انسان کی سب سے طویل مسافت دل سے دماغ تک،تحریر: سائرہ علی
نقطہ نظر
بعض فاصلے قدموں سے طے نہیں ہوتے، انہیں شعور، احساس، تجربے اور خود شناسی کے چراغوں کی روشنی میں عبور کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی زندگی عجیب تضادات کا مجموعہ ہے۔ وہ سمندروں کی گہرائی ناپ لیتا ہے، پہاڑوں کی بلندیاں سر کر لیتا ہے، زمین سے آسمان تک کا سفر طے کر لیتا ہے، ستاروں کی گردش کا حساب لگا لیتا ہے اور کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جب بات اپنے اندر اترنے، اپنے دل کی آواز سننے اور اپنے دماغ کو احساس کی زبان سمجھانے کی آتی ہے تو وہ اکثر عمر بھر مسافر ہی رہتا ہے۔ شاید اسی لیے یہ بات بڑی گہری معنویت رکھتی ہے کہ انسان کی سب سے طویل مسافت اپنے دل سے دماغ تک ہے۔ یہ مسافت میلوں، راستوں اور منزلوں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس کا تعلق انسان کے اندر موجود دو عظیم قوتوں سے ہے۔ ایک دل، جو محسوس کرتا ہے، محبت کرتا ہے، درد سہتا ہے، امید باندھتا ہے اور خواب دیکھتا ہے۔ دوسرا دماغ، جو سوچتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، دلیل تلاش کرتا ہے، نتائج اخذ کرتا ہے اور زندگی کے فیصلے کرتا ہے۔ انسان کی اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے جب ان دونوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
دل اکثر وہ چاہتا ہے جو دماغ کے نزدیک ممکن نہیں ہوتا اور دماغ اکثر وہ فیصلہ کرتا ہے جسے قبول کرنے کے لیے دل آمادہ نہیں ہوتا۔ دل کسی کے خلوص پر یقین کرنا چاہتا ہے، جبکہ دماغ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر احتیاط کا مشورہ دیتا ہے۔ دل کسی بچھڑے ہوئے شخص کی واپسی کی امید لگائے بیٹھا ہوتا ہے، جبکہ دماغ جانتا ہے کہ بعض راستے دوبارہ نہیں کھلتے۔ دل معاف کرنے پر آمادہ ہوتا ہے، مگر دماغ اسے یاد دلاتا ہے کہ معافی اور دوبارہ اعتماد کرنا دو الگ معاملات ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے شعور کا امتحان ہوتا ہے۔ زندگی کا حسن صرف محسوس کرنے میں نہیں، محسوسات کو سمجھنے میں بھی پوشیدہ ہے۔ محض جذبات انسان کو کمزور فیصلوں تک لے جا سکتے ہیں اور محض عقل اسے ایک ایسا شخص بنا سکتی ہے جو ہر چیز کا تجزیہ تو کرتا ہے مگر کسی کے درد کو محسوس نہیں کر پاتا۔ جذبات کے بغیر عقل بے روح ہو جاتی ہے اور عقل کے بغیر جذبات بے سمت۔ ایک متوازن انسان وہی ہے جو دل کی آواز کو نظرانداز نہ کرے، لیکن ہر آواز کو فیصلہ بھی نہ بنائے۔جو دماغ کی دلیل کو اہمیت دے، لیکن دلیل کے نام پر انسانیت کو فراموش نہ کرے۔
ہماری زندگی کے بیشتر المیے دراصل اسی عدم توازن سے جنم لیتے ہیں۔ کبھی ہم غصے میں وہ الفاظ کہہ دیتے ہیں جن کی معافی برسوں مانگتے رہتے ہیں۔ کبھی محبت میں ایسے فیصلے کر بیٹھتے ہیں جن کی قیمت پوری زندگی ادا کرنا پڑتی ہے۔ کبھی انا کی تسکین کے لیے ایسے رشتے کھو دیتے ہیں جن کی اہمیت کا احساس ان کے بچھڑ جانے کے بعد ہوتا ہے۔ کبھی کسی کی خاموشی کو نفرت سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ شخص اپنے اندر کسی ایسی جنگ میں مصروف ہوتا ہے جس کا ہمیں علم ہی نہیں ہوتا۔
انسان کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے رویوں کا فیصلہ تو بہت جلد کر لیتا ہے، مگر اپنے رویوں کا احتساب کرنے میں برسوں لگا دیتا ہے۔ اسے دوسروں کی غلطیاں صاف دکھائی دیتی ہیں، لیکن اپنی کوتاہیوں پر اکثر مصلحت، مجبوری اور حالات کا پردہ ڈال دیتےہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری خاموشی کو سمجھیں، ہمارے لہجے کی تلخی کے پیچھے چھپا درد محسوس کریں اور ہماری غلطیوں کو ہماری کمزوری سمجھ کر معاف کر دیں، مگر جب کوئی دوسرا یہی توقع رکھتا ہے تو ہم اسے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے لگتے ہیں۔ یہاں بھی دل اور دماغ کے درمیان ایک طویل فاصلہ حائل ہوتا ہے۔ دل اپنے لیے رعایت چاہتا ہے اور دماغ
