میرا نام عابد محمود ہے ، قلمی نام میں ایک عابد کا اضافہ ہوکر عابد محمود عابد بن جاتا ہے ، میرا تعلق ڈسکہ شہر سے ہے جو گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے عین وسط میں واقع ہے ، ویسے یہ بات میرے جاننے والوں میں سے بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ساری زندگی ڈسکہ میں گذارنے والا عابد محمود عابد پیدائشی طور پر فیصل آبادی ہے ، مجھ سے بڑے اور چھوٹے میرے سب بہن بھائی ڈسکہ ہی میں پیدا ہوئے ، بس دوسال کا عرصہ میرے والدین میرے تایا کے پاس فیصل آباد میں مقیم رہے اور اسی دو سال کے دوران 1975 میں مابدولت کی اس سرزمین پر تشریف آوری ہوئی اور میری پیدائش کے چند ماہ بعد ہی میرے والدین نے واپس ڈسکہ کی راہ لی ، تب سے اب تک ڈسکہ میں ہی مستقل قیام ہے ، موجودہ دور میں میں ڈسکہ میں ایک پرائیویٹ سکول چلاتا ہوں ،
80 کی دہائی میں جب میں تھوڑا بڑا ہورہا تھا تو میں نے نوٹ کیا کہ میرے بڑے بھائی گھر میں بہت سارے بچوں کے رسائل اور اخبارات کے بچوں کے ایڈیشن وغیرہ لاتے ہیں ، بس وہیں سے مجھے یہ رسائل وغیرہ پڑھنے کا چسکہ پڑھا ، کئی مرتبہ چوری چوری یہ اخبارات و رسائل پڑھنے کی وجہ سے بھائی سے مار بھی کھائی لیکن چسکہ ایسا لگا کہ بڑھتا ہی گیا اور اسی چسکے نے لکھنے کے ذوق و شوق کی بنیاد رکھی اور پھر 1988 میں 13 سال کی عمر میں کہانی کی شکل میں میری تحریر روزنامہ امروز کے بچوں کے ایڈیشن میں شائع ہوِئی ، بس پھر چل سو چل ۔۔۔ اسکے بعد بہت سارے اخبارات و رسائل میں لکھا ،
بی بی سی اردو سروس سمیت بہت سے ریڈیو پروگرامز میں بھی میرے خطوط شامل ہوتے رہے ،
2005 سے لے کر میری ادبی زندگی میں کچھ وقفہ آگیا ، کبھی کبھی ویب سائٹس میں کچھ ہلکا پھلکا کچھ لکھ دیتا تھا ، یہ سلسلہ 2018 تک رہا لیکن پھر 2019 میں میری ادبی دنیا میں واپسی بطور کالم نویس ہوئی اور میرے بہت سے کالم نوائے وقت سمیت بہت سے چھوٹے بڑے اخبارات میں شامل ہوتے رہے اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے ،






