Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جین زی کا شور،تحریر:انعم عباسی

نقطہ نظر
anam abbasi


آج کل ایک لفظ اتنا زیادہ سننے کو ملتا ہے کہ کبھی کبھی دل چاہتا ہے پوچھوں:

بھئی، یہ جین زی ہے یا کوئی قومی ہنگامی صورتحال؟

گھر میں بچہ والدین کی کوئی بات نہ مانے—جین زی

کسی بات پر اختلاف کرے—

ذمہ داری سے جی چرائے—

اپنی مرضی کو ہر اصول پر ترجیح دے—جین زی

اور اگر والدین ذرا سمجھانے کی کوشش کر بیٹھیں تو جواب آتا ہے:

"امی! ہم جین زی ہیں!"

گویا یہ کوئی ایسی سند ہے جسے دکھاتے ہی ہر نصیحت، ہر اصول اور ہر ذمہ داری خود بخود منسوخ ہو جاتی ہے۔

میں یہ بات کسی دور بیٹھے ہوئے مبصر کی حیثیت سے نہیں لکھ رہی۔ میں خود اس رویے کو اپنے گھر میں دیکھ رہی ہوں۔ اپنے بچوں کو کسی بات پر سمجھاؤں تو کبھی کبھی جواب میں یہی سننے کو ملتا ہے کہ "ہم جین زی* ہیں، ہم ایسے ہی ہیں!"

اور شاید مجھے سب سے زیادہ حیرت اس جملے پر نہیں بلکہ اس اعتماد پر ہوتی ہے جس کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے۔

آخر کسی نسل کا نام اپنے اندر اتنا فخر کیسے پیدا کر سکتا ہے کہ انسان اپنی ہر عادت، ہر ضد، ہر اختلاف اور کبھی کبھی اپنی غلطی تک کو اسی نام کے پیچھے چھپا لے؟

یہ ایک نسل کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے، کوئی ایسا لائسنس نہیں جو انسان کو ذمہ داری سے آزاد کر دے۔

لیکن آج عجیب منظر ہے۔

ہم نے نسلوں کے ناموں کو شخصیت کا تعارف بنا دیا ہے۔

ہم نے "جین زی "کہا اور گویا پوری کہانی ختم!

بچے نے کہا، "میں جین زی ہوں"، اور والدین نے سوچا شاید اب مزید بحث کی گنجائش نہیں۔

میڈیا نے کہا، "یہ جین زی کا دور ہے"، اور ہم نے بھی مان لیا کہ شاید اب اصول، تربیت، برداشت اور ذمہ داری پر بات کرنا ہی فرسودہ خیال ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ شور کیوں ہے؟

کیا جین زی واقعی اتنی مختلف ہے یا ہم نے اسے مختلف ہونے کا اتنا یقین دلا دیا ہے کہ اب وہ اپنے ہر رویے کو اسی شناخت سے جوڑنے لگی ہے؟

ہم" ملینیل "کے زمانے کو یاد کریں تو حالات بالکل مختلف ضرور تھے، مگر دنیا جامد بھی نہیں تھی۔ کمپیوٹر ہمارے گھروں میں آ چکا تھا، انٹرنیٹ سے تعارف ہو چکا تھا، موبائل فون زندگی کا حصہ بن رہے تھے اور ٹیکنالوجی کو تعلیم، معلومات اور کام کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

فرق شاید ٹیکنالوجی کے وجود سے زیادہ اس کے ہمارے ذہن اور روزمرہ زندگی پر اثرانداز ہونے کے انداز کا ہے۔

آج معلومات کی رفتار بے مثال ہے۔

ایک نوجوان صرف اپنے گھر، اسکول یا محلے سے نہیں سیکھ رہا۔ اس کی تربیت میں اسکرین، سوشل میڈیا، انفلوئنسرز، شارٹ ویڈیوز، الگورتھمز اور دنیا بھر سے آنے والی لاتعداد آوازیں بھی شامل ہیں۔

اور ان آوازوں میں ایک آواز مسلسل یہ بھی کہتی ہے:

"تم جین زی ہو۔ تم مختلف ہو۔ تمہیں کسی کی بات ماننے کی ضرورت نہیں۔ تم جو چاہو کر سکتے ہو۔"

آزادی کا تصور یقیناً خوبصورت ہے۔

اپنی رائے رکھنا بھی ضروری ہے۔

سوال کرنا بھی ضروری ہے۔

اپنے خواب دیکھنا بھی ضروری ہے۔

مگر کیا آزادی کا مطلب ذمہ داری سے آزادی بھی ہے؟

کیا اپنی رائے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی رائے سننا ہی چھوڑ دیا جائے؟

کیا جدید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ والدین کی ہر نصیحت پرانی، استاد کی ہر بات فرسودہ اور ہر اصول "پرانے زمانے" کی نشانی قرار دے دیا جائے؟

اور اگر کسی غلط رویے کی نشاندہی کی جائے تو جواب ہو:

"آپ نہیں سمجھیں گے، ہم جین زی ہیں!"

