اکتوبر کی آخری رات دنیا کے کئی ممالک میں ایک ایسا تہوار منایا جاتا ہے جسے ہیلووین کہا جاتا ہے اس رات گلیاں بازار تعلیمی ادارے تجارتی مراکز اور نجی عمارتیں خوفناک علامتوں سے سجائی جاتی ہیں کہیں انسانی کھوپڑیاں رکھی جاتی ہیں کہیں قبرستانوں کے مصنوعی مناظر بنائے جاتے ہیں کہیں چڑیلوں بھوتوں اور شیطانوں کے لباس پہنے لوگ دکھائی دیتے ہیں اور کہیں ایسے ماسک استعمال کیے جاتے ہیں جن کی شکلیں انسانی خوف اور موت کی علامت بن چکی ہیں بظاہر یہ سب تفریح کا ایک حصہ ہے لیکن جب ہم اس تہوار کے تاریخی پس منظر اور اس سے وابستہ بعض مذہبی تحریکوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک ایسا پہلو سامنے آتا ہے جس پر گفتگو کرنا ضروری ہے کیونکہ اس تہوار کو صرف بچوں کی مٹھائیوں اور خوفناک لباس تک محدود کرکے دیکھنا اس کی مکمل تصویر نہیں ہے
ہیلووین کی تاریخ کا تعلق قدیم یورپی تہذیبوں بالخصوص سیلٹک اقوام کے تہوار سامہین سے جوڑا جاتا ہے یہ تہوار موسم گرما کے اختتام اور سردیوں کے آغاز پر منایا جاتا تھا قدیم سیلٹک عقائد میں یہ تصور موجود تھا کہ اس مخصوص وقت میں زندہ انسانوں اور دوسری دنیا کے درمیان پردہ کمزور ہوجاتا ہے اور ارواح یا مافوق الفطرت مخلوقات انسانوں کی دنیا میں آسکتی ہیں اسی تصور کے تحت آگ کے بڑے الاؤ روشن کیے جاتے تھے مخصوص لباس پہنے جاتے تھے اور بعض روایات میں مستقبل کے بارے میں پیش گوئیوں اور دیگر مذہبی رسومات کا ذکر بھی ملتا ہے یہ بات تاریخی مطالعات میں موجود ہے اگرچہ قدیم سامہین کی تمام رسومات کے بارے میں مؤرخین کا اتفاق نہیں ہے
یہاں سے ہمیں اس تہوار کے ایک ایسے پہلو کی طرف بڑھنا ہوگا جسے عام طور پر تفریح کی چمک دمک میں چھپا دیا جاتا ہے اور وہ ہے اوکلٹ ازم یعنی مخفی علوم اور پراسرار روحانی قوتوں سے متعلق تحریکیں اوکلٹ ازم کوئی ایک تنظیم نہیں بلکہ مختلف نظریات اور طریقوں کا مجموعہ ہے جن میں جادو ٹونا ارواح سے رابطے کی کوششیں علم نجوم غیب دانی اور مافوق الفطرت قوتوں کے حصول کے تصورات شامل رہے ہیں تاریخ میں ایسی متعدد انجمنیں اور تحریکیں وجود میں آئیں جنہوں نے اپنے مخصوص علامات رسومات اور باطنی نظریات قائم کیے ان میں بعض کا تعلق شیطانیت سے بھی رہا ہے
انیسویں اور بیسویں صدی میں مغربی دنیا میں مختلف باطنی تحریکیں سامنے آئیں جنہوں نے قدیم جادوئی روایات کو نئے فلسفیانہ اور مذہبی انداز میں پیش کیا ان تحریکوں میں بعض نے شیطان کو ایک علامتی کردار سمجھا جبکہ بعض نے اسے اپنی مذہبی شناخت کا حصہ بنایا ان کے ہاں مخصوص رسومات علامتی لباس اور اجتماعی تقریبات کا تصور بھی موجود رہا یہ کہنا درست نہیں کہ ان تمام تحریکوں کے عقائد ایک جیسے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید شیطانیت محض افسانوں اور فلموں کی پیداوار نہیں بلکہ اس کی باقاعدہ تنظیمی اور تحریری تاریخ موجود ہے
