گونج ساری زندگی سنائی دیتی ہے،تحریر:رفعت اکرام
نقطہ نظر
دل ٹوٹنا ایک ایسا زخم ہے جو نظر نہیں آتا۔ ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا۔ دوا اس پر اثر نہیں کرتی۔ یہ زخم اندر ہی اندر انسان کو کھا جاتا ہے۔ جب دل ٹوٹتا ہے تو انسان باہر سے ویسا ہی نظر آتا ہے۔ وہ چلتا ہے، وہ بولتا ہے، وہ ہنستا ہے، وہ کام کرتا ہے۔ لیکن اندر سے وہ مر چکا ہوتا ہے۔ اس کے اندر ایک سناٹا ہوتا ہے۔ ایک خاموشی ہوتی ہے۔ ایک ویرانی ہوتی ہے۔
دل ٹوٹنے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ کبھی محبت میں دل ٹوٹتا ہے۔ کبھی دوستی میں دل ٹوٹتا ہے۔ کبھی اپنوں کے رویے سے دل ٹوٹتا ہے۔ کبھی خوابوں کے ٹوٹنے سے دل ٹوٹتا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب دل کسی اپنے ہاتھوں ٹوٹتا ہے۔ جس پر سب سے زیادہ بھروسہ ہو، جب وہی بھروسہ توڑ دے تو دل ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔
محبت میں دل ٹوٹنا سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جب تم کسی کو اپنی جان سے زیادہ چاہو، اس کے لیے اپنی دنیا چھوڑ دو، اس کے خوابوں کو اپنے خواب بنا لو، اس کی خوشی کے لیے اپنی خوشی قربان کر دو، اور پھر وہی شخص تمہیں چھوڑ کر چلا جائے، تو دل پر جو گزرتی ہے وہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔ انسان سوچتا ہے کہ اس نے کیا غلطی کی۔ اس میں کیا کمی تھی۔ وہ خود کو کوستا ہے۔ وہ خود کو سزا دیتا ہے۔ وہ ساری رات جاگتا ہے۔ وہ اپنے آنسوؤں کو چھپا کر روتا ہے۔
دل ٹوٹنے کے بعد انسان بدل جاتا ہے۔ وہ پہلے جیسا نہیں رہتا۔ وہ ہنسنا بھول جاتا ہے۔ وہ بھروسہ کرنا بھول جاتا ہے۔ وہ محبت کرنا بھول جاتا ہے۔ اسے ہر شخص دھوکے باز لگتا ہے۔ اسے ہر رشتہ جھوٹا لگتا ہے۔ وہ تنہا رہنا پسند کرنے لگتا ہے۔ وہ شور سے دور بھاگتا ہے۔ وہ راتوں کو جاگتا ہے۔ وہ پرانی باتوں کو یاد کر کے روتا ہے۔
کچھ لوگ دل ٹوٹنے کے بعد بہت مضبوط ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی اس تکلیف کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں۔ وہ دن رات محنت کرتے ہیں۔ وہ خود کو اتنا مصروف کر لیتے ہیں کہ انہیں اس تکلیف کو یاد کرنے کا وقت ہی نہ ملے۔ وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وہ دنیا کو دکھا دیتے ہیں کہ وہ اس شخص کے بغیر بھی جی سکتے ہیں۔ ان کی کامیابی ان کے ٹوٹے ہوئے دل کا جواب ہوتی ہے۔
کچھ لوگ دل ٹوٹنے کے بعد ٹوٹ ہی جاتے ہیں۔ وہ خود کو تباہ کر لیتے ہیں۔ وہ زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر چیز سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو تکلیف دیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کی زندگی ختم ہو گئی۔ لیکن یہ سوچ غلط ہے۔ دل ٹوٹنا زندگی کا خاتمہ نہیں، ایک نئی زندگی کی شروعات ہے۔
دل جب ٹوٹتا ہے تو اللہ بہت قریب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ٹوٹا ہوا دل اللہ کو بہت پسند ہے۔ ٹوٹے ہوئے دل سے نکلی ہوئی دعا سیدھی عرش تک جاتی ہے۔ اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتا ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو سکون دیتا ہے۔ اس لیے جب دل ٹوٹے تو اللہ کے پاس جاؤ۔ اس کے سامنے روؤ۔ اس سے باتیں کرو۔ وہ تمہاری سنے گا۔ وہ تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔
وقت دل کے زخم کو بھر دیتا ہے۔ آج جو زخم تمہیں ناسور لگ رہا ہے، کل وہ صرف ایک نشان بن جائے گا۔ آج جس کے لیے تم رو رہے ہو، کل اس کا نام بھی یاد نہیں رہے گا۔ وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے۔ بس صبر کرنا پڑتا ہے۔ صبر بہت مشکل ہے۔ لیکن صبر کا پھل بہت میٹھا ہے۔
دل ٹوٹنے کے بعد کسی نئے شخص پر جلدی بھروسہ مت کرو۔ اپنے دل کو کچھ وقت دو۔ اسے ٹھیک ہونے دو۔ اسے سمجھنے دو کہ کیا ہوا۔ جب دل پوری طرح ٹھیک ہو جائے، تب کسی نئے رشتے کے بارے میں سوچنا۔ ورنہ تم ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ کسی اور کو بھی تکلیف دو گے۔
یاد رکھو، دل ٹوٹنا کوئی گناہ نہیں۔ دل ٹوٹنا کوئی کمزوری نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تم نے سچی محبت کی تھی۔ تم نے دل سے کسی کو چاہا تھا۔ تم مخلص تھے۔ تمہاری محبت سچی تھی۔ سامنے والے نے تمہاری قدر نہیں کی، یہ اس کی بدقسمتی ہے، تمہاری نہیں۔ تمہاری محبت ضائع نہیں گئی۔ اللہ اس کا اجر تمہیں ضرور دے گا۔
اگر آج تمہارا دل ٹوٹا ہوا ہے تو رو لو۔ جی بھر کر رو لو۔ اپنے آنسوؤں کو مت روکو۔ رونا دل کو ہلکا کرتا ہے۔ رونے کے بعد دل کو تھوڑا سکون ملتا ہے۔ اور پھر اٹھو۔ اپنے آنسو پونچھو۔ اور نئی زندگی شروع کرو۔ کیونکہ تمہارا ٹوٹا ہوا دل ابھی بھی دھڑک رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ابھی تمہاری کہانی ختم نہیں ہوئی۔ ابھی بہت کچھ باقی ہے۔




