میں مصنفہ یا شاعرہ نہیں ہوں۔ بس اپنے جذبات، احساسات اور خیالات کو لفظوں کا پیراہن دیتی ہوں۔
میرا نام شگفتہ خان ہے۔ 21 ستمبر کو سرگودھا کے ایک شہر بھلوال میں پیدا ہوئی۔ شاعری سے بہت لگاؤ تھا۔ پہلی نظم "کرن"میں شائع ہوئی تھی ۔بی۔اے کا رزلٹ نہیں آیا تھا کہ قریبی پرائیویٹ سکول نے بلا لیا۔ خیر ساتھ ہی اوپن یونیورسٹی سے بی۔ایڈ کیا۔ ایم۔اے اردو کیا۔ گورنمنٹ جاب کے لئےاپلائی کیا تو 2003 ء میں گورنمنٹ سکول کی استانی بن گئی۔ ساتھ ایم۔ایڈ کیا۔ پڑھنے کا اتنا شوق تھا کہ ایم اے اسلامیات فرسٹ ڈویژن میں کیا تو ایم اے اردو کی سکینڈ ڈویژن کھٹکنے لگی۔سرگودھا یونیورسٹی سے ایم اے اردو فرسٹ ڈویژن میں پھر کرلیا۔ 2014 ءمیں عمرہ اور زیارات پر گئی اور 2015 ء میں یونیورسٹی آف لاہور کے سرگودھا کیمپس میں ایم۔فل اردو کی ویک اینڈ کلاسسز میں داخلہ لےلیا۔ ایم۔فل کی اسائنمنٹ کےلئے سر نے عمرہ اور زیارات کے حوالے سے لکھنے کو کہا۔ سب نے بہت سراہا۔ سر نے کہا کسی اخبار میں شائع کروائیں لیکن وقت نہ مل سکا کہ ان کی بات پر عمل کیا جاتا۔ ستمبر 2020 ء میں برین ٹیومر ہوگیا۔ سرجری کے بعد اللہ تعالٰی نے کچھ لیا تو اپنی رحمت سے نوازا بھی بہت۔ اپریل 2021ء میں لکھنا شروع کیا۔ اپووا تنظیم کی رکن بنی تو"دیار رحمت کا سفر" سفر نامہ، مشرق میگزین، طالب نظر اور دیگر اخبارات میں شائع ہوکر پھر کتابی شکل میں آگیا۔ آن لائن میگزین "انسانیت "سے آغاز کیا اور پھر مختلف رسائل اور گروپس میں شامل ہوتی گئیں ۔ شاعری پر مشتمل دوسری کتاب "محبتوں کا دکھ " بھی شائع ہو چکی ہے۔شاعری کے ساتھ منظر نگاری اور مضمون نویسی کے مختلف مقابلہ جات میں شامل ہوکر 400 سرٹیفکیٹ، 15 ایوارڈز اور 2 گولڈ میڈل اور ایم۔فل میں گولڈ میڈل ہی میرا اثاثہ ہیں۔ 9 کتابوں کی شریک مصنفہ بھی ہوں۔