اس کی ایک واضح مثال چرچ آف سیٹن ہے جس کی بنیاد 1966 میں اینٹن لاوے نے رکھی اس تنظیم نے اپنی مذہبی شناخت میں شیطان کا نام اختیار کیا اور اپنی تحریروں میں شیطانیت کے مخصوص فلسفے کو پیش کیا اس تنظیم کی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ہیلووین کے حوالے سے ایک تفصیلی وضاحت موجود ہے جس میں 31 اکتوبر کو شیطانیت کے پیروکاروں کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا گیا ہے اس کی وضاحت میں تاریک علامتوں خوفناک کرداروں اور انسان کی پوشیدہ خواہشات کے اظہار کا ذکر بھی ملتا ہے اس تنظیم کے مطابق ہیلووین کے موقع پر عام لوگ بھی مختصر وقت کے لیے اس تاریک جمالیات اور خوف کے ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں جسے وہ اپنی روزمرہ زندگی میں ایک مختلف انداز سے دیکھتے ہیں یہ محض کسی مذہبی مخالف کا الزام نہیں بلکہ خود اس تنظیم کی اپنی شائع کردہ تحریر ہے اسی طرح دی سیٹنک ٹیمپل نامی ایک دوسری تنظیم بھی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر 31 اکتوبر کو ہیلووین کے تہوار کے طور پر درج کرتی ہے اور اسے تاریکی کی جمالیات اور اپنی خواہشات کے اظہار سے جوڑتی ہے اس تنظیم کی اپنی وضاحت میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ شیطان کو ایک حقیقی مافوق الفطرت ہستی کے بجائے علامتی کردار کے طور پر دیکھتی ہے لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ایسی تنظیمیں اپنے مذہبی کیلنڈر میں اس تہوار کو شامل کرتی ہیں تو ایک مسلمان اس تعلق کو نظر انداز کرکے اسے صرف ایک عام کھیل کیسے سمجھ سکتا ہے۔
اب ذرا ان تنظیموں سے آگے بڑھتے ہیں جن کا ذکر عام تفریحی گفتگو میں کم ہوتا ہے آرڈر آف نائن اینگلز جسے ONA یا O9A کہا جاتا ہے برطانیہ میں 1970 کی دہائی میں سامنے آنے والی ایک خفیہ نوعیت کی شیطانی اور باطنی تحریک ہے اس تنظیم کے نظریات میں شیطانیت مخفی علوم اور مخصوص روحانی تصورات کا امتزاج پایا جاتا ہے اس کے متون میں ایسے نظریات بھی موجود ہیں جن میں انسانی قربانی اور مجرمانہ اعمال کی حمایت یا ان کا ذکر کیا گیا ہے اس موضوع پر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ تحقیقی کتاب Satanism A Reader میں ایک مکمل باب موجود ہے جس میں آرڈر آف نائن اینگلز کی تحریروں بلیک بک آف سیٹن اور بلیک ماس سے متعلق مواد کا علمی جائزہ لیا گیا ہے۔
یہاں ایک اور اہم بات سامنے آتی ہے کہ اس تحریک کی بعض تحریروں میں انسانی قتل اور قربانی جیسے انتہائی سنگین تصورات کا ذکر موجود ہے تاہم محققین کے درمیان یہ بحث بھی رہی ہے کہ ان ہدایات کو کس حد تک عملی طور پر لیا گیا اور کس حد تک یہ تنظیم کے نظریاتی یا اشتعال انگیز لٹریچر کا حصہ ہیں اس لیے ہر دعوے کو الگ شواہد کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے مگر اس تنظیم کا وجود اس کی تحریریں اور اس کے باطنی شیطانی نظریات کوئی فرضی داستان نہیں ہیں
اس نوعیت کی تحریکوں میں بلیک ماس کا تصور بھی ملتا ہے جسے تاریخی طور پر بعض شیطانی رسومات سے منسوب کیا جاتا رہا ہے اس میں مسیحی مذہبی علامات کی توہین یا ان کی الٹی علامتی تعبیر جیسے تصورات شامل ہوسکتے ہیں مختلف ادوار میں ایسی رسومات کے بارے میں تحریری بیانات اور بعض ریکارڈنگز بھی سامنے آئی ہیں یہاں بافومیٹ کا ذکر بھی اہم ہے ایک بکری کے سر اور انسانی جسم سے منسوب یہ علامتی تصور جدید اوکلٹ ثقافت اور بعض شیطانی تحریکوں میں استعمال ہوتا ہے اس کی تاریخ ہیلووین سے بہت پرانی اور الگ ہے اور مختلف ادوار میں اس کی تعبیرات تبدیل ہوتی رہی ہیں اسی طرح پینٹا گرام یعنی پانچ کونوں والا ستارہ بھی مختلف تہذیبوں میں مختلف معانی رکھتا ہے بعض اوکلٹ حلقوں میں اسے مخصوص باطنی معنی دیے گئے ہیں اب سوال یہ ہے کہ فری میسنری جیسی خفیہ یا نیم خفیہ انجمنوں کو اس سارے