ادب کا گلشن ہمیشہ ان کلیوں اور غنچوں سے مہکتا ہے جو اپنے اندر احساس کی خوشبو اور لفظوں کی تاثیر رکھتے ہیں۔ میرا نام ایمن ریاض ہے اور میرا تعلق چکوال کی ادبی و زرخیز مٹی سے ہے۔ ہر لکھاری کی زندگی میں ایسا لمحہ آتا ہے جب اس کے اندر کا تخلیق کار بیدار ہوتا ہے۔ میرے اس ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز سال 2021ء میں ہوا۔
ابتدا میں مجھے عینِ عشق نامی ادبی گروپ میں کام کرنے کا موقع ملا، جہاں میں نے تحریر کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ یہ دور سیکھنے کا بہترین تجربہ تھا۔ اس کے بعد میں نے صفِ شکن، حب الادب، مقیاس الادب، خواب گرد اور ماہنامہ اوز جیسے ممتاز پلیٹ فارمز کے ساتھ طویل عرصہ گزارا اور اپنے قلم کو جلا بخشی۔
میری تحریریں حجاب ڈائجسٹ اور سرگزشت ڈائجسٹ جیسے نامور ادبی جریدوں کی زینت بھی بن چکی ہیں۔ گزشتہ دو سالوں سے میں اپنا ادارہ قلمی آشیاں چلا رہی ہوں، جس کے تحت باقاعدگی سے ایک ماہانہ میگزین شائع کیا جاتا ہے اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف مقابلے بھی منعقد کروائے جاتے ہیں۔
ہر قلم کار کی زندگی میں دورِ جمود آتا ہے جب مصروفیات اور داخلی کیفیات کے باعث قلم کی روانی تھم سی جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا اور لکھنا کم ہو گیا، لیکن مطالعے کا رشتہ کبھی نہ ٹوٹا۔
حال ہی میں، میں نے اپنی تحریری سمت کو نیا موڑ دیا ہے اور بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا ہے۔ اس سال اب تک میں بچوں کے لیے 20
خوبصورت اور سبق آموز کہانیاں تحریر کر چکی ہوں، جو ماہنامہ بقعہ نور، اخبار جہاں، روزنامہ ایکسپریس اور روزنامہ اساس کے بچوں کے ایڈیشنز کا حصہ بن چکی ہیں۔
اب ایک بار پھر، میں اپنے اندر کے پرانے شوق کو مکمل توانائی کے ساتھ بیدار کر کے باقاعدگی سے لکھنے کے سفر پر گامزن ہوں۔
مزید پڑھیں





