بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حق کے لئے دلیرانہ آواز ،تحریر:صغیرجعفری

نقطہ نظر
saghir h jafry

تعصب اور فرقہ واریت سے ہٹ کر یہ مضمون احباب کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے اور آپ بھی اس کا تجزیہ اسی زاویہ سے کیجئے گا


مولانا طارق جمیل کا سب سے بڑا جرم۔جو ناقابل معافی بنا دیا گیا


کیا عجب المیہ ہے کہ جس زبان نے ساری زندگی محمد ﷺ کا نام بلند کیا، جب اسی زبان نے علیؑ کو مولا کہا تو بعض لوگوں کو وہ زبان بھی کھٹکنے لگی!


جب کوئی عالم اپنے حلقے کی تعریف کرتا ہے تو اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے، جب اپنے مسلک کی عظمت بیان کرتا ہے تو اس کے علم کے چرچے ہوتے ہیں، جب اپنے اکابر کی روایات دہراتا ہے تو اسے وفادار کہا جاتا ہے۔ اس عالم کو اہل سنت کا شیخ الاسلام، مفتی اعظم اور مسلک دیوبند کا سب سے بڑا پیشوا ہونا چاہیے تھا، مگر صرف اس لیے کہ اس نے اہل بیت کی گن گائے اور شہرت کی بلند ترین پوزیشن کے اوپر بھی علی علی کیا، لوگوں نے اسے دیوار سے لگایا ہے۔


لیکن جب وہی عالم تعصب کی دیوار سے بلند ہو کر رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت کی محبت کا اعلان کرتا ہے، جب وہ علی ابن ابی طالبؑ کے فضائل بیان کرتا ہے، جب وہ فاطمۃ الزہراؑ کی عظمت، حسنؑ و حسینؑ کی شان اور کربلا کی مظلومیت پر گفتگو کرتا ہے، تو بعض حلقوں میں اس کی وفاداری پر سوال اٹھنے لگتے ہیں!


مولانا طارق جمیل کی زندگی کا ایک اہم اور قابلِ غور پہلو بھی یہی ہے۔


وہ مولانا طارق جمیل جن کی آواز نے لاکھوں انسانوں کے دلوں کو متاثر کیا، جن کی گفتگو سے بے شمار لوگوں نے اپنی زندگیوں کا رخ بدلا، جنہوں نے برسوں محبت، توبہ، اخلاق اور اصلاحِ نفس کا پیغام دیا، آج ان کی شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال ضرور اٹھتا ہے:


کیا اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت کسی ایک مسلک کی میراث ہے، یا یہ پوری امتِ محمدیہ کا مشترکہ سرمایہ ہے؟


تولمبہ کی مٹی سے دنیا کے منبروں تک


یکم اکتوبر 1953ء کو پنجاب کے تاریخی علاقے تولمبہ، میاں چنوں کے قریب، ایک خوش حال زمیندار گھرانے میں ایک بچے نے آنکھ کھولی۔ یہ بچہ طارق جمیل تھا۔


خاندان معاشرتی حیثیت، زمینوں اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے ممتاز تھا۔ طارق جمیل کی ابتدائی زندگی روایتی دینی مدارس کے ماحول میں نہیں گزری۔ انہیں لاہور بھیجا گیا، جہاں سینٹرل ماڈل اسکول میں تعلیم حاصل کی، پھر گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے اور بالآخر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔


گھر والے انہیں ڈاکٹر دیکھنا چاہتے تھے، لیکن تقدیر نے ان کے لیے ایک مختلف راستہ رکھا تھا۔


1972ء کے قریب، زمانۂ طالب علمی میں تبلیغی جماعت سے تعلق نے ان کی زندگی بدل دی۔ میڈیکل کی تعلیم چھوڑ کر انہوں نے دین کی تعلیم اور دعوت کا راستہ اختیار کیا۔ رائے ونڈ کے دینی ادارے میں درسِ نظامی پڑھا اور پھر اپنی زندگی تبلیغ، اصلاح اور وعظ کے لیے وقف کر دی۔


یہ فیصلہ آسان نہ تھا۔ ایک خوش حال خاندان کا نوجوان، جس کے سامنے کامیاب طبی مستقبل موجود تھا، ایک ایسے راستے پر چل پڑا جس میں نہ دنیاوی منصب کی ضمانت تھی اور نہ مالی آسائش کی۔


مگر اسی فیصلے نے طارق جمیل کو مولانا طارق جمیل بنا دیا۔


ایک مبلغ جس نے معاشرے کے بند دروازے کھٹکھٹائے


1980ء کی دہائی سے ان کی تبلیغی سرگرمیوں میں وسعت آئی۔ پھر 1990ء کی دہائی اور اس کے بعد ان کی مقبولیت پاکستان کی سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلنے لگی۔


ان کی آواز مدرسے تک محدود نہ رہی۔ وہ نوجوانوں، تاجروں، سیاست دانوں، فنکاروں، کھلاڑیوں اور عام لوگوں تک پہنچے۔


ان کی تبلیغ کا ایک نمایاں باب جنید جمشید کی زندگی میں آنے والی دینی تبدیلی بھی ہے۔ ایک معروف گلوکار کا دعوت و تبلیغ سے وابستہ ہونا اس دور کے اہم واقعات میں شمار ہوا۔


مولانا نے جدید ذرائع ابلاغ کو بھی استعمال کیا۔ ان کے خطابات کی آڈیو کیسٹس سے شروع ہونے والا سفر ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک پہنچا۔ انہیں پاکستان کے صدارتی اعزازِ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔


ان کے بعض بیانات پر سیاسی اور مذہبی حلقوں میں اختلافات ہوئے، ان کی تبلیغ کے انداز پر سوالات اٹھے، لیکن ان کی مقبولیت اور معاشرتی اثر کو نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔


اور پھر ذکرِ علیؑ کی وہ صدا!