معاملے میں کہاں رکھا جائے دنیا میں فری میسنری کی تاریخ اس کے مخصوص درجات علامتی نظام اور نجی تقریبات موجود ہیں اور اس کے بعض تاریخی متون میں لوسیفر اور باطنی فلسفوں کے حوالے بھی ملتے ہیں اب اس پورے معاملے کو اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھیے اسلام میں شیطان کوئی فرضی کردار نہیں جسے انسان صرف خوفناک ماسک کی صورت میں دیکھے بلکہ قرآن مجید اسے ایک حقیقی مخلوق کے طور پر متعارف کرواتا ہے ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے تکبر کیا اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اس کے بعد اس نے انسان کو گمراہ کرنے کا عزم ظاہر کیا اور اللہ تعالیٰ سے مہلت طلب کی قرآن مجید کی سورۃ الاعراف میں اس واقعے کی تفصیل موجود ہے
اسلام کے مطابق ابلیس کی سرکشی کی بنیاد تکبر اور اللہ کے حکم کی نافرمانی تھی اس نے اپنی تخلیق کو آدم علیہ السلام کی تخلیق سے برتر سمجھا اور اسی غرور نے اسے مردود بنادیا اس واقعے میں انسان کے لیے بہت بڑی نصیحت موجود ہے کہ شیطان کا راستہ اللہ کی اطاعت سے انحراف کا راستہ ہے اور اس کی پوری کوشش انسان کو اس کے خالق سے دور کرنا ہے
یہاں اسلامی تصورِ توحید اپنی پوری حقانیت کے ساتھ سامنے آتا ہے قرآن مجید کی سورۃ الاخلاص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی اس کے برابر نہیں یہ عقیدہ صرف زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ نہیں بلکہ مسلمان کی زندگی کا بنیادی اصول ہے کائنات کا مالک اللہ ہے موت اور زندگی اسی کے اختیار میں ہیں غیب کا حقیقی علم اسی کے پاس ہے اور کوئی شیطان کوئی جن کوئی فرشتہ اور کوئی انسان اس کی خدائی میں شریک نہیں ہوسکتا اسلام انسان کو یہ بھی بتاتا ہے کہ شیطان انسان کو براہ راست اپنے سامنے آکر دعوت نہیں دیتا بلکہ وسوسوں کے ذریعے اس کے دل و دماغ میں برائی کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے کبھی گناہ کو تفریح کا نام دیا جاتا ہے کبھی بے حیائی کو آزادی کہا جاتا ہے کبھی جادو ٹونے کو روحانی تجربہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی غیر اللہ سے مدد مانگنے کو ایک معمولی رسم سمجھ لیا جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمان کو اپنے ایمان اور عقیدے کی حفاظت کرنا ہوتی ہے
قرآن مجید کی سورۃ البقرہ آیت 102 میں جادو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ شیاطین لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان جدائی تک پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے اسی آیت میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا اسلام جادو ٹونے کو کسی روحانی ترقی یا قابل فخر طاقت کا نام نہیں دیتا بلکہ اس سے سختی کے ساتھ روکتا ہے۔
سورۃ المائدہ کی آیت 90 میں شراب جوئے بتوں کے لیے قربانی اور قسمت معلوم کرنے کے طریقوں کو شیطانی اعمال قرار دے کر ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد والی آیت میں بتایا گیا ہے کہ شیطان ان اعمال کے ذریعے انسانوں کے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرنا اور انہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے دور کرنا چاہتا ہے اس قرآنی تعلیم کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو شراب نوشی جوا فحاشی جادو ٹونا اور غیر اللہ کی عبادت کسی بھی تہوار کے نام پر جائز نہیں ہوسکتی