دوسروں کے لیے اصول وضع کرنے لگتا ہے۔ انسان جب تک اپنے لیے وہی معیار مقرر نہیں کرتا جو دوسروں سے توقع کرتا ہے، اس وقت تک اس کی شخصیت میں حقیقی پختگی پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس مسافت کا ایک اہم مرحلہ خود شناسی ہے۔ خود شناسی کا مطلب صرف اپنی خوبیوں سے واقف ہونا نہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہے۔ یہ مان لینا کہ ہم ہر بار درست نہیں ہوتے، ہماری رائے حتمی نہیں ہوتی، ہمارے فیصلے غلط ہو سکتے ہیں اور ہمارے علم کی بھی ایک حد ہے، دراصل ذہنی بلوغت کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو شخص اپنی غلطی تسلیم کرنے سے نہیں گھبراتا، وہ سیکھنے کے دروازے کبھی بند نہیں کرتا۔ دانش مندی یہ نہیں کہ انسان کبھی غلطی نہ کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی کو اپنی شناخت نہ بننے دے۔ وہ اس سے سبق حاصل کرے، اپنے رویے میں اصلاح لائے اور دوبارہ اسی گڑھے میں گرنے سے بچنے کی کوشش کرے۔ تجربہ بذاتِ خود انسان کو دانا نہیں بناتا۔ تجربے سے حاصل ہونے والی بصیرت اسے دانا بناتی ہے۔
اسی طرح محبت بھی دل سے دماغ تک کے سفر کا ایک اہم امتحان ہے۔ محبت کا مطلب کسی کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا نہیں، بلکہ اس کی انفرادیت، آزادی اور احساسات کا احترام کرنا ہے۔ محبت میں قربانی ضرور ہوتی ہے، لیکن اپنی عزتِ نفس کی مکمل نفی قربانی نہیں کہلاتی۔ کسی کے لیے آسانیاں پیدا کرنا خوب صورت عمل ہے، مگر اپنی ذات کو مسلسل اذیت میں مبتلا رکھنا دانش مندی نہیں۔ حقیقی محبت انسان کو بہتر بناتی ہے، اس کے اندر وسعت پیدا کرتی ہے اور اسے دوسروں کے دکھ سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔
رشتوں کی دنیا میں بھی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ دل کی نرمی اور دماغ کی پختگی ساتھ ساتھ چلیں۔ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، ہر خاموشی بے رخی نہیں ہوتی اور ہر تنقید توہین نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک تلخ جملے کے پیچھے خیرخواہی ہوتی ہے اور بعض اوقات میٹھی باتوں کے پیچھے مفاد پوشیدہ ہوتا ہے۔ انسان کو الفاظ کے ساتھ نیت، رویے کے ساتھ کردار اور دعووں کے ساتھ عمل بھی دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ کردار وہ سچائی ہے جسے الفاظ کا سہارا درکار نہیں ہوتا۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں۔ وہاں کامیابی کو اکثر دولت عہدے، شہرت اور اختیار سے ناپا جاتا ہے۔ لیکن کیا واقعی کامیاب وہی شخص ہے جس کے پاس آسائشیں تو بہت ہوں مگر سکون نہ ہو؟ جس کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہو مگر کوئی اس کے دل کا حال جاننے والا نہ ہو؟ جس کی بات تو سب سنیں مگر جسے کسی کی بات سننے کا حوصلہ نہ ہو؟ بلاشبہ مادی ترقی زندگی کی ضرورت ہے، لیکن انسانی عظمت کا پیمانہ صرف مادی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اختیار ملنے پر انصاف کرے، اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھے، طاقت کے باوجود عاجزی نہ چھوڑے، دولت کے باوجود سخاوت کرے اور علم کے باوجود اپنی کم علمی کا احساس زندہ رکھے۔ وہ کسی کمزور کو حقیر نہ سمجھے، کسی مجبور کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائے اور کسی کی خاموشی کو اس کی بے بسی نہ سمجھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقل محض ذہانت نہیں رہتی بلکہ حکمت بن جاتی ہے اور احساس محض جذبہ نہیں رہتا بلکہ انسانیت میں ڈھل جاتا ہے۔