مولانا طارق جمیل کے خطابات کا ایک نہایت قابلِ توجہ پہلو حضرت علی المرتضیٰؑ کے فضائل کا بیان ہے۔


جب وہ حدیثِ رسول ﷺ پڑھتے ہیں:


مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ


جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔


تو یہ محض ایک تاریخی روایت کی تلاوت نہیں ہوتی، بلکہ امت کے سامنے ایک بنیادی سوال آ کھڑا ہوتا ہے:


اگر رسول اللہ ﷺ نے علیؑ کے لیے لفظِ مولا استعمال فرمایا تو مسلمان اس لفظ سے گھبراتے کیوں ہیں؟


مولانا طارق جمیل کے ایک معروف بیان میں یہی نکتہ نمایاں ہے کہ حضرت علیؑ کو مولا کہنے میں کوئی قباحت نہیں، اور لفظِ مولا کو محض عام دوستی کے مفہوم تک محدود کرنا ضروری نہیں۔


یہاں ان کی گفتگو ایک اہم مذہبی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے: کسی مسلک سے تعلق، رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ فضیلت بیان کرنے میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔


یہ بات بھی یاد رہے کہ حدیثِ غدیر کے الفاظ اور اس کی اہمیت کے باوجود شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر میں لفظِ مولا کے مکمل اعتقادی مفہوم پر اختلاف موجود ہے۔ لیکن یہ اختلاف حضرت علیؑ کے فضائل بیان کرنے کی راہ میں دیوار نہیں بننا چاہیے۔


یہی وہ مقام ہے جہاں علم، مسلکی عصبیت کا امتحان لیتا ہے۔


ایک عالم کے لیے اپنے مسلک کی ہر بات دہرانا نسبتاً آسان ہے، لیکن اپنے حلقے کے اندر رائج کسی تنگ نظری کے مقابلے میں کھڑے ہو کر اہلِ بیتؑ کی عظمت بیان کرنا کہیں زیادہ حوصلے کا کام ہے۔


اور اگر مولانا طارق جمیل نے اپنے خاندانی ماحول، والدین کی تربیت، اساتذہ کی تعلیم اور اپنے علمی ورثے سے یہی سیکھا کہ حق بات کو تعصب پر ترجیح دینی ہے، تو ان کی تربیت کا سب سے خوب صورت ثمر یہی ہوگا کہ وہ اختلاف کے باوجود فضائلِ اہلِ بیتؑ کو پوری محبت سے بیان کریں۔


جب اپنے ہی حلقے میں اختلاف پیدا ہو


یہاں ایک تلخ حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔


مولانا طارق جمیل کو اپنی زندگی میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بعض دیوبندی اور تبلیغی حلقوں میں ان کے طریقۂ دعوت، عوامی مقبولیت، مختلف طبقات سے تعلقات اور آزادانہ اندازِ گفتگو پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔


لیکن یہ کہنا کہ ان کے تمام مخالفین صرف ذکرِ علیؑ کی وجہ سے ان کے دشمن بن گئے، تاریخی طور پر ثابت شدہ بات نہیں۔ ان کے خلاف اختلافات کے اسباب متعدد رہے ہیں۔


اس کے باوجود سوال اپنی جگہ باقی ہے:


اگر کسی عالم پر صرف اس لیے اعتراض کیا جائے کہ وہ علیؑ کی فضیلت بیان کرتا ہے، تو اعتراض عالم پر نہیں، اس ذہنیت پر ہونا چاہیے جو فضیلتِ اہلِ بیتؑ سننے سے گھبراتی ہے۔


تاریخ کے آئینے میں امام نسائی، امام ابو حنیفہ اور امام شافعی


ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیے!


امام نسائیؒ — فضائلِ علیؑ کی قیمت


سنن نسائی کے عظیم مصنف امام احمد بن شعیب نسائیؒ نے حضرت علیؑ کے فضائل پر خصائصِ علی مرتب کی۔


تاریخی روایات کے مطابق جب وہ دمشق پہنچے تو حضرت علیؑ اور حضرت معاویہ کے فضائل کے معاملے میں ان سے سوالات کیے گئے۔ بعض روایات میں ان پر تشدد اور اس کے بعد ان کی وفات کا ذکر ملتا ہے، اگرچہ ان روایات کی تفصیلات اور اسناد پر اہلِ علم میں اختلاف ہے۔


سوچنے کی بات ہے!


