ابھینندن سے موسیٰ تک: آخر کہانی کتنی بار بدلے گی؟تحریر: میجر (ر) ہارون رشید
نقطہ نظر
جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹجی اور دفاعی جدید کاری کے ماہر دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن
پاک بھارت تنازع میں ایک طرزِ عمل بارہا دیکھنے کو ملتا ہے۔ بھارتی میڈیا میں ایک سنسنی خیز کہانی سامنے آتی ہے، سرخیاں تیزی سے پھیلتی ہیں اور آزادانہ شواہد کا جائزہ لیے جانے سے پہلے ہی وہ کہانی ایک قائم شدہ حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے۔
اس کی تازہ مثال ’’موسیٰ‘‘ یا ’’آصف فوجی‘‘ کی کہانی ہے
بھارت نے اعلان کیا کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے لشکرِ طیبہ کے ایک اہم کمانڈر کو ہلاک کر دیا ہے، جس کی شناخت ہاشم موسیٰ، المعروف محمد آصف یا آصف فوجی کے طور پر کی گئی۔ بھارتی رپورٹس میں اسے کشمیر میں کئی حملوں سے منسلک ایک اہم عسکریت پسند کمانڈر قرار دیا گیا۔
پھر پاکستان نے محمد آصف کو زندہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔
وہ میڈیا کے سامنے آئے اور بتایا کہ وہ پاکستان آرمی کے سابق فوجی ہیں اور 2023 میں ریٹائر ہوئے تھے۔
پاکستان کے مطابق، انہیں اس وقت معلوم ہوا جب ان کی شناخت اور تصاویر کو کشمیر میں مبینہ طور پر ہلاک کیے جانے والے عسکریت پسند کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا۔ پاکستانی فوج نے بھارت پر غلط شناخت کرنے کا الزام عائد کیا۔
میرے لیے یہاں ایک بہت سادہ سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر یہ شخص پاکستان میں زندہ موجود ہے تو پھر اس کی شناخت کشمیر میں مبینہ طور پر ہلاک کیے جانے والے عسکریت پسند کے ساتھ کیسے منسلک ہو گئی؟
یہ کوئی معمولی تکنیکی معاملہ نہیں۔ کسی بھی انسدادِ دہشت گردی آپریشن میں شناخت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
کسی مخصوص شخص کی ہلاکت کا اعلان کرنے سے پہلے ایک پیشہ ور انٹیلی جنس نظام کے پاس تصاویر، فنگر پرنٹس، بائیومیٹرک معلومات، انٹیلی جنس ریکارڈ، خاندان کی تصدیق اور ضرورت پڑنے پر ڈی این اے یا دیگر فرانزک شواہد ہونے چاہئیں۔
اگر بھارت کے پاس یہ تمام شواہد موجود ہیں تو اسے قابلِ اعتماد ثبوت پیش کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے۔
تب تک پاکستان کو سوال اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں موسیٰ کی کہانی ہمیں ماضی کے تنازعات کی یاد دلاتی ہے۔
ابھینندن اور ایف-16 کا دعویٰ
فروری 2019 میں بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کا طیارہ مار گرایا گیا اور وہ پاکستان کی تحویل میں آ گئے۔ بھارت نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ ابھینندن کے اپنے MiG-21 کو گرائے جانے سے پہلے انہوں نے ایک پاکستانی F-16 طیارہ مار گرایا تھا۔
پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔
اس کے بعد Foreign Policy کی ایک اہم رپورٹ سامنے آئی۔ رپورٹ نے معاملے سے براہِ راست واقف دو سینئر امریکی دفاعی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی اہلکاروں نے پاکستان کے F-16 طیاروں کی گنتی کی اور کوئی طیارہ کم نہیں پایا۔
اس رپورٹ نے بھارتی دعوے سے براہِ راست اختلاف کیا کہ ایک پاکستانی F-16 تباہ کیا گیا تھا۔
بھارت نے اپنا مؤقف برقرار رکھا اور الیکٹرانک سگنیچرز اور میزائل کے ملبے کو اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔
لیکن اہم بات یہ ہے کہ Foreign Policy میں شائع ہونے والے آزادانہ شواہد نے پاکستانی F-16 کی تباہی کے بھارتی دعوے کی تائید نہیں کی۔
دوسری جانب پاکستان کے پاس ایک ایسی حقیقت موجود تھی جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا:
بھارتی پائلٹ خود پاکستانی تحویل میں تھے۔
پھر آیا رافیل کا تنازع — مئی 2025
مئی 2025 میں ایک بار پھر دونوں ممالک کے متضاد بیانیوں کا بڑا امتحان سامنے آیا۔