یہاں مسئلہ نسل کا نہیں، لیبل کے غلط استعمال کا ہے۔

کیونکہ ایک لیبل انسان کو نہ اچھا بناتا ہے نہ برا۔

ں بے شمار ایسے نوجوان ہیں جو محنت کر رہے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اپنے والدین کا سہارا بن رہے ہیں، نئی مہارتیں سیکھ رہے ہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

لیکن دوسری طرف ایسے رویے بھی موجود ہیں جنہیں صرف "جین زی" کہہ کر نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

اگر کوئی نوجوان ہر ذمہ داری سے فرار اختیار کرے، ہر نصیحت کو اپنی آزادی پر حملہ سمجھے، ہر اختلاف کو بغاوت بنا دے یا اپنی غلطی کو ایک نسل کے نام کے پیچھے چھپا دے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔

یہ جین زی کا مسئلہ ہے یا تربیت کا؟

کیونکہ جب ہم ہر غلط رویے کو ایک نسل کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں تو ہم اصل سوال سے بچ نکلتے ہیں۔

والدین کہتے ہیں:

"آج کل کی نسل ہی ایسی ہے۔"

بچہ کہتا ہے:

"ہم جین زی ہیں ہی ایسے!"

اور درمیان میں تربیت خاموش کھڑی رہ جاتی ہے۔

شاید ہمیں یہ شور تھوڑا کم کرنا ہوگا۔

اپنے بچوں کو یہ بتانا ہوگا کہ تمہاری نسل تمہاری شناخت کا ایک حصہ ہو سکتی ہے، مگر تمہارا کردار تمہاری اصل شناخت ہے۔

تم جین زی ہو سکتے ہو، ملینیل ہو سکتے ہو، کسی بھی نسل سے تعلق رکھتے ہو، مگر تمہیں احترام پھر بھی سیکھنا ہوگا۔

ذمہ داری پھر بھی اٹھانی ہوگی۔

غلطی ہو تو اسے تسلیم کرنا ہوگا۔

والدین سے اختلاف ہو تو دلیل کے ساتھ بات کرنی ہوگی۔

اپنے خواب پورے کرنے ہوں تو محنت بھی کرنی ہوگی۔

ہمیں اپنے بچوں کو ماضی میں واپس نہیں لے جانا۔

ہمیں انہیں موبائل، کمپیوٹر یا انٹرنیٹ سے بھی دور نہیں کرنا۔

بلکہ ہمیں انہیں یہ سکھانا ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری سہولت ہے، ہماری تربیت کرنے والی واحد طاقت نہیں۔

آج ضرورت جین زی کے خلاف ایک اور شور مچانے کی نہیں بلکہ جین زی کے شور سے باہر نکل کر اپنے بچوں سے بات کرنے کی ہے۔

انہیں نسل کا نام بتانے سے زیادہ کردار کی اہمیت سمجھانے کی ہے۔

انہیں یہ بتانے کی ہے کہ دنیا بدل گئی ہے، اصولِ زندگی نہیں۔

ٹیکنالوجی نئی ہو سکتی ہے، مگر محنت کبھی پرانی نہیں ہوتی۔

آزادی کا تصور نیا ہو سکتا ہے، مگر احترام کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔

اور آخر میں شاید ہمیں اپنے بچوں سے صرف اتنا کہنا چاہیے:

"بیٹا! تم جین زی ہو، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

مگر یاد رکھو، تمہارا اصل تعارف تمہاری جین نہیں، تمہارا کردار ہے۔"

اور اگر آج ہم نے تربیت کی جگہ صرف لیبل دے دیے تو کل آنے والی نسل بھی شاید اپنے ہر سوال کا جواب یہی دے گی:

"ہم تو بس ایسے ہی ہیں… کیونکہ ہم اگلی جین ہیں!"

اور تب شاید شور جین زی کا نہیں ہوگا،

شور ہماری اپنی تربیت کی ناکامی کا ہوگا۔