آنکھ تو پانچ دریاؤں کی خوبصورت، سرسبز و شاداب دھرتی۔ پنجاب کے چاقو چھریاں بنانے والے شہر کے قریبی گاؤں میں کھولی۔چند سال بعد ہی والدین کراچی ہجرت کر آئے۔اور پھر مجھے لیڈی ڈاکٹر بنانے کے خواب آنکھوں میں سجا کر تعلیم دلوانی شروع کردی۔
وہ بیچارے تھوڑی نا جانتے تھے کہ ہم نے ایک لکھاری اور شاعرہ پیدا کی ہے۔ایف اے کرنے کے بعد ماں باپ کا سہارا بننے کا شوق سر چڑھا تو پی ٹی سی کرکے ٹیچر بن گئ۔ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔خیر سے ابھی بی اے کے امتحانات میں چند ماہ باقی تھے۔ کہ اماں ابا کی اپنے فرض سے سبکدوش ہونے کی کوششیں رنگ لے آئیں ۔بی اے تو مکمل نہ ہو سکا ۔البتہ بیاہ ہو گیا۔ لیکن لکھنے کا شوق اسکول کے زمانے سے تھا۔ جو کہ مکتوب نگاری کے روپ میں سامنے آیا۔پنجاب میں رہنے والی اپنی چہیتی خالہ کو ایسے شاعرانہ اور پیارے خط لکھتی ۔کہ وہاں خالہ کے ساتھ اس کی پڑوسنیں اور خط پڑھنے والے بھی میرے خط کا انتظار کرتے۔اس کے علاوہ کراچی میں اپنی وہ پڑوسنیں ۔جن کے پیا جی نوکریوں کے سلسلے میں مڈل ایسٹ میں ہوتے تھے۔انکے لئے بھی خطوط لکھنے اور پڑھنے کا شرف ما بدولت کو حاصل ہوتا تھا۔اسکول میں مضمون نگاری پہ انعام بھی حاصل کیے۔
1994 میں کراچی کے ایک پیرش کے پروگرام۔جس میں دس مختلف علاقوں کے لوگوں نے حصہ لیا تھا۔میرے مضمون کو اول انعام ملا ۔
کالج سے شاعری بھی شروع کر دی تھی۔سچی کہانیاں بھی شوق سے لکھتی تھی۔البتہ وہ صرف ڈائریوں تک ہی محدود رہیں۔ ناصرہ اسکول میں قوم کے نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ، وہاں کے میگزین میں میرے مضامین اور شاعری شائع ہوتی تھی۔ کہتے ہیں نا کہ ۔چھٹتی نہیں ہے ظالم منہ کو لگی ہوئی۔لہٰذا اسکول کی نوکری، گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ لکھنے کی مشق جاری رہی۔ کرسمَس اور دیگر پروگرامز میں شاعری سمیت شامل ہوتی ۔معاشرے ،سماج اور اردگرد ہونے والے واقعات،اچھائ برائ کے متعلق ایک لکھاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس لئے ان کے متعلق لکھتی ہوں۔
ادبی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز
کرونا جیسی وبا میں جب تمام کاروبار زندگی معطل تھے۔وہ چند ماہ میری ادبی زندگی کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں تھے۔ڈائریوں سے تمام تحاریر یکجا کیں۔تو خیر سے پانچ کتابوں کے مسودے تیار ہوگئے ۔جن میں دو شاعری کے ، ایک سچی کہانیوں کا ،ایک پنجابی آکھان کا،ایک اپنی ساتھی اساتذہ کے متعلق۔ 2022 میں اردو شاعری کا مجموعہ کلام "زندگی گلاب بھی۔ ۔ ۔۔۔" اور دوسرا "من کی لو۔"مسیحی شاعری کا مجموعہ جو کہ اردو اور پنجابی شاعری پہ مشتمل ہے۔ شائع ہوئے ۔ایک سفر نامے کا مسودہ بھی تیار ہے۔
خدا کے فضل سے اچھی آواز عطا ہوئ ہے ۔2022 میں اپنا ایک آڈیو وڈیو گیت بھی ریلیز کیا۔
1۔حلقہ گل رنگ کراچی آرٹس کونسل۔2 ۔اردو لٹریری ایسوسی ایشن انٹرنیشنل ۔3۔کرسچن رائٹرز گلڈز پاکستان۔4۔ساکواہ سمواہ اٹلی،5۔وشو پنجابی سبھا کینیڈا،6۔مکتبہ عناویم پاکستان، 7۔مکالمہ ٹی وی یو کے،8۔وشو پنجابی ساہتک رچنا وچار منچ کینیڈا،9۔انتر راشٹر ساہتک گفتگو منچ۔10۔راشٹریا کاویا ساگر پٹیالہ، 11۔قلمکار انٹرنیشنل انگلینڈ،12۔ورلڈ سینٹر فار پنجابی (لاہور )۔ 13۔سانجھی بیٹھک بیٹھک(گوجرانوالہ ) 14۔شبداں دی اڑان ساہتک منچ پٹیالہ۔ 15۔ ایتان ایک علمی و ادبی تنظیم کراچی کی سیکرٹری ہوں ۔تمام پلیٹ فارمز کے آن لائن مشاعروں اور ویبینارز میں شرکت کرتی ہوں۔ فیسبک پیج سانجھا ورثہ پہ اپنا آن لائن لائیو پنجابی پروگرام کرتی ہوں۔
پنجابی روزنامہ بھلیکھا،اردو روزنامہ انوار_ قوم کانپور،ہفت روزہ کہانت کراچی،ہفت روزہ اگاہی کراچی ، ماہنامہ تادیب لاہور۔کرسچن نیوز الرٹ انگلینڈ ،بول پردیساں دے جاپان اور باغی رائٹرز فورم میں میری نگارشات شامل ہوتی ہیں۔فاختہ ڈاٹ او آر جی پہ بھی میری نگارشات موجود ہیں۔