پاکستان نے دعویٰ کیا کہ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے گئے ہیں، جن میں رافیل بھی شامل ہے۔ بھارت نے ابتدا میں اپنے طیاروں کے نقصان کو تسلیم نہیں کیا۔
لیکن بعد میں Reuters نے رپورٹ کیا کہ دو امریکی حکام نے اعلیٰ اعتماد کے ساتھ اندازہ لگایا کہ پاکستانی J-10 جنگی طیاروں نے کم از کم دو بھارتی طیارے مار گرائے تھے، جن میں سے ایک کے بارے میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ وہ فرانسیسی ساختہ رافیل تھا۔
پاکستان نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ حتمی تعداد اب بھی متنازع ہے، جبکہ بھارت نے بعد میں فضائی نقصانات کا اعتراف کیا، تاہم پاکستان کی جانب سے بتائی گئی بڑی تعداد کو مسترد کر دیا۔
ایک بار پھر مکمل تصویر ابتدائی سرخیوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ نکلی۔
موسیٰ کا معاملہ کیوں اہم ہے؟
یہی وجہ ہے کہ موسیٰ کا تازہ تنازع توجہ کا مستحق ہے۔پاکستان نے محض ایک اور تردید جاری نہیں کی۔
پاکستان نے ایک زندہ شخص کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا اور کہا کہ اسے خود دیکھیں۔
یہ ایک انتہائی اہم اور قابلِ توجہ ثبوت ہے۔
یقیناً محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کرنا پاکستان کے ہر دعوے کو خودبخود ثابت نہیں کرتا۔ بھارت اب بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ہلاک ہونے والا عسکریت پسند کوئی دوسرا شخص تھا جس نے وہی نام یا شناخت استعمال کی۔
لیکن یہی تو اصل سوال ہے
ثبوت پیش کیا جائے۔
اگر بھارت کے پاس فرانزک ثبوت موجود ہیں تو اتنا ثبوت سامنے لایا جائے جس کی آزادانہ طور پر تصدیق ہو سکے۔ اگر بائیومیٹرک شناخت موجود ہے تو اس کی وضاحت کی جائے۔ اگر ڈی این اے ثبوت ہے تو شناخت کے مکمل سلسلے اور طریقۂ کار کو واضح کیا جائے۔
پاکستان کو بھی یہی معیار اپنے لیے قبول کرنا چاہیے۔
پاکستان کے لیے بھارتی الزامات کا جواب صرف غصہ یا جوابی الزامات نہیں ہونا چاہیے۔ جواب ثبوت، دستاویزات، گواہوں اور ایسے حقائق پر مبنی ہونا چاہیے جو بین الاقوامی جانچ پڑتال کا سامنا کر سکیں۔
ابھینندن کا واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک فوجی دعویٰ کتنی تیزی سے میڈیا بیانیہ بن سکتا ہے۔ 2025 کی فضائی جھڑپ نے یہ بھی دکھایا کہ ابتدائی تردیدیں اور دعوے بعد میں وضاحت اور ترمیم کے محتاج ہو سکتے ہیں۔
اب موسیٰ کا معاملہ شناخت کی بنیاد پر کیے جانے والے الزامات کی قابلِ اعتماد حیثیت پر ایک اور بنیادی سوال اٹھاتا ہے۔
بھارت پاکستان کے مؤقف کی تردید جاری رکھ سکتا ہے۔ پاکستان بھارتی مؤقف کو چیلنج کرتا رہ سکتا ہے۔
لیکن ایک چیز سے دونوں ممالک بالآخر فرار اختیار نہیں کر سکتے ثبوت۔
پاکستان کو یہ ضرورت نہیں کہ دنیا ہر پاکستانی بیان کو صرف اس لیے سچ مان لے کہ وہ پاکستان کی طرف سے آیا ہے۔
پاکستان کو صرف یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ دنیا ثبوت کا جائزہ لے اور خود فیصلہ کرے۔
اگر موسیٰ کی شناخت درست ہے تو اسے ثابت کیا جائے۔
اگر F-16 تباہ ہوا تھا تو بتایا جائے کہ وہ کہاں گیا۔
اگر رافیل کے بارے میں پاکستان کے دعوے غلط ہیں تو بھارتی طیاروں کے نقصانات کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے۔
اور اگر کسی پاکستانی شہری کو غلط طور پر ایک ہلاک شدہ عسکریت پسند کے طور پر پیش کیا گیا ہے تو اس حقیقت کو بھی سامنے آنا چاہیے۔
سبق بہت سادہ ہے
اطلاعات کی جنگ میں سرخیاں چند منٹوں میں پوری دنیا میں پھیل سکتی ہیں، لیکن آخرکار حقائق ان کا پیچھا کرتے ہیں۔
اور جب ایک ایسا شخص، جسے دنیا کے سامنے مردہ قرار دیا جا چکا ہو، اچانک کیمروں کے سامنے زندہ کھڑا نظر آئے، تو دنیا کو رک کر دوبارہ جائزہ لینے اور یہ
سوال پوچھنے کا پورا حق ہے
آخر مارا کون گیا تھا — اور ہمیں کس کی کہانی پر یقین کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے؟
مزید پڑھیں