اس طویل مسافت میں خاموشی کا بھی ایک خاص کردار ہے۔ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر بحث جیتنا کامیابی نہیں اور ہر الزام کا دفاع کرنا فرض نہیں۔ بعض اوقات خاموش رہ جانا اپنی عزت بچانے کا بہترین طریقہ ہوتا ہے لیکن یہ خاموشی بزدلی نہیں بلکہ شعوری انتخاب ہونی چاہیے۔ اسی طرح بعض اوقات حق کے لیے بولنا ضروری ہوتا ہے، خواہ اس کی قیمت مخالفت کی صورت میں ادا کرنا پڑے۔ دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان جان سکے کہ کہاں خاموشی حکمت ہے اور کہاں خاموشی ناانصافی میں شرکت بن جاتی ہے۔ انسان جب اپنی زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے تو اسے آہستہ آہستہ احساس ہوتا ہے کہ ہر خواہش پوری ہونا ضروری نہیں۔ ہر شخص کا ساتھ عمر بھر نہیں رہتا، ہر تعلق اپنی منزل تک نہیں پہنچتا اور ہر سوال کا جواب فوری طور پر نہیں ملتا۔ بعض جدائیاں انسان کو اپنی ذات سے متعارف کرواتی ہیں۔ بعض ناکامیاں اس کے اندر چھپی صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہیں اور بعض محرومیاں اسے نعمتوں کی قدر کرنا سکھاتی ہیں۔ یہی زندگی کا فلسفہ ہے کہ انسان ہر واقعے کو اپنی شکست نہ سمجھے۔ بعض اوقات جو چیز ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہوتی، وہی ہمارے حق میں بہتر ثابت ہوتی ہے۔ البتہ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے وقت، صبر اور وسیع النظری درکار ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دل اور دماغ کے درمیان فاصلہ صرف سوچنے سے کم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کردار میں تبدیلی ضروری ہے۔ اگر ہم دوسروں سے احترام چاہتے ہیں تو ہمیں احترام دینا ہوگا۔ اگر ہم سچائی کے خواہش مند ہیں تو ہمیں اپنے مفادات کے خلاف بھی سچ بولنا ہوگا۔ اگر ہم معافی چاہتے ہیں تو دوسروں کو معاف کرنے کا ظرف پیدا کرنا ہوگا۔ اگر ہم معاشرے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں تو اس تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔ زندگی کا سب سے بڑا انقلاب کسی حکومت، ادارے یا نظام کی تبدیلی سے پہلے انسان کے اندر برپا ہوتا ہے۔ جب انسان اپنی انا پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے، اپنے غصے کو دلیل کے تابع کر لیتا ہے، اپنی خواہشات کو اخلاقی حدود میں رکھتا ہے اور اپنے علم کو عاجزی سے آراستہ کرتا ہے تو اس کی شخصیت میں ایک ایسی روشنی پیدا ہوتی ہے جو دوسروں کے لیے بھی راستہ متعین کرتی ہے۔ بالآخر انسان کی اصل منزل نہ دل ہے اور نہ دماغ، بلکہ ان دونوں کے درمیان وہ حسین توازن ہے جہاں احساس کو شعور ملتا ہے اور عقل کو انسانیت۔ جہاں محبت میں بصیرت، فیصلوں میں انصاف، اختلاف میں تہذیب، کامیابی میں انکساری اور ناکامی میں حوصلہ شامل ہوتا ہے۔ شاید انسان کی سب سے طویل مسافت اپنے دل سے دماغ تک ہی ہے، کیونکہ اس سفر میں اسے کسی دوسرے کو شکست نہیں دینی ہوتی، بلکہ اپنے اندر موجود تعصب، انا، خوف، لالچ، جلد بازی اور خود فریبی پر قابو پانا ہوتا ہے۔ اسے یہ سیکھنا ہوتا ہے کہ کب دل کی سننی ہے، کب دماغ کی ماننی ہے اور کب دونوں کو اخلاق، ضمیر اور حکمت کے تابع کرنا ہے۔ زندگی کی اصل دانائی یہ نہیں کہ انسان اپنے دل کو خاموش کر دے یا دماغ کو حاکم بنا لے، بلکہ یہ ہے کہ دونوں کے درمیان ایسی ہم آہنگی پیدا کرے جہاں فیصلے عقل مندی سے ہوں، رویے انسانیت سے مزین ہوں اور دل میں دوسروں کے لیے گنجائش باقی رہے کیونکہ آخرکار انسان کی پہچان اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس نے دنیا میں کتنی مسافت طے کی، کتنی بلندیاں حاصل کیں یا کتنے لوگوں کو اپنے پیچھے چھوڑا۔ اس کی اصل پہچان یہ ہے کہ اس طویل سفر کے بعد وہ اندر سے کتنا انسان بن سکا اور شاید یہی وہ منزل ہے جہاں پہنچ کر انسان کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ دنیا فتح کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر خود کو فتح کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
مزید پڑھیں