یہاں ایک سوال ہمارے اپنے معاشرے سے بھی بنتا ہے کہ ہم آخر کس سمت جارہے ہیں پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے یہاں مساجد آباد ہیں اذانیں ہوتی ہیں لوگ نماز پڑھتے ہیں رمضان میں روزے رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتے ہیں لیکن اسی معاشرے میں جب تعلیمی ادارے تجارتی مراکز اور نجی تقریبات مغربی تہواروں کی ایسی علامتوں کو اپنانے لگیں جن کا تعلق موت جادو ٹونے اور شیطانی جمالیات سے رہا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے اپنی مذہبی شناخت کو صرف نام اور نعروں تک محدود کردیا ہے۔
بعض والدین اپنے بچوں کو خوش کرنے کے لیے انہیں خوفناک لباس پہناتے ہیں ان کے چہروں پر شیطانی کرداروں کے ماسک لگاتے ہیں اور پھر ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر فخر سے شائع کرتے ہیں شاید ان کے نزدیک یہ ایک معمولی کھیل ہے لیکن کیا انہوں نے کبھی اپنے بچوں کو بتایا کہ ان علامتوں کا تاریخی پس منظر کیا ہے کیا انہیں معلوم ہے کہ جدید شیطانیت کی بعض تنظیمیں اسی تاریخ اور انہی علامتوں کو اپنے تہواروں اور ثقافتی اظہار کا حصہ سمجھتی ہیں یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ہیلووین منانے والا ہر شخص شیطان کا عبادت گزار نہیں ہوتا اور نہ ہر کدو یا خوفناک ماسک کسی شیطانی عقیدے کی نمائندگی کرتا ہے لیکن جب کسی تہوار کی بعض سرگرمیاں ایسی تحریکوں کے اپنے تہواروں اور نظریات سے بھی جڑتی ہوں تو ایک مسلمان کو اس کی نوعیت پر غور کرنا چاہیے اور اپنی شرکت کے بارے میں دینی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور شعور دیا ہے تاکہ وہ حق اور باطل میں فرق کرسکے مسلمان کے لیے کسی شیطانی تنظیم کی موجودگی سے خوفزدہ ہونا ضروری نہیں کیونکہ اس کا ایمان اسے بتاتا ہے کہ شیطان اللہ کی مخلوق ہے اور اللہ کی مشیت کے تابع ہے لیکن اس کے عقائد اور اعمال کو معمولی سمجھنا بھی درست نہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ شیطان اس کا کھلا دشمن ہے لہٰذا اسے دشمن ہی سمجھو آخر میں بات صرف ایک تہوار کی نہیں بلکہ ایک نظریاتی انتخاب کی ہے ایک طرف توحید ہے جہاں انسان اپنی عبادت اپنی دعا اپنا خوف اور اپنی امید صرف اللہ کے لیے مخصوص کرتا ہے اور دوسری طرف وہ تمام باطل تصورات ہیں جو انسان کو غیب کے جھوٹے دعووں جادو ٹونے اور شیطانی رسومات کی طرف لے جاتے ہیں ایک مسلمان کے لیے ان دونوں راستوں میں کوئی ابہام نہیں ہوسکتا ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ شیطان کوئی فیشن نہیں کوئی دلکش کردار نہیں اور نہ ہی اس کی علامتیں محض سجاوٹ کا سامان ہیں ہمیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ اصل طاقت اللہ کی ہے اصل پناہ اللہ کی ہے اور حقیقی کامیابی اسی کی اطاعت میں ہے جس معاشرے کے بچے اپنے خالق کی وحدانیت سے واقف ہوں گے وہ کسی تاریک علامت سے مرعوب نہیں ہوں گے اور جس معاشرے کے والدین اپنے عقیدے کی بنیادوں سے غافل ہوجائیں گے وہاں دوسروں کی ہر روایت آہستہ آہستہ ثقافت کے نام پر جگہ بناتی چلی جائے گی ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کس راستے پر لے کر جانا چاہتے ہیں شیطان کے بہکاوے کے راستے پر یا اللہ کی ہدایت اور توحید کی روشنی میں۔





