکم ستمبر 2019ء کو میں نے نونہالانِ ادب کے لیے اپنی پہلی کہانی بعنوان ”حلال و حرام“ تحریر کی، جو ماہنامہ ”مسلمان بچے“ میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوئی۔ اس کے بعد تحریر و انشا کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اب تک کے ریکارڈ کے مطابق 500 سے زائد کتب پر موثر اور جامع تبصرے، پانچ سو سے زائد کالم ، اتنی ہی بچوں کی کہانیاں: 50 سے زائد افسانے، 100 سے زائد علمی و ادبی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔

9 سے زائد تالیفات و تصنیفات، جو بالغ قارئین کے لیے مختلف علمی موضوعات پر شائع ہو چکی ہیں

پاکستان کا شاید ہی کوئی ایسا اطفال مجلہ ہو جس میں میری نگارشات شائع نہ ہوئی ہوں۔ یہ اعزاز میرے لیے جہاں جاوداں قابلِ فخر احساس کا حامل ہے، وہاں کڑا اخلاقی و علمی ذمہ داری کا بار بھی عائد کرتا ہے۔ اس وقت میں ”سرائے اردو پبلیکیشنز“ کے ساتھ بطور ادیب و مدیر بھی وابستہ ہوں اور ملک بھر کے نامور قومی اخبارات و مجلات میں میرے مضامین تسلسل کے ساتھ شائع ہوتے ہیں۔

طویل اور ہمہ گیر مطالعے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کا ذہن ملمع سازی، تصنع اور کذب بیانی سے شدید متنفر ہو جاتا ہے۔ حق گوئی اور اصول پسندی کو اپنا شعار بنانے کی وجہ سے اکثر و بیشتر مجھے مختلف ادبی و اجتماعی حلقوں، تنظیموں اور افراد کی جانب سے اختلاف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ اختلاف اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے کیونکہ جو بات فکری یا اخلاقی طور پر غلط ہو، اسے قبول کرنا میرے مسلکِ قلم کے خلاف ہے۔

زیست کا یہ سفر جو ایک مشترکہ خاندانی گھرانے کے کڑے احوال، بوسیدہ رسالوں کے جوڑ توڑ اور لائبریری کے گوشوں سے شروع ہوا تھا، آج پختہ قلمی کاوشوں اور فکری استقامت کے شفاف آئینے کی صورت میں قارئین کے سامنے ہے۔ میری تحریروں کا اصل مقصد معاشرے کی اصلاح اور آنے والی نسلوں کی صحیح سمت میں فکری رہنمائی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اپنے نیک مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے آمین ۔