Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ابراہہ سے حوثی تک: تاریخ کی بازگشت اور مستقبل کا سوال،تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر
naeem khan blog

تاریخ کبھی اپنے آپ کو نہیں دہراتی ، انسان اپنی غلطیاں ضرور دہراتا ہے۔ زمانہ بدل جاتا ہے ، کردار بدل جاتے ہیں ، ہتھیار بدل جاتے ہیں ، مگر طاقت ، خوف ، مفاد اور غلط فیصلے کئی بار وہی راستہ اختیار کر لیتے ہیں جس کا انجام تاریخ پہلے دکھا چکی ہوتی ہے۔ آج یمن ، ایران اور سعودی عرب کو دیکھیں تو یہی احساس ہوتا ہے۔

صدیوں پہلے یمن عرب کا جنوبی دروازہ تھا آج بھی ہے۔ اس وقت لشکر تھے آج میزائل اور ڈرون ہیں۔ اس وقت بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کی اہمیت تھی آج بھی ہے۔ فرق صرف زمانے اور جنگ کے طریقے کا ہے۔

یمن کی موجودہ کشمکش کو صرف سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ سمجھنا بھی درست نہیں۔ اس کے پیچھے یمن کی داخلی سیاست ، سعودی عرب کی سلامتی ، ایران کا علاقائی اثر اور باب المندب کی جغرافیائی اہمیت سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

2015 میں سعودی عرب نے عسکری طاقت کے ذریعے حوثیوں کو روکنے کی کوشش کی ، مگر برسوں کی جنگ نے ثابت کردیا کہ یمن جیسے جغرافیے میں صرف فوجی طاقت سیاسی مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ دوسری طرف ایران نے حوثیوں کو مدد دے کر اپنے علاقائی اثر کو بڑھایا لیکن اب یہی صورت حال پورے خطے میں نئی صف بندی کا سبب بھی بن رہی ہے۔

ایران کے لیے معاملہ صرف علاقائی اثر و رسوخ کا نہیں ؛ طویل پابندیوں نے اس کی معیشت ، تجارت اور سرمایہ کاری کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایران کو اپنی معیشت بحال کرنی ہے ، دنیا کے ساتھ تجارت بڑھانی ہے ، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنی ہے اور پابندیوں کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس لیے تہران کے سامنے آنے والے وقت میں ایک مشکل توازن ہوگا: علاقائی طاقت بھی برقرار رکھنی ہے اور دنیا سے معاشی تعلق بھی بڑھانا ہے۔

یہی ضرورت شاید مستقبل میں ایران کو بعض محاذوں پر سیاسی سمجھوتے کی طرف بھی لے جاسکتی ہے۔

سعودی عرب کے لیے بھی اب مسئلہ صرف جنگ نہیں۔ وہ اپنی معیشت کو تیل سے آگے لے جانے اور عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بننے کی کوشش کررہا ہے۔ مسلسل جنگ اور غیر یقینی اس راستے میں رکاوٹ ہیں۔ اس لیے ریاض کے لیے بھی ایک ایسا سیاسی حل اہم ہوتا جائے گا جس میں اس کی سلامتی برقرار رہے اور یمن دوبارہ مسلسل جنگ کا میدان نہ بنے۔

یہاں پاکستان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان ایران کا ہمسایہ بھی ہے اور سعودی عرب کا دیرینہ دفاعی شراکت دار بھی۔ ترکیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات نے بھی پاکستان کو اس بدلتے ہوئے علاقائی منظرنامے میں ایک اہم مقام دیا ہے۔

پاکستان کے لیے درست راستہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی وعدے پورے کرے مگر ایران کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات بھی بہتر رکھے۔ ایران سے اختلاف اپنی جگہ ، مگر ہمسائے سے تعلق توڑنا پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو ایران کے خلاف محاذ میں تبدیل کرنا بھی پاکستان کے لیے دانش مندانہ راستہ نہیں ہوگا۔

پاکستان کی اصل طاقت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ دونوں طرف بات کرسکتا ہے۔ اگر اسلام آباد اپنے دفاعی تعلقات کے ساتھ اپنی سفارتی حیثیت کو بھی استعمال کرے تو پاکستان سعودی عرب ، ایران اور ترکیہ کے درمیان ایک قابلِ اعتماد رابطے کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ مستقبل میں یمن کا حل بھی شاید مکمل فوجی فتح کے بجائے کسی سیاسی سمجھوتے سے نکلے ، جہاں حوثی ایک سیاسی قوت کے طور پر موجود رہیں ، سعودی عرب کو اپنی سلامتی کا یقین ہو اور ایران کو بھی خطے میں اپنے جائز مفادات کے لیے جگہ ملے۔

سعودی عرب اپنی معاشی طاقت بڑھائے گا ، ایران اپنے جغرافیے اور علاقائی اثر کو استعمال کرے گا ، ترکیہ اپنی فوجی اور سفارتی موجودگی مضبوط کرے گا اور چین تجارت و سرمایہ کاری کے ذریعے اپنا اثر بڑھائے گا۔

اس نئے توازن میں پاکستان کے پاس بھی ایک اہم موقع ہے۔

وہ کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفاد ، دفاع اور معیشت کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ بہتر تجارت اور توانائی کے امکانات ، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی و معاشی تعاون اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری پاکستان کو ایک منفرد مقام دے سکتی ہے۔

تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ کل کیا ہوگا ، وہ صرف یہ بتاتی ہے کہ غلط فیصلوں کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔

تاریخ خود کو نہیں دہراتی ، غلطیاں دہرائی جاتی ہیں۔

آج خلیج کے سامنے بھی دو راستے ہیں: ایک نئی کشیدگی یا ایک نیا توازن اور پاکستان کے سامنے بھی یہی سوال ہے کہ وہ صرف بدلتی ہوئی صف بندی کا حصہ بنے گا یا اپنی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت کو استعمال کرکے دفاع ، معیشت اور امن تینوں کو اپنے قومی مفاد کے ساتھ جوڑ سکے گا۔

لیکن اصل سوال صرف پاکستان ، ایران ، سعودی عرب یا یمن کا نہیں۔ سوال پوری دنیا کے سامنے ہے:

کیا طاقتور دنیا ایک بار پھر جنگوں کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کرے گی یا اس بار طاقت کو مذاکرات ، تجارت اور امن کے لیے استعمال کرنے کا راستہ اختیار کرے گی؟

کیونکہ خلیج میں جلنے والی آگ صرف خلیج تک نہیں رہتی؛ اس کی تپش پوری دنیا کی معیشت ، تجارت اور امن تک پہنچتی ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم تاریخ کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے تاریخ سے سبق لے کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ دنیا بنا سکتے ہیں؟