ایک محدث، جس نے اپنی زندگی احادیثِ رسول ﷺ جمع کرنے میں گزار دی، اس کے لیے فضائلِ علیؑ کا بیان بعض لوگوں کے نزدیک ناقابلِ برداشت کیسے ہو گیا؟


امام ابو حنیفہؒ — اقتدار کے سامنے انکار


امام اعظم ابو حنیفہؒ کی زندگی بھی آزمائشوں سے خالی نہیں تھی۔


انہوں نے حکومتی منصب قبول کرنے سے انکار کیا اور عباسی دور میں قید و سختیوں کا سامنا کیا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ ایک عالم کو اپنی علمی و اخلاقی آزادی کی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔


ان کے اہلِ بیت اور علوی تحریکوں سے تعلقات پر بھی تاریخی گفتگو موجود ہے، تاہم ان کی تمام مشکلات کو صرف محبتِ اہلِ بیت کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔


امام شافعیؒ — محبتِ اہلِ بیت اور تہمت کا سامنا


امام محمد بن ادریس شافعیؒ پر علویوں کی حمایت کا الزام لگایا گیا۔ تاریخی تذکروں کے مطابق انہیں گرفتار کرکے خلیفہ ہارون الرشید کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں ان کی صفائی کے بعد انہیں رہائی ملی۔


ان سے اہلِ بیت کی محبت پر مشہور اشعار بھی منسوب ہیں، جن میں محبتِ آلِ محمد ﷺ کے سبب رافضی کہلانے پر بے خوفی کا اظہار ملتا ہے۔


یہ تینوں واقعات اپنی تاریخی نوعیت اور اسباب میں مختلف ہیں، لیکن ایک مشترک سبق ضرور دیتے ہیں:


علماء کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ ہر زمانے کے طاقت ور حلقوں کو خوش رکھیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے علم، ضمیر اور اصول کے ساتھ وفادار رہیں۔


مولانا طارق جمیل کے نام ایک محبت بھرا سلام!


مولانا طارق جمیل صاحب!


آپ نے اپنی زندگی کے کئی عشرے رسول اللہ ﷺ کی محبت، امت کی اصلاح اور دین کی دعوت میں گزارے ہیں۔


آپ کی ہر رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔ آپ کے ہر بیان کو تنقید سے بالاتر بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ لیکن جب آپ منبر پر کھڑے ہو کر حضرت علی المرتضیٰؑ کے فضائل بیان کرتے ہیں، حدیثِ غدیر سناتے ہیں اور لفظِ مولا کے احترام کی بات کرتے ہیں، تو آپ ایک ایسی مشترکہ میراث کو زندہ کرتے ہیں جو کسی ایک فرقے کی ملکیت نہیں۔


یہی وہ مقام ہے جہاں عالم کی اصل تربیت سامنے آتی ہے۔


والدین کی تربیت، اساتذہ کی محنت، برسوں کی علمی ریاضت اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا یہی ہونا چاہیے کہ انسان سچائی کو مسلکی عصبیت کی نذر نہ کرے۔


قرآن مجید کا اعلان ہے:


قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ


کہہ دیجیے، میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے قرابت کی محبت کے۔ (سورۃ الشوریٰ، 42:23)


اس آیت کی تفسیر میں مختلف آراء موجود ہیں، جن میں اہلِ بیت سے محبت کا مفہوم بھی نمایاں ہے۔


اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي


میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں۔ (صحیح مسلم، حدیث 2408)


مولانا صاحب!


آپ کے لیے بہترین خراجِ تحسین یہی ہے کہ آپ کی نیکی کو سراہا جائے، آپ کے اختلافات کو دیانت داری سے سمجھا جائے اور اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت کے لیے آپ کی آواز کا احترام کیا جائے۔


ہمیں ایسا معاشرہ چاہیے جہاں کوئی شیعہ حضرت ابوبکرؓ یا عمرؓ کا احترام کرے تو اسے اپنے مسلک کا غدار نہ کہا جائے، اور کوئی سنی حضرت علیؑ کو مولا کہے تو اسے اپنے عقیدے سے منحرف قرار نہ دیا جائے۔


کیونکہ محبتِ اہلِ بیتؑ کوئی جرم نہیں!


فضائلِ علیؑ بیان کرنا کوئی بغاوت نہیں!


اور حدیثِ رسول ﷺ سنانا کسی مسلک کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں!


تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو انسانوں کو نفرت کے حصار سے نکال کر محبت کے وسیع میدان میں لے آتے ہیں۔


مولانا طارق جمیل صاحب کی زندگی کا یہ پہلو آنے والی نسلوں کے لیے ایک پیغام بن سکتا ہے:


مسلک انسان کی علمی شناخت ہو سکتا ہے، مگر اسے حق بات سننے اور کہنے کی زنجیر نہیں بننا چاہیے۔


سلام ہو ہر اس زبان پر جو محبتِ محمد ﷺ اور محبتِ آلِ محمدؑ کو عام کرتی ہے!

فرقہ واریت سے ہٹ کر حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے

الداعی اتحاد بین المسلمین

صغیرجعفری