بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اساف و نائلہ سے نذرالاسلام و سیتی تک ،تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر
naeem khan blog

تاریخ کے اوراق میں اساف اور نائلہ کے ناموں سے ایک عجیب قصہ ملتا ہے۔ قدیم عربی روایت کے مطابق یہ ایک مرد اور عورت تھے جو خانۂ کعبہ کے اندر زنا کے مرتکب ہوئے اور اسی حالت میں پتھر بن گئے۔ روایت آگے بڑھتی ہے کہ عبرت کی علامت سمجھے جانے والے ان پتھروں کو وقت گزرنے کے ساتھ بتوں کی حیثیت حاصل ہوگئی اور لوگ ان کی پوجا کرنے لگے۔ پھر فتحِ مکہ کے موقع پر خانۂ کعبہ سے بتوں کا خاتمہ ہوا۔ یہ ایک قدیم تاریخی روایت ہے جس کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں مگر اس کے کردار عرب کی مذہبی تاریخ کے قصوں میں جگہ پاتے ہیں۔

صدیاں گزر گئیں، زمانے بدل گئے، مگر مقدس مقامات کی حرمت کا سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

14 اکتوبر 2026ء کو سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ دو بنگلہ دیشی شہریوں، نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر، کو مکہ کے علاقے میں ایک مسجد کے اندر مبینہ غیر اخلاقی فعل کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔ سعودی حکام کے مطابق عدالت نے تعزیری سزا سنائی، متعلقہ عدالتی حکام نے فیصلے کی توثیق کی اور شاہی حکم کے بعد اس پر عمل درآمد کیا گیا۔

خبر سامنے آئی تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کہیں اسے نو بیاہتا جوڑے کی کہانی کہا گیا، کہیں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں کو محض ایک دوسرے کو بوسہ دینے پر موت کی سزا دے دی گئی۔ لیکن ان دعوؤں کی قابلِ اعتماد تصدیق سامنے نہیں آئی۔ نذرالاسلام کے والد نے دونوں کی شادی کی تردید کی، جبکہ بنگلہ دیشی حکام نے سعودی حکومت سے مقدمے کی مزید تفصیلات اور فیصلے کی نقل طلب کی ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ مسجد کون سی تھی، اصل فعل کیا تھا اور عدالت میں کون سے شواہد پیش کیے گئے۔ اس لیے سوشل میڈیا کی کہانیوں کو حقیقت سمجھ لینا بھی درست نہیں، اور اصل عدالتی ریکارڈ سامنے آنے سے پہلے مقدمے کی تمام تفصیلات معلوم ہونے کا دعویٰ کرنا بھی مناسب نہیں۔

تاہم ایک بات اپنی جگہ واضح ہے: مقدس مقامات کی حرمت کا احترام ضروری ہے۔ یہ مقامات لاکھوں انسانوں کے عقیدے، جذبات اور وابستگی کا مرکز ہوتے ہیں۔ وہاں جان بوجھ کر بے حرمتی کرنا صرف کسی ایک شخص کے احساسات کو مجروح نہیں کرتا، بلکہ ان تمام لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے جو اس مقام کو مقدس سمجھتے ہیں۔

لیکن حرمت کا احترام اور سزا کے قانونی جواز کو سمجھنا دو الگ سوال ہیں۔ کسی سنگین سزا کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت، شواہد اور عدالتی فیصلے کی وجوہات جاننا بھی ضروری ہے۔

اساف و نائلہ کی قدیم روایت سے مکہ کے حالیہ واقعے تک تاریخ ہمیں ایک ہی بات یاد دلاتی ہے: مقدس مقامات کا احترام اپنی جگہ، مگر کسی موجودہ مقدمے کی حقیقت جاننے کے لیے شواہد بھی ضروری ہیں۔

آخرکار سوال یہی ہے کہ ہم تاریخ اور حال کو افواہوں اور جذباتی نعروں کے بجائے درست معلومات کی روشنی میں دیکھنے کے لیے کتنے تیار ہیں؟ مقدس مقامات کی حرمت برقرار رہنی چاہیے اور انصاف کے بارے میں ہماری رائے بھی حقائق ہی پر قائم ہونی چاہیے۔