ہمارا نام عائشہ بنتِ محمد یاسین ہے۔ ہم گوشۂ کائنات کے اک ذرے دیپالپور سے تعلق رکھتے ہیں۔
19 سال کی عمر میں، ہم فخر کے ساتھ دو متوازی دنیاؤں میں اپنا مقام بنا رہے ہیں۔ ادب اور ٹیکنالوجی۔
ہمارا قلم کے ساتھ باقاعدہ طور پر سفر پانچ سال قبل شروع ہوا اور اس مختصر عرصے میں ألحمدللّٰه میں اردو ادب کے ابھرتے ہوئے ناموں میں شامل ہو چکے ہیں۔ ہم مختلف اصنافِ ادب میں تحریر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہماری تخلیقی بصیرت صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور فن خطاطی تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ تعلیمی طور پر، ہم نے حال ہی میں ایف ایس سی مکمل کی ہے اور اب سافٹ ویئر انجینئرنگ کی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں تاکہ اس تیزی سے بدلتی ڈیجیٹل دنیا میں اپنی شناخت بنا سکیں۔ ہماری ڈیجیٹل مہارت میں ڈیجیٹل کریئیٹر، ایڈیٹر، ویب ڈیزائنر، گرافک ڈیزائنر کے طور پر کام شامل ہے۔
ہماری تحریریں متعدد معروف ادبی رسائل اور جرائد میں شائع ہو چکی ہیں، جن میں شامل ہیں:
ادب کی دنیا، صنفِ آہن، دی گریٹ پاکستان، گوہرِ نایاب، چراغِ پاکستان، کتاب نگر، قلمی آشیان میگزین، خواب گرد میگزین، روزںامہ میرا پاکستان، ماہانہ حسن جہاں لاہور، ماہانہ وجود مسلم میگزین وغیرہ شامل ہیں۔
اب تک ہمارا کام دس سے زائد انتھالوجی کتب میں شامل ہو چکا ہے اور ہمیں کئی قومی ادبی اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں الوکيل ادبی ستارے ایوارڈ، طالبِ نظر ایوارڈ اور APWWA پہچانِ پاکستان ایوارڈ شامل ہیں۔
ہم نے ہیومن رائٹس ایوارڈ 2025 بھی حاصل کیا ہے جو پاکستان کے ہیومن رائٹس کونسل سے منسلک ہے۔
اس کے علاوہ، ہمیں پاکستان لٹریری فورم کی جانب سے ادبی ایوارڈ بھی ملا ہے اور بھارت سے اعلیٰ ترین ادبی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
ہمیں سو لفظی کہانی مقابلے میں 197 لکھاریوں میں سے ٹاپ 10 لکھاریوں میں منتخب کیا گیا اور "درخشاں ستارہ" کے لقب سے نوازا گیا۔
رواں سال ہمیں پہچان پاکستان عہد ادب ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا۔ مزید اسی سال ہمیں پنجابی ادبی تنظیم چاننی ساہوال کی جانب سے طالب جتوئی ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا۔
مزید برآں، ہمیں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز میں دیپالپور کی جنرل سیکریٹری کے طور پر نامزد کیا گیا۔
ہم بھارت کی مختلف ادبی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں اور متعدد بین الاقوامی آن لائن ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔
اردو ادب کے علاوہ، ہم اکثر انگریزی ادب میں بھی قلم آزمائی کرتے رہتے ہیں۔
علاؤہ ازیں ہم اپنی ذاتی کتابوں پر کام کر رہے ہیں۔
الحمدللّٰه یہ محض آغاز ہے، سفر باقی ہے۔